التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

۱ – جزء: عمامہ کے فضائل

اس کے تحت عمامہ کےدس غیر معتبر فضائل کی تفصیل ہے

[حضرت جونپوری l کی مفصل عبارت نقل کرنے سے پہلے ان تمام احادیث کا خلاصہ وحکم حضرت جونپوریl کے الفاظ سے ملاحظہ ہو]

1 - پگڑیاں عرب کے تاج ہیں، اور احتباء (یعنی پیٹھ اور پنڈلیوں کو کسی کپڑے سے باندھ کر بیٹھنا)ان کی دیوار ہے، اور مومن کا مسجد میں بیٹھنا رِباط (اسلامی سرحدوں کی حفاظت)ہے۔

یہ واہی،شدید ضعیف ہے،ممکن ہے کہ یہ حضرت علی r کا قول ہو جسے کسی راوی نے بناء بر وہم آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کردیا ہو،نیز بیہقی l نے زہری l کے قول کے طور پر بھی اس کی تخریج کی ہے۔

2 - پگڑیاں عرب کے تاج ہیں، سو جب وہ پگڑیاں اتار دیں گے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔

واہی،شدید ضعیف۔

3 - پگڑیاں مومن کا وقار ہیں، اور عربوں کی عزت ہیں، جب عرب اپنی پگڑیاں اتار دیں گے تو اپنی عزت کھو دیں گے۔

میں اس کی سند سے واقف نہیں ہوں، لیکن حافظ سخاوی l نےاس کے واہی ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے۔

4 - ٹوپی پر پگڑی باندھنا ہمارے اور مشرکین کے مابین فرق کی چیز ہے،سر پر باندھنے والے ہر پیچ کے بدلے روز ِقیامت ایک نور دیا جائے گا۔

یہ حدیث ثابت نہیں[یعنی اس کا دوسرا حصہ]۔

5 - عمامہ کے ساتھ ایک نفل یا فرض نماز بلاعمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ، بلاعمامہ کے ستر جمعوں سے افضل ہے۔

باطل۔

6 - عمامہ کے ساتھ ایک نماز بلاعمامہ کی ستر نمازوں سے افضل ہے۔

یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ میرے علم میں نہیں،بعض محققین نےاسے بقول امام احمد بن حنبل l موضوع کہاہے۔

7 - انگوٹھی کے ساتھ ایک نماز بلاانگوٹھی کی ستر نمازوں کے برابر ہے۔

حافظ ابن حجرl، حافظ سخاویl، علامہ مَنُوْفِی l، ملا علی قاری l نے اسے موضوع کہا ہے۔

8 - عمامہ میں ایک نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔

حافظ سخاوی l، علامہ مَنُوْفِی اور ملاعلی قاری l نے اسے باطل، موضوع کہا ہے۔

9 - عمامہ کے ساتھ کی دو رکعتیں،بلا عمامہ کی ستر رکعتوں سے افضل ہے۔

حافظ سخاوی l نےاس کے واہی ہونے کی جانب اشار کیا ہے۔

0 - بے شک اللہ اور اس کے فرشتے جمعہ کے دن پگڑیوں والوں پر سلام بھیجتے ہیں۔

واہی،شدید ضعیف۔

تفصیل

[حضرت جونپوری lکی عبارت سے سابقہ ذکر کردہ خلاصہ کی تفصیل ملاحظہ ہو]

’’سوال: ایک ضروری امر دریافت طلب ہے، یہاں ایک صاحب جو ہمارے مدرسہ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں امام صاحب کو بلاعمامہ نماز پڑھاتے دیکھ کر خفا ہوگئے اور فرمایا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اس نماز جمعہ کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے جو عمامہ کے ساتھ پڑھی جائے بغیر عمامہ والی نمازِجمعہ سے۔

جامع مسجد کے امام صاحب مفتی ہیں،دار العلوم سے فراغت کے بعد فتوی کا نصاب بھی پورا کرچکے ہیں، ان کا خیال ہے کہ ستر گنا ثواب والی حدیث بے اصل ہے، ایک دوسرے عالم جو بڑی صلاحیت والے حضرت شاہ صاحب کشمیریl کے شاگرد اور مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی کے دوستوں میں ہیں ان کی رائے ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

ملاعلی قاری l نے ’’مرقاۃ‘‘ (ص: ۲۵۰،ج: ۸) میں ان روایات کا ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں:

×وروى الديلمي والقُضَاعي في مسند الفردوس عن علي كرم الله وجهه مرفوعا: العمائم تِيْجَان العرب، والاحتباء حيطانها، وجلوس المؤمن في المسجد رباط. وروى الديلمي عن ابن عباس  رضي الله تعالى عنه بلفظ: العمائم تِيْجَان العرب، فإذا وضعوا العمائم وضعوا عزهم. وروى البَاوَرْدِي عن ركانة بلفظ: العمامة على القلنسوة فصل ما بيننا وبين المشركين، يعطی يوم القيامة بكل كَوْرَة يُدَوِّرُها على رأسه نورا. وروى ابن عساكر عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه مرفوعا: صلوة تطوع أو فريضة بعمامة تعدل خمسا وعشرين صلوة بلا عمامة، وجمعة بعمامة تعدل سبعين بلا عمامة÷.

[دیلمی l نے ’’مسند الفردوس‘‘ میں اسی طرح قُضَاعی l نے حضرت علی r سے مرفوعاً نقل کیا ہے: پگڑیاں عربوں کا تاج ہیں،احتباء (یعنی پیٹھ اور پنڈلیوں کو کسی کپڑے سے باندھ کر بیٹھنا) ان کی دیوار ہے، مومن کا مسجد میں بیٹھنا رِباط(یعنی اسلامی سرحدوں کی حفاظت) ہے۔ اور دیلمی l نے ابن عباس r سے ان لفظوں سے روایت نقل کی ہے: پگڑیاں عربوں کا تاج ہیں، سو جب عرب اپنی پگڑیاں اُتار دیں گے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔ بَاوَرْدِی l نے رکانہ r سے ان الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے: ہمارے اور مشرکوں کے مابین فرق ٹوپی پر پگڑی پہننا ہے، پگڑی سر پر باندھنے والے کو روز قیامت ہر پیچ کے بدلے ایک نور سے نوازا جائے گا۔ اور ابن عساکر l نے ابن عمر r سے مرفوعاً تخریج کیا ہے: نفل یا فرض نماز جو عمامہ کے ساتھ ہو وہ بلاعمامہ پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور عمامہ کے ساتھ جمعہ ادا کرنا بلاعمامہ ستر جمعوں کے برابر ہے]

اسی طرح ’’مرقاۃ‘‘ (ص: ۲۳۹،ج: ۲) میں ہے:

×وروي أنه عليه الصلوة والسلام قال: صلوة بعمامة أفضل من سبعين صلوة بغير عمامة. كذا نقله ابن حجر عن ابن الرِفْعَة، قال ابن الدَيْبَع: صلوة بخاتم تعدل سبعين بغير خاتم موضوع كما قال شيخنا عن شيخه، وكذا ما أورده الديلمي من حديث عن ابن عمر مرفوعا: صلوة بعمامة تعدل خمسا وعشرين صلوة، وجمعة بعمامة تعدل سبعين جمعة. ومن حديث انس  رضي الله تعالى عنه مرفوعا: الصلوة في العمامة بعشرة آلاف حسنة. قال المَنُوْفِي: فذلك كله باطل، نقله الخطابي، والله أعلم بالصواب÷.

 [آپ e سے منقول ہے: عمامہ کے ساتھ ایک نماز بلاعمامہ کی ستر نمازوں سے افضل ہے، ابن رِفْعَہ l سے ابن حجر l نے اسی طرح نقل کیا ہے، ابن دَیْبَع l فرماتے ہیں: انگوٹھی کے ساتھ ایک نماز بلا انگوٹھی کے ستر نمازوں کے برابر ہے۔ یہ روایت موضوع ہے، جیسا کہ ہمارے شیخ (یعنی حافظ سخاوی l) نے اپنے شیخ (یعنی حافظ ابن حجر l)سے اسی طرح نقل کیا ہے، اور اسی طرح یہ روایت بھی موضوع ہے جسے دیلمی l نے ابن عمر r سے مرفوعاً نقل کیا ہے:عمامہ کے ساتھ کی ایک نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ ستر جمعوں کے برابر ہے۔ انس r کی ایک مرفوع حدیث میں ہے: عمامہ کے ساتھ نماز پڑھنے پر دس ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔ مَنُوْفِی l فرماتے ہیں: یہ سب روایات باطل ہیں، خطابی l نے اسے نقل کیا ہے، واللہ اعلم بالصواب]

’’امداد الفتاویٰ‘‘ مطبوعہ تالیفات اولیاء دیوبند میں (ص: ۳۹۱ تا ۳۹۴) تک عمامہ کی بحث ہے، ’’امداد‘‘ کی عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملاعلی قاری l نے جو روایات ذکر فرمائی ہیں ان سے ستر گنا ثواب ثابت ہوتا ہے، اوریہ صحیح ہے، اور اپنے بہت سے اکابر علماء کو جو عمل بالسنّۃ کے شائق ہیں بغیر عمامہ کے جمعہ اور دیگر نماز میں پڑھتے دیکھا ہے۔

آپ کے نزدیک فریقین میں سے کس کی بات راجح ہے؟ ازروئے جرح، احادیثِ مذکورہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ ’’مسند الفردوس‘‘ محققین محدثین کے کس درجہ کی کتاب ہے؟

 علامہ عینی l،حافظ ابن حجر l، قَسْطَلاَّنی l،شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب l کے کلام میں عمامہ کی بحث ہو تو نشاندہی فرمائیں، میرے پاس ’’درمختار‘‘ ’’شامی‘‘ ’’زیلعی علی الکنز‘‘ ’’طحطاوی علی الدر‘‘ میں عمامہ کا مستحباتِ صلوۃ میں ہونا نہیں ملا۔

جواب:  تمہارے سوالات، تجزیہ سے چار امور پر مشتمل ہیں:

1 احادیث عمامہ کی تحقیق

2 فریقین کی رائے میں موازنہ

3 ’’مسندالفردوس‘‘  کا مقام

4 بحث عمامہ کہاں ملے گی؟

 ان میں سے جن امور کا احقر کو علم ہے وہ عرض کرتا ہوں۔

1 حدیثِ اول

2 حديث دوم

3 حديث سوم

4 حديث چہارم

5حديث پنجم

6 حدیث ششم

7 حدیث ہفتم

8 حدیث ہشتم

9 حدیث نہم

0 حدیث دہم

حوالہ جات

[1] حافظ ابن حجرہیتمیl نے اس روایت کےضعفِ شدید کی طرف اشارہ کیا ہے (دیکھئے: سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ:۳/۳۶۲،رقم:۱۲۱۷)، اور علامہ محمدبن جعفر الکتانی l ’’الدِعَامة في أحكام العِمَامة‘‘ (ص:۷) میں فرماتے ہیں کہ اس کی سند واہی ہے۔

 واضح رہے کہ مذکورہ روایت کا پہلا ٹکڑا ’’العمامة على القلنسوة‘‘قابل تحمل سندسے منقول ہے،جسے امام ابو داؤدl اور امام ترمذیl نے نقل کیا ہے،روایت ملاحظہ ہو:

×حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن ربيعة، عن أبي الحسن العسقلاني، عن أبي جعفر بن محمد بن ركانة،عن أبيه: أن ركانة صارع النبي صلى الله عليه و سلم فصرعه النبي صلى الله عليه و سلم . قال ركانة: سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: إن فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس. قال أبو عيسى: هذا حديث حسن غريب وإسناده ليس بالقائم ولا نعرف أبا الحسن العسقلاني ولا ابن ركانة÷. (سنن الترمذی:۴/ ۲۷۴، رقم:۱۷۸۴) سنن ترمذی کے بعض نسخوں میں لفظ ’’حسن‘‘نہیں ہے،نیز امام ابوداؤد l نے تخریج حدیث کے بعد اس پر سکوت فرمایاہے (سنن ابی داود:۴/ ۲۲۱،رقم:۴۰۷۸)۔

الحاصل کہ روایت کا دوسرا ٹکڑا (يعطی يوم القيامة بكل كَوْرَة يُدَوِّرُها على رأسه نورا) سنداً شدید ضعیف ہے۔

[2] حافظ ابن حجرہیتمی مکیl نے ’’الفتاوى الفقہيۃ الكبرى‘‘ (۱/ ۱۷۰)میں اسے باطل، موضوع کہاہے،علامہ محمدالحوت l ’’اسنى المطالب‘‘(ص:۱۸۴،رقم:۸۱۸)میں فرماتے ہیں کہ یہ ثابت نہیں ہے،علامہ قاؤقجیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص: ۱۰۸، رقم:۲۹۶)میں اسےبےاصل اور علامہ محمد امیرمالکی l نے ’’النخبۃ البہيۃ‘‘ (رقم:۱۶۶)میں اسے من گھڑت کہا ہے، علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۳۵) میں حافظ سخاوی l کے کلام پراورعلامہ پٹنی l نے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۵۵)میں ’’ذیل اللآلی‘‘ میں موجود حافظ سیوطی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

[3] عنقریب امام احمد بن حنبل l کا قول آ رہا ہے کہ یہ موضوع ہے۔

[4] حافظ ابن حجر l کے قول پرعلامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۴۲) میں،علامہ احمد بن عبدالکریم عامری l نے ’’الجد الحثيث‘‘ (ص:۱۲۶،رقم:۲۳۰)میں،علامہ محمد الحوت l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (ص:۱۸۴، رقم: ۸۱۸) میں،علامہ قاؤقجی lنے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص:۱۰۸، رقم:۲۹۶) میں اکتفاء کرتے ہوئے اسے من گھڑت کہاہے۔

[5] اسی طرح علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۲/ ۸۴،رقم:۱۷۸۳) میں، علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۳۵) میں،علامہ پٹنی lنے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۵۵) میں،علامہ قاؤقجیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص: ۱۰۸، رقم:۲۹۶) میں حافظ سخاوی l کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے اسے من گھڑت کہا ہے،نیز حافظ ابن حجر ہیتمیl  نے ’’الفتاوى الفقہيۃ الكبرى‘‘ (۱/ ۱۷۰)میں اور حافظ محمدالحوت نے ’’اسنى المطالب‘‘ (ص:۱۸۴،رقم:۸۱۸)میں اور حافظ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشريعۃ‘‘ (۲/ ۱۲۲)میں اسےموضوع کہا ہے۔

[6] حافظ ذہبی l نے ’’محمد بن عجلان المدنی‘‘ کاتذکرہ’’الکاشف‘‘ (رقم:۵۰۴۶) میں ان الفاظ سے کیا ہے:’’الفقيه الصالح، عن أبيه وأنس وخلق، وعنه شعبة ومالك والقطان وأبو عاصم، وثقه أحمد وابن معين، وقال غيرهما: سيء الحفظ، قال الحاكم: خرج له مسلم ثلاثة عشر حديثا كلها في الشواهد‘‘.معلوم ہوا کہ اس روایت کو محمد بن عجلان کی وجہ سے معلل قرار دینا قرین قیاس نہیں ہے۔

[7] اس روایت کے بارے میں علامہ عبد الروف مُنَاوِی l کا یہ کلام کئی جہات سے جامع ہے،اور اسی میں اس روایت کے بارے میں دیگر ائمہ(حافظ ابن جوزی l،حافظ ازدی l، حافظ عراقی l، حافظ ذہبی l، حافظ ابن حجر l) کے اقوال بھی موجود ہیں،جو اس کے موضوع،منکر،شدید ضعیف ہونے پر متفق ہیں،ملاحظہ ہو: ’’(طب) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، عن العلاء بن عمر الحنفي، عن أيوب ابن مدرك، عن مكحول، (عن أبي الدرداء). قال الزين العراقي: أيوب بن مدرك كذبه ابن معين. وقال تلميذه الهيثمي: فيه أيوب بن مدرك، قال ابن معين: كذاب اهـ وفي الميزان واللسان عن مرة: كذاب[كذا في الأصل] ، وعن النسائي: متروك، له مناكير، ثم عد من مناكيره هذا الحديث اهـ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال: لا أصل له، تفرد به أيوب، قال الأزدي: هو من وضعه، كذبه يحيى وتركه الدارقطني اهـ ولم يتعقبه المؤلف بشيء سوى أنه قال اقتصر على تضعيفه الزين العراقي وابن حجر ولم يزد على ذلك، وأنت خبير بما في هذا التعقب من التعصب‘‘.  (فيض القدير: ۲/ ۲۷۰،رقم:۱۸۱۷)

[8] یہ مضمون پہلے ص:۸۳ پر گزرچکا ہے۔

[9] الیواقیت الغالیہ: عمامہ پہن کر نماز پڑھانے کا ثواب، ۱/۳۶۷ -۳۷۳۔