۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: حدیث ×اطلبوا العلم÷ کے متعلق جو آپ نے لکھا ہے درست ہے، مگر اس کی حمایت میں اتنا تو کم ازکم ملتا ہے کہ اس کی بنیاد پر اس کو بے اصل نہیں کہہ سکتے،جیسا کہ اگلے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے:
×حكم ابن الجوزي بوضعه، ونُوزع بقول المِزِّي: له طرق ربما يصل بمجموعها إلى الحسن، ويقول الذهبي في تلخيص الواهيات: روي من عدة طرق واهية، وبعضها صالح اهـ (فیض القدیر ص:۵۴۴/۱)÷.
[اس روایت پر ابن جوزی l نے وضع کا حکم لگایا ہے، اور مزّی l کے اس کلام کے ذریعہ ابن جوزی l سے معارضہ کیا گیا ہے (مزّی l کا کلام یہ ہے): اس روایت کے کئی طرق ہیں، یہ روایت ان مجموعہ طرق سے درجۂ حسن تک پہنچ جاتی ہے، نیز حافظ ذہبی l ’’تلخیص الواہیات‘‘ میں فرماتے ہیں: یہ روایت متعدد واہی طرق سے مروی ہے، جن میں بعض صالح ہیں]
جواب: حدیث ×أطلبوا العلم ولو بالصين÷ کی تائید میں جو عبارت بحوالہ ’’فیض القدیر‘‘ آپ نے لکھی ہے وہ میرے سامنے ہے، مُنَاوِیl کو وہم ہوگیا، اس جملہ کے متعلق امام مِزِّی l نے کوئی تحسینی کلمہ نہیں کہا ہے،بلکہ اس کے دوسرے جزء کے متعلق ان سے تحسینی کلام نقل کیا جاتا ہے:
×قال أبو الحسن علي بن محمد بن عَرَّاق الكِنَاني (م ۹۶۳ هـ) في تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة(ص:۲۵۸):
حدیث: أطلبوا العلم ولو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم. أخرجه ابن عدي و العُقَيْلِي من حديث أ نس رضي الله تعالى عنه، وفيه أبو عاتكة طَرِيف بن سليمان منكر الحيث، وقال ابن حِبَّان: حديث باطل لا أصل له، وتعقب بأن أبا عاتكة من رجال الترمذي ولا يجرح بكذب ولا تهمة، وأخرج البيهقي في الشعب الحديث من طريقه وقال: متن مشهور واسناد ضعيف، انتهى.
قلت: كونه لم يجرح ممنوع كما يعلم من ترجمته في مقدمة تنزيه الشريعة (ص:۶۹): طَرِيف بن سليمان[وفي نسختنا: سلمان] وقيل بالعكس أبو عاتكة وهو بالكنية أشهر، قال الذهبي في الكنى من الميزان: عده أحمد بن علي السليماني فيمن عرف بوضع الحديث.
وله متابع أخرجه أبو يعلى وابن عبد البر في العلم من طريق كثير بن شِنْظِير، عن ابن سيرين عن أنس رضي الله تعالى عنه، وأخرجه ابن عبد البر من طريق يعقوب بن إسحاق العسقلاني، عن عبيد بن محمد الفِرْيَابي، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس رضي الله تعالى عنه، لكن يعقوب رمي بالكذب، ووثقه مسلمة بن القاسم، وحكى توثيقه عن بعضهم.
ونصفه الثاني أخرجه ابن ماجه، قال الحافظ المِزِّي الشافعي: وله طرق كثيرة عن أنس رضي الله تعالى عنه، يصل مجموعها إلى مرتبة الحسن، وأخرجه البيهقي في الشعب أيضا من حديث أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه.
قلت: وأخرجه الحافظ العراقي الشافعي في أماليه من حديث أنس رضي الله تعالى عنه، من غير طريق ابن ماجه، ثم قال: حديث غريب من هذا الوجه، قال: وهو مشهور من حديث أنس رضي الله تعالى عنه، رويناه من رواية عشرين رجلا من التابعين عنه، قال وقد ضعف جماعة من الأئمة طرقه كلها، فقال أحمد: لا يثبت عندنا في هذا الباب شيء، وكذا قال أبو علي النيسابوري الشافعي والبيهقي وابن عبد البر، وذكره ابن الصلاح في علوم الحديث مثالا للحديث المشهور غير الصحيح، انتهى.
وفي تلخيص الواهيات للذهبي: روي عن علي وابن مسعود وابن عمر وابن عباس وجابر وأنس وأبي سعيد رضي الله عنهم، وبعض طرقه أوهى من بعض وبعضها صالح، والله أعلم÷.
[(علامہ جونپوری l کے کلام کا حاصل یہ ہے) ابن عَرّاق ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث ـ علم حاصل کرو اگر چہ چین سے ہو، کیونکہ علم ہر مسلمان پر فرض ہے ـ کو ابن عدی l اور عُقَیْلِی l نے حضرت انس r سے تخریج کیا ہے، اور اس روایت کی سند میں ابوعاتکہ طَرِیف بن سلیمان منکر الحدیث ہے، اور ابن حبان l کا کہنا ہے کہ یہ باطل، بے اصل حدیث ہے اور تعاقب کیا گیا ہے کہ ابوعاتکہ رجال ترمذی l میں سے ہے، اور ان پر جھوٹ وتہمت کی جرح نہیں ہے، اور بیہقی l نے ابوعاتکہ کے طریق سے یہ روایت ’’شعب‘‘ میں تخریج کر کے کہا ہے کہ اس کا متن مشہور اور سند ضعیف ہے، انتہیٰ۔
میں (حافظ ابن عَرَّاق l ) کہتا ہوں: ابوعاتکہ پر جرح کا نہ ہونا تسلیم نہیں ہے – جیسا کہ ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ کے مقدمہ میں ابوعاتکہ کے ترجمہ میں ہے – : طَرِیف بن سلیمان – بعض کے نزدیک نام اس کے برعکس ہے – ابوعاتکہ– یہ کنیت سے مشہور ہیں، حافظ ذہبی l ’’میزان‘‘ میں ’’کنٰی‘‘ کے تحت لکھتے ہیں: احمد بن علی سلیمانی نے انہیں معروف بالوضع لوگوں میں شمار کیا ہے۔
(حافظ ابن عَرَّاق l مزید لکھتے ہیں) ابوعاتکہ کے متابع بھی ہیں، چنانچہ (ایک متابع تو) ابویعلی l اور ابن عبد البر l نے کثیر بن شِنظِیر عن سیرین عن انس r کی سند سے تخریج کیا ہے، اور (دوسرا متابع) ابن عبد البر l نے یعقوب بن اسحاق عسقلانی عن عبید عن الزہری عن انس r کے طریق سے تخریج کیا ہے، لیکن سند میں موجود یعقوب کو جھوٹا کہا گیا ہے، اور مسلم بن قاسم نے یعقوب کو ثقہ کہا ہے، نیز بعض محدثین سے ان کی توثیق نقل کی ہے۔
حدیث کے دوسرے آدھے حصے کو ابن ماجہ l نے تخریج کیا ہے، حافظ مِزِّی شافعی l فرماتے ہیں: اسں روایت کے انس r سے کئی طرق ہیں، جن سے یہ روایت مجموعی طور پر درجۂ حسن تک پہنچ جاتی ہے اور اسے بیہقی l نے بھی بطریق ابوسعید خدری r ’’شعب‘‘ میں تخریج کیا ہے۔
میں (حافظ ابن عَرَّاق l ) کہتاہوں کہ حافظ عراقی شافعی l نے یہ روایت اپنی ’’اَمَالِی‘‘ میں انس r سے، ابن ماجہ l کے علاوہ دوسری سند سے تخریج کی ہے، پھر حافظ عراقی l فرماتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، اور فرمایا کہ یہ روایت انس r سے مشہور ہے، ہم نے بیس تابعین سے یہ روایت نقل کی ہے جو انس r سے اس روایت کو نقل کرتے ہیں، اور فرمایا کہ ائمہ کی ایک جماعت نے ان تمام طرق کو ضعیف کہا ہے، چنانچہ احمد l فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس باب میں کچھ ثابت نہیں ہے، اور اسی طرح ابو علی نیشاپوری شافعی l، بیہقی l اور ابن عبد البر l نے کہا ہے، نیز ابن صلاح نے ’’علوم الحدیث‘‘ میں اس روایت کو مشہور غیر صحیح کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے، انتہی ٰ۔
(حافظ ابن عَرَّاق l فرماتے ہیں) اور ذہبی l کی ’’تلخیص الواہیات‘‘ میں ہے: یہ روایت علی، ابن مسعود، ابن عمر، ابن عباس، جابر، انس، اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے منقول ہے، اس کے بعض طرق بعض سے بڑھ کر واہی ہیں، البتہ بعض طرق صالح ہیں، واللہ اعلم]
ابن عَرَّاق l کا سارا کلام بلفظہ اس لئے نقل کردیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حافظ مِزّی l اور حافظ ذہبی l کا کلام جزءِ ثانی سے متعلق ہے، علامہ سخاویl نے مِزّی l کا کلام جزءِ ثانی کے تحت ذکر کیا ہے، اور جزءاول کے ذیل میں نہیں ذکر کیا جیسا کہ مُنَاوِیl کو وہم ہوا، اسی طرح اسماعیل جَرَّاحیl کو ’’ کشف الخَفَا‘‘ (ص:۱۳۸) میں وہم ہوگیا، علامہ سیوطی l حدیث کے تحت ’’تدریب الراوی‘‘ میں لکھتے ہیں (ص: ۱۷۴/۲):
×مثاله وهو حسن حديث: طلب العلم فريضة على كل مسلم. فقد قال المِزِّي: إن له طرقا يرتقي بها إلى رتبة الحسن اهـ÷.
[مشہور کی مثال جو حسن ہو یہ روایت ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔مِزّی l کا کہنا ہے کہ اس روایت کے کئی طرق ہیں، جن کی وجہ سے یہ درجہ حسن تک ترقی کرجاتی ہے،اھ]
×وهو حسن÷ کے معنی یہ ہیں کہ حدیث مشہور کبھی صحیح ہوتی ہے کبھی حسن کبھی ضعیف، یہ حدیث مشہور حسن کی مثال ہے۔
×وسئل النَوَوِي (ص:۲۷۶) عن هذا الحديث فقال في فتاويه (ص:۲۷۶): هو حديث ضعيف وإن كان معناه صحيحا، وقال في مقدمة شرح المهذب (ص:۲۴/۱): هذا الحديث وإن لم يكن ثابتا فمعناه صحيح.
قال السندي في تعليقه على ابن ماجه (ص:۵۱) تحت حديث طلب العلم: قال السيوطي: سئل النَوَوِي، فذكر كلامه ثم قال: وقال تلميذه جمال الدين المِزِّي: هذا الحديث روي من طرق تبلغ رتبة الحسن وهو كما قال، فإني رأيت له نحو خمسين طرقا وقد جمعتها في جزء، انتهى.
وقد ذكر الغزالي حديث: طلب العلم، ثم حديث: أطلبوا العلم. وذكر الزَبِيدِي في الإتحاف (ص:۹۸/۱) كلام المِزِّي تحت حديث طلب العلم، والله الموافق للصواب÷.
[اور نَوَوِی l سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے ’’فتاویٰ‘‘ میں کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اگر چہ اس کا معنی صحیح ہے اور نَوَوِی l نے مقدمہ ’’شرح المہذب‘‘ میں کہا ہے کہ یہ حدیث اگر چہ ثابت نہیں ہے، لیکن اس کا معنی ثابت ہے۔
سندھی l حدیث ×طلب العلم÷کے تحت ’’سنن ابن ماجہ‘‘ پر موجود اپنے ’’حاشیہ‘‘میں لکھتے ہیں: سیوطی l فرماتے ہیں کہ نَوَوِی l سے پوچھا گیا، پھر انہوں نے نَوَوِی l کا کلام نقل کیا، پھر فرمایا: نَوَوِی l کے شاگرد جمال الدین مِزّی کا کہنا ہے کہ یہ حدیث ایسے کئی طرق سے مروی ہے جن کا رتبہ درجۂ حسن ہے۔ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ مِزّی نے کہا، کیونکہ میں نے اس کے پچاس طریق دیکھے ہیں، جسے میں نے ایک جزء میں جمع کیا ہے، انتہیٰ۔
اور غزالی l نے حدیث ×طلب العلم÷ پھر ×اطلبوا العلم÷ ذکر کی ہے،اور زَبِیْدِی l نے ’’اتحاف ‘‘ میں حدیث ×طلب العلم÷ کے تحت مزی کا کلام ذکر کیا ہے، والله الموافق للصواب]
کثیر بن شِنْظِیر کے طریق میں ×أطلبوا العلم÷ کا اضافہ ہماری معلومات میں نہیں ہے، اس طریق میں صرف ×طلب العلم فريضة÷ ہے۔
×فقد أخرج ابن ماجه في سننه(ص:۲۰) وحمزة السَهْمِي في تاريخ جُرجان (ص:۳۴۹) و ابن الجوزي في العلل (ص:۵۹) من طريق حفص بن سليمان، عن كثير بن شِنْظِير، عن محمد بن سيرين، عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله: طلب العلم فريضة على كل مسلم. زاد ابن ماجه وحمزة [أي: السَهْمِي]: وواضع العلم عند غير أهله كمقلد الخنازير الجوهر واللؤلؤ والذهب.
حفص بن سليمان هو القاري المشهور ضعيف جدا، قال أحمد: متروك الحديث، وقال أبو حاتم: متروك لا يصدق، وقال ابن خِرَاش: كذاب يضع الحديث، وقال الذهبي في ترجمة كثير بن شِنْظِير: حفص واه.
وأما كثير بن شِنْظِير فقال ابن حجر: صدوق يخطئ.
ولم ينسبه إلى أبي يعلى أحد سوى السيوطي في التعقبات (ص:۶) وتبعه ابن عَرَّاق، نعم أخرج أبو يعلى حديث ابن مسعود رضي الله تعالى عنه كما ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد (ص:۱۱۹/۱) وابن حجر في المطالب العالية (ص:۱۳۰/۳) وليس فيه: أطلبوا العلم ولو بالصين. فكلام ابن عَرَّاق وهم÷.
[ابن ماجہ l نے اپنی ’’سنن‘‘ میں، حمزہ سہمی l نے ’’تاریخ جرجان‘‘ میں، اور ابن جوزی l نے ’’العلل ‘‘ میں،طریق بن سلیمان، عن کثیر بن شِنْظِیر، عن محمد بن سیرین، عن انسt مرفوعاً تخریج کیا ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
نیز ابن ماجہ l وحمزہ l نے اس پر یہ اضافہ بھی کیا ہے: نااہلوں کو علم سے نوازنے والا ایسا ہے جیسے خنزیروں کو جوہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والا۔
(سند میں موجود) حفص بن سلیمان شدید ضعیف ہے، احمد l فرماتے ہیں: یہ متروک الحدیث ہے، ابو حاتم l کا کہنا ہے: یہ متروک ہے، سچ نہیں بولتا، ابن خِرَاش کا فرمان ہے: یہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے، اور حافظ ذہبی l نے کثیر بن شِنظِیر کے ترجمہ میں کہا ہے: حفص واہی ہے، رہی بات کثیر بن شِنْظِیر کی، ان کے بارے میں ابن حجر l فرماتے ہیں: یہ صدوق ہے، خطاء کرتا ہے۔
سیوطی l نے ’’تعقبات‘‘ میں اسے ابویعلی l کی جانب منسوب کیا ہے، اور ابن عَرّاق l نے سیوطی l کی اتباع میں ایسے ہی لکھا ہے، لیکن سیوطی l کے علاوہ کسی اور نے ابویعلی l کی جانب اسے منسوب نہیں کیا، البتہ ابویعلی l نے ابن مسعود r سے یہی مرفوع حدیث تخریج کی ہے، لیکن اس میں ’’علم حاصل کرو، خواہ چین ہی جانا پڑے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں، جیسا کہ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں اور ابن حجر l نے ’’المطالب العالیہ‘‘ میں ابویعلی l کی روایت اس طرح (یعنی ولوبالصین کے بغیر) نقل کی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ابن عراق l کا کلام وہم پر مبنی ہے]
اب مختصر طور سے حدیث: ×أطلبوا العلم÷ کے متعلق سن لیجئے۔
×أخرجه ابن عدي في الكامل و ابن عبد البر في الجامع(ص: ۹) والخطيب في تاريخه (ص:۳۶۴/۹) والرحلة (ص: ۷۲) وابن الجوزي في الموضوعات (ص:۲۱۵/۱) وأبو حفص السُهْرَوَرْدِي في العوارف (ص:۲۳۴/۱) من طريق الحسن بن عطية، عن أبي عاتكة، عن أنس بن مالك رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أطلبوا العلم ولو بالصين، فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم. ولم يزد ابن الجوزي في أحد طريقيه والسُهْرَوَرْدِي: فإن طلب العلم، الحديث.
قال الخطيب في تاريخه: لا أعلم أحدا رواه عن أبي عاتكة غير الحسن بن عطية.
وقال ابن عدي: قوله: ولو بالصين. ما أعلم يرويه غير الحسن بن عطية، عن أبي عاتكة، عن أنس رضي الله تعالى عنه.
وقال الحاكم أبو عبد الله النيسابوري: تفرد به الحسن بن عطية.
قلت: تابعه حماد بن خالد الخَيَّاط، أخرجه العُقَيْلِي في الضعفاء، ومن طريقه ابن الجوزي في الموضوعات (ص:۲۱۵/۱)، قال العُقَيْلِي: ولا يحفظ: ’’ولو بالصين‘‘ إلا عن أبي عاتكة، وهو متروك الحديث، و فريضة على كل مسلم، الرواية، فيها لين، متقاربة في الضعف [انتهى كلام العُقَيْلِي].
وأخرجه البخاری من هذا الوجه فی تاريخه الكبير (ص:۲۵۷/۲) مقتصرا على قوله: طلب العلم فريضة، وقال: أبو عاتكة منكر الحديث.
وقال ابن حِبَّان(ص:۳۸۲/۱) طَرِيف بن سليمان أبو عاتكة منكر الحديث جدا، يروي عن أنس رضي الله تعالى عنهما لا يشبه حديثه، وربما روى ماليس من حديثه، روى عن أنس رضي الله تعالى عنه، عن النبى صلى الله عليه وسلم: أطلبوا العلم ولو بالصين .
قال السيوطي في اللآلي(ص:۱۹۳/۱): والحديث أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، وتَمَّام من طرق عن الحسن، قال ابن الجوزي في الموضوعات (ص:۲۱۶/۱): قال ابن حِبَّان: هذا الحديث باطل لا أصل له، وللحديث طريق آخر، أخرجه ابن عبد البر في الجامع(ص:۱۰) من جهة يعقوب بن إسحاق العسقلاني، عن عبيد بن محمد الفِرْيَابِي، عن ابن عينية، عن الزهري، عن أنس رضي الله تعالى عنه. و يعقوب العسقلاني، قال الذهبي في الميزان: كذاب، وقال ابن حجر في اللسان: ذكره مسلمة بن قاسم في الصلة، وذكر له جماعة من الشيوخ، وقال:كتبت عنه، وهو عندي صالح، جائز الحديث. وقد ورد من حديث أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، قال الذهبي في الميزان في ترجمة أحمد بن عبد الله الجُوَيْبَارِي الكذاب: ابن كَرَّام، حدثنا أحمد، عن الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه حديث: أطلبوا العلم ولو بالصين. قال ابن عدي الجُوَيْبَارِي: كان يضع الحديث لابن كَرَّام على مايريده [انتهى كلام السيوطي وقد لخّصه الشيخ الجونفوري]÷[1].
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔
۱ – جزء: عمامہ کے فضائل
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
۲ – جزء: عربی زبان کے نو غیر معتبر فضائل