التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]

سوال: علامہ نَوَوِی l نے ’’شرح مہذب‘‘ (ص: ۱۰۴،۱۰۳) میں ایک بات یہ تحریر فرمائی کہ ضعیف حدیث کو لفظ ’’قال‘‘ [یعنی آپﷺ نے فرمایا] اور ’’رَوٰی‘‘ [یعنی راوی نے روایت کیا ہے] سے بیان کرنے کو علمائے محققین نے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی اس طرح بیان کرتا ہے تو كذب علیہ ﷺ [یعنی آپ ﷺ پر جھوٹ بولنے] کا مصداق ہوگا، اشکال یہ ہے کہ اس شدید وعید کے باوجود بڑے بڑے علماء روایاتِ ضعیفہ کو بھی ’’قال‘‘ [یعنی آپﷺ نے فرمایا] اور ’’رَوٰی‘‘ [یعنی راوی نے روایت کیا ہے] سے بیان کرتے ہیں، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر حضرت اقدس رہنمائی فرمادیں تو نوازش ہوگی۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیہ: ضعیف حدیث کو لفظ قال اور روی سے بیان کرنا، ۱/۲۴۴ ـ ۲۴۶۔

ملتی جلتی احادیث