۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
تفصیل
’’سوال: مندرجہ ذیل مسئلہ میں علماء تحقیق کی کیا رائے ہے؟
شعبان کی ۱۵ تاریخ یعنی شب برأت کو روزہ رکھنا ہم مستحب سمجھتے ہیں اور امت کا ایک بڑا طبقہ اس پر عمل کرتا چلا آرہا ہے، مگر ایک غیر مقلد عالم اس روزہ کو بدعت اور معصیت قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ شعبان کی ۱۴،۱۳ تاریخوں کے ساتھ ۱۵ تاریخ کو ملا کر تین روزے ایام بیض کے بنالئے جائیں تو درست ہے، ورنہ صرف ۱۵ تاریخ کا ایک روزہ ممنوع اور بدعت ہوگا۔
’’مشکوۃ شریف‘‘ (۱۱۵) پر حضرت علی r سے ان الفاظ کے ساتھ جو روایت آئی ہے: ×إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، الحديث÷. [جب نصف شعبان ہوجائے تو اس کی رات میں نماز پڑھو اور دن میں روزہ رکھو، الحدیث] اور صاحبِ مشکوۃ نے اس روایت کو ابن ماجہ l سے لیا ہے اس روایت کو غیر مقلد عالم موضوع بتاتے ہیں، اور دلیل میں ’’ترمذی‘‘ کے شارح مولانا عبد الرحمن مبارک پوریl (جو خود بھی غیر مقلد تھے) کی تصنیف ’’تحفۃ الاحوذی‘‘کی (۵۳/۲)پر آئی ہوئی یہ عبارت پیش کرتے ہیں:
×وفي سنده أبوبكر بن عبد الله بن محمد بن أبي سَبْرَة القرشي العامري المدني، وقيل: اسمه عبد الله، وقيل: محمد، وقد ينسب إلى جده، رموه بالوضع إلخ÷.
[اور اس کی سند میں ابوبکر بن عبداللہ بن محمد بن ابو سَبْرَہ قرشی عامری مدنی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام عبداللہ ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ محمد ہے، اور یہ شخص کبھی دادا کی جانب منسوب ہوجاتا ہے، محدثین نے اس پر وضع حدیث کی جرح کی ہے الخ]
اور فرماتے ہیں کہ حضرت علی r کی روایت بالا میں ابوبکر بن عبد اللہ راوی واضع الحدیث تھا، اس لئے یہ روایت موضوع ٹھہری، پس شب برأت کا روزہ ثابت بالحدیث نہیں، اس لئے اب یہ روزہ بدعت ہے۔
اب دریافت طلب یہ امور ہیں:
1 کہ روایت مذکورہ موضوع ہے یا ضعیف؟
2 ضعیف اور موضوع روایتوں کا اعمال میں کیا حکم ہے؟
3 ابوبکر بن عبداللہ راوی کیا متفق علیہ واضع الحدیث تھے؟
4 صاحب ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ کی تحقیق کیا صحیح ہے؟
5 شب برأت کا روزہ کیا بدعت ہے؟
جواب:
1 حدیث مذکورہ ’’ابن ماجہ‘‘ (۱۰۰) اور بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ میں تخریج کی ہے:
×قال ابن ماجه: (۱۰۰) باب ماجاء في ليلة النصف من شعبان، حدثنا الحسن بن علي الخلال، ثنا عبدالرزاق، أنبأنا ابن أبي سَبْرَة، عن إبراهيم بن محمد، عن معاوية بن عبدالله بن جعفر، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول: ألا من مستغفر فأغفرله، ألامسترزق فأرزقه، ألا مبتلی فأعافيه، ألا كذا، ألا كذا، حتى يطلع الفجر.
قال السيوطي: في الدر المنثور(۲۶/۶): أخرجه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان .
قال الزَبِيْدِي في الإتحاف(۴۲۵/۳): وأخرجه عبدالرزاق في مصنفه.
قلت: لم أجده في المصنف، وقد ترجم في مصنفه في كتاب الصوم(۳۱۶/۴) باب النصف من شعبان، ولم يذكر فيه هذه الرواية.
قال العراقي في تخريج الإحياء(۱۸۲/۱): إسناده ضعيف، وأشار إليه المنذري في ترغيبه(۲۲۹/۲) إذ صدره بلفظة: روي، ولم يذكر الكلام في آخره بتصحيح ولاتحسين، قال في مقدمة الترغيب: فيكون للإسناد الضعيف دلالتان، تصديره بلفظة: روي، وإهمال الكلام عليه في آخره.
وقال السندي(۲۱۷/۱): في الزوائد: إسناده ضعيف لضعف ابن أبي سَبْرَة، قال فيه أحمد وابن معين: يضع الحديث اهـ÷.
[ابن ماجہ l فرماتے ہیں۔۔۔۔ علی بن ابو طالب r آپ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ جب نصف شعبان ہو تو رات کو نماز پڑھو اور دن کو روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ غروب شمس کے وقت آسمانِ دنیا پر جلوہ افروز ہوتے ہیں، اور فرماتے ہیں: غور سے سنو! کیا کوئی بخشش چاہنے والا ہے کہ میں اس کی بخشش کردوں، توجہ کرو! کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت دیدوں، توجہ کرو! کیا کوئی اس طرح ہے، توجہ کرو! کیا کوئی اس طرح ہے، حتی کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
سیوطی l ’’درمنثور‘‘ میں فرماتے ہیں: اسے ابن ماجہ l اور بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ میں تخریج کیا ہے۔
زَبِیدِی l فرماتے ہیں: اسے عبد الرزاق l نے ’’مصنف‘‘ میں تخریج کیا ہے۔
میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں: مجھے مصنف میں یہ روایت نہیں ملی، اور عبد الرزاق l نے اپنی مصنف میں ’’ کتاب الصوم، نصف شعبان کا باب‘‘ عنوان قائم کیا ہے، لیکن یہ روایت ذکر نہیں کی۔
عراقیl ’’تخریج احیاء‘‘ میں لکھتے ہیں: اس کی سند ضعیف ہے، اور اس ضعف کی جانب منذری l نے اپنی ’’ترغیب‘‘ میں اشارہ کیا ہے، کیونکہ وہ اس روایت کو لفظِ ’’رُوِیَ‘‘ سے لائے ہیں اور آخر میں روایت کی تصحیح یا تحسین کا کوئی کلام نہیں فرمایا، اور منذری l نے ترغیب کے مقدمہ میں کہا ہے: ضعیف سند پر دو چیزیں دلالت کریں گی، ایک لفظِ ’’رُوِیَ ‘‘ کے ساتھ اسے ذکر کرنا اور دوسرا آخر میں اس پر کلام نہ کرنا۔
اور سندھی l فرماتے ہیں: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں ابن ابو سَبْرَہ ضعیف راوی ہے، جن کے بارے میں احمد l اور ابن مَعِین l نے کہا ہے کہ یہ حدیث گھڑتا تھا،اھ]
اس حدیث کا دار ومدار ابراہیم بن محمد اور اس کے تلمیذ ابوبکر بن ابی سَبْرَہ پر ہے، ابراہیم بن محمد کون ہے؟ کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی ہے، ظاہر تو یہ ہے کہ یہ ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی ہے، اور محتمل ہے کہ کوئی اور ہو۔
ابن ابی حاتم l (۲۲۵/۱)نے اپنے والد ابو حاتم الرازی l سے ایک راوی کا تذکرہ کیا ہے فرماتے ہیں:
×إبراهيم بن محمد بن علي بن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب الهاشمي روی عن أبيه، روى عنه سعد بن زياد أبو عاصم مولى بني هاشم وابن عيينة ويعقوب بن عبدالرحمن الإسكندراني÷.
[ابراہیم بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب ہاشمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں، اور ان سے سعد بن زیاد ابو عاصم مولی بنی ہاشم، ابن عیینہ اور یعقوب بن عبدالرحمن اسکندرانی روایت نقل کرتے ہیں]
حافظ جمال الدین المزی l فرماتے ہیں: كأنه هو. یعنی راوی حدیث غالباً وہی راوی ہے جس کا تذکرہ ابن ابی حاتم l نے کیا ہے، ابن حبان l نے اس کو کتاب ’’الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
حافظ شمس الدین الذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘ میں دونوں احتمال ذکر کئے ہیں، فرماتے ہیں:
×إبراهيم بن محمد عن بعض التابعين وهو معاوية بن عبد الله بن جعفر عن أبيه في ليلة النصف، وعنه ابن عيينة وأبوبكر بن أبي سَبْرَة، فإن كان إبراهيم بن محمد بن علي بن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب فقال فيه ابن أبي حاتم: روی عن أبيه وعنه سعد بن زياد وابن عيينة ويعقوب بن عبدالرحمن [انتهى كلام ابن أبي حاتم].
[قال الذهبي] ولعله ابن أبي يحيى، وإلا فليس بالمشهور، انتهى [كلام الذهبي] ÷.
[ابراہیم بن محمد ایک تابعی سے،اور وہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر عن ابیہ کی سند سے نصف شعبان والی روایت نقل کرتے ہیں، اور اس ابراہیم سے ابن عیینہ اور ابوبکر بن ابو سَبْرَہ نے روایت نقل کی ہے، اگر یہ ابراہیم، ابن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبr ہے تو ابن ابوحاتم l نے ان کے بارے میں کہا ہے: یہ اپنے والد سے، اور ان سے سعد بن زیاد، نیز ابن عیینہ ویعقوب بن عبدالرحمن نے روایت نقل کی ہے، ابن ابی حاتم l کا کلام مکمل ہوا۔
(ذہبی l مزید فرماتے ہیں) شاید یہ ابراہیم، ابن ابی یحیی ہو، ورنہ پھر یہ مشہور روای نہیں ہے، ذہبی l کا کلام مکمل ہوا]
حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں:
×أظنه ابن أبي يحيى وهو من أقران ابن أبي سَبْرَة، انتهى÷. [میرا گمان ہے کہ یہ ابن ابی یحیی ہے جو ابن ابی سَبْرَہ کاقرین ہے، ابن حجر l کا کلام مکمل ہوا]
احقر کا گمان بھی یہی ہے کہ یہ راوی ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی ہے، اگر دوسرا ہے، جس کا اوپر ذکر ہوچکا تو اس کو ابن حبان l نے کتاب ’’الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور اگر ابن ابی یحییٰ ہے تو یہ راوی جمہور علماء کے نزدیک مجروح متروک اور متہم بالکذب ہے۔
صرف امام شافعی l، حمدان بن محمد الاصفہانی l، ابوسعیداحمد بن محمدبن سعید الشہیر بابن عُقْدَہ l اور ابواحمد عبد اللہ بن عدی l نے اس کی تقویت کی ہے۔
امام شافعی l فرماتے ہیں: ×لأن يَخِرُّ إبراهيم من بُعْد أحَبُّ إليه من أن يكذب، وكان ثقة في الحديث÷. [میرے نزدیک ابراہیم کا دور درازمقام سے نیچے گرنا، ان کے جھوٹ بولنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، وہ حدیث میں ثقہ ہیں]
ابواحمد بن عدى l فرماتے ہیں:
×سألت أحمد بن محمد بن سعيد يعني بن عُقْدَة فقلت له: تعلم أحدا أحسن القول في إبراهيم غير الشافعي؟ فقال: نعم، حدثنا أحمد بن يحيى الأودي سمعت حمدان بن محمد الأصبهاني قلت: أتَدِيْنُ بحديث إبراهيم بن أبي يحيى؟ قال: نعم، قال لي أحمد بن محمد بن سعيد: نظرت في حديث إبراهيم كثيرا وليس بمنكر الحديث÷.
[میں نے احمد بن محمد بن سعید یعنی ابن عُقْدَہ سے پوچھا کہ کیا شافعی l کے علاوہ آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جن کی ابراہیم کے بارے میں اچھی رائے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہمیں احمد بن یحیی اودی نے بتایا کہ میں نے حمدان بن محمد اصبہانی سے یہ سنا - جبکہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ ابراہیم بن ابو یحیی کی احادیث کو اختیار کرتے ہیں ـ انہوں نے کہا کہ ہاں، (حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں کہ) مجھے احمد بن محمد بن سعید نے کہا کہ میں نے ابراہیم کی احادیث کو بہت دیکھا اور وہ منکر الحدیث نہیں ہے]
ابن عدی l کہتے ہیں:
×وهذا الذي قاله كما قال: وقد نظرت أنا أيضا في حديثه الكثير فلم أجد فيه منكرا إلا عن شيوخ يحتملون، وإنما يروی المنكر من قبل الراوي عنه أو من قبل شيخه، وهو في جملة من يكتب حديثه÷.
[یہ تو وہ بات تھی جو انہوں نے کہی، اور پھر میں نے بھی ابراہیم کی احادیث کو خوب دیکھا، میں نے ان احادیث میں صرف وہی منکر روایات پائی ہیں جو ان کے ایسے شیوخ سے منقول ہیں جو منکر احادیث نقل کرتے ہیں، نے روایت کی ہیں، نیز منکر روایت یا تو ان سے نقل کرنے والے کی جانب سے ہوتی ہے، یا اس نقل کرنے والے کے شیخ کی جانب سے ہوتی ہے، البتہ ابراہیم بذاتِ خود ان لوگوں میں سے ہے جن کی احادیث لکھی جائیں گی]
لیکن ابن عدی l نے محمد بن عبدالرحمن بن ابی جابر البیاضی کے ترجمہ میں ان کو ضعیف کہا ہے، اور محققین علماء نے اس کو مجروح قراردیا ہے۔
یحییٰ القطان
l، علی بن المدینی l،یحییٰ بن مَعِین l کہتے ہیں:
’’ کذاب‘‘.
بشر بن المفضل l کہتے ہیں: ×سألت فقهاء أهل المدينة فكلهم يقولون كذاب÷. [میں نے اہل مدینہ کے فقہاء سے سنا، جو سب کے سب کہتے تھے کہ یہ جھوٹا ہے]
امام بخاری l فرماتے ہیں: ×تركه ابن المبارك والناس÷. ابن مبارک اور دوسرے لوگوں نے اسے ترک کر دیا تھا۔
امام نسائی l، دار قطنی l، یعقوب بن سفیان الفَسَوِی l کہتے ہیں: ×متروك الحديث÷.
یحییٰ القطانl کہتے ہیں: ×سألت مالكا عنه أكان ثقة؟ قال: لا، ولاثقة في دينه÷. [میں نے مالک l سے ان کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ ثقہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو دین میں بھی ثقہ نہیں ہے]
یحییٰ بن مَعِین l اور نسائی l کہتے ہیں: ×ليس بثقة÷.
بلکہ حافظ ابن عبد البر l نے کتاب ’’التمہید‘‘ میں لکھا ہے: ×أجمعوا على تجريح ابن أبي يحيى إلا الشافعي اهـ÷. [شافعی l کے علاوہ تمام علماء کا ابن ابی یحیی پر جرح میں اتفاق ہے]
حافظ ابن حجر l ’’تقریب التہذیب ’’میں فرماتے ہیں: ×متروك÷.
اور ان کے تلمیذ ابو بکر بن عبد اللہ بن محمد بن ابی سَبْرَۃ القرشی اپنی کنیت کے ساتھ مشہور ہیں۔
امام احمد l (۱۷۸/۱)،امام بخاری l (۹)،ابوبشر الدولابی l (۱۲۱)،خلیفہ بن خیاط l (۴۳۷)،ابن حبان l اور ابوبکر الخطیبl (۳۶۷/۱۴)نے ان کا کوئی نام نہیں بتایا۔
ابواحمد الحاکم l اور ابومحمد بن ابی حاتم l (۳۰۶/۳، ق: ۲)ابوسعد السمعانی l (۵۹/۷)کہتے ہیں کہ ان کا نام محمد ہے۔
خطیب بغدادی l کہتے ہیں: محمد ان کے بھائی کا نام ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘ میں ان کانام عبد اللہ لکھا ہے، یہی حافظ ابن حجر l نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں بعض علماء سے نقل کیا ہے۔
اپنے زمانہ کے مشہور علماء اور اہل فتویٰ میں شمار ہوتے تھے: ×قال مصعب الزبيري: كان من علماء قريش، ولاه المنصور القضاء، كذا نقله الخطيب (۳۶۸/۱۴)÷. [مصعب زبیری فرماتے ہیں کہ یہ علماء قریش میں سے ہیں، منصور نے انہیں قاضی بنایا تھا، اسی طرح خطیب l نے نقل کیا ہے]
یعقوب بن سفیان الفَسَوِی l نے اپنی ’’تاریخ‘‘ (۶۸۵/۱) میں امام مالک l سے نقل کیا ہے:
×قال: لما لقيت أبا جعفر قال لي: يا مالك! من يفتي بالمدينة من المشيخة؟ قال: قلت: يا أمير المؤمنين! ابن أبي ذئب وابن أبي سلمة وابن أبي سَبْرَة÷.
[وہ فرماتے ہیں کہ جب میں ابوجعفر سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ اے مالک! مشایخ میں سے کون کون مدینہ میں فتویٰ دیتے ہیں، میں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! ابن ابی ذئب، ابن ابی سلمہ اور ابن ابی سَبْرَہ]
خطیبl نے حارث بن محمد بن سعد سے نقل کیا ہے: ×كان كثير العلم والسماع والرواية، ولي قضاء مكة لزياد بن عبد الله، وكان يفتي بالمدينة÷. [بہت زیادہ علم والے، کثرتِ سماع وروایت والے شخص تھے، زیاد بن عبداللہ کے زمانے میں مکہ کے قاضی مقرر ہوئے، اور مدینہ میں فتویٰ دیتے تھے]
امام ابوداود l فرماتے ہیں: ×كان مفتي أهل المدينة÷. [مدینہ والوں کے مفتی تھے]
لیکن اس علم وفضل اور تفقہ کے باوجود نقل احادیث میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے، تمام اہل فن ان کی تضعیف اور ان کے غیر معتبر ہونے پر یک زبان ہیں۔
امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن مَعِین l سے مختلف الفاظ ان کی تضعیف کے متعلق نقل کئے جاتے ہیں:
×قال في رواية عبد الله بن شعيب: ضعيف الحديث، وقال في رواية العباس الدوري ومعاوية بن صالح: ليس حديثه بشيء، وقال في رواية ابن أبي مريم: ليس بشيء .
وقال علي بن المَدِيْنِي: كان ضعيفا في الحديث، وقال مرة: كان منكر الحديث، وهو عندي نحو ابن أبي يحيى.
وقال الجُوزجاني: يضعف حديثه.
وقال البخاري في الكنى(۹) والضعفاء الصغير(۱۲۴): ضعيف، وقال في التاريخ الصغير(۱۸۴/۲): منكر الحديث.
وقال النسائي في الضعفاء والمتروكين(۱۱۵) وعبد الحق في أحكامه: متروك الحديث.
وقال أبو إسحاق الحربي: غيره أوثق منه.
وقال أبوأحمد الحاكم: ليس بالقوي عندهم.
وقال البزار: لين الحديث.
وقال أبوبكر المروزي عن أحمد بن حنبل: ليس هو بشيء .
وقال عبدالله بن أحمد في العلل(۱۷۸): سمعت أبي: أبوبكر بن أبي سَبْرَة يضع الحديث، ثم قال: قال حجاج: قال لي أبوبكر السَبْرِي: عندي سبعون ألف حديث في الحلال والحرام. قال أبي: وليس حديثه بشيء، كان يكذب ويضع الحديث.
وقال ابن أبي حاتم: حدثنا صالح بن أحمد بن حنبل قال أبي: ابن أبي سَبْرَة يضع الحديث.
وقال ابن عدي: عامة مايرويه غير محفوظ، وهو من جملة من يضع الحديث.
وقال أبو حاتم بن حبان البستي(۱۴۷/۳): كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، لايحل كتابة حديثه ولا الاحتجاج به بحال.
[قال الشيخ الجونفوري] وكذا قال السمعاني في أنسابه تبعا لابن حبان من غير تصريح باسمه كما هو عادته في الأنساب ينقل كثيرا كلام ابن حبان ولاينسب إليه.
وقال الحاكم أبوعبد الله: يروي الموضوعات عن الأثبات.
وقال الذهبي في المغني: كذبه ابن حنبل. وقال في كنى المغني: تركوه.
وقال الحافظ ابن حجر في التقريب: رموه بالوضع، وقال مصعب الزبيري كان عالما اهـ÷.
[(یحییٰ بن معینl نے ابن ابی سَبْرَہ کو) عبداللہ بن شعیب کی روایت میں ضعیف الحدیث، اور عباس دُورِی l ومعاویہ بن صالح کی روایت میں ×لیس حدیثه بشيء÷ کہا ہے، اور ابن ابی مریم کی روایت میں ×لیس بشيء÷ کہا ہے۔
علی بن مدینی l فرماتے ہیں: یہ حدیث میں ضعیف تھا، اور ایک مرتبہ آپ نے یوں کہا کہ یہ منکر الحدیث ہے، اور میرے نزدیک یہ ابن ابی یحیی کی طرح ہے۔
جُوزجانیl فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث کی تضعیف کی جاتی ہے۔
بخاری l نے ’’کُنٰی‘‘ و ’’ضعفاء صغیر‘‘ میں اسے ضعیف، اور ’’تاریخ صغیر‘‘ میں منکر الحدیث کہا ہے۔
نسائی l ’’ضعفاء ومتروکین‘‘ میں، اور عبد الحق l ’’احکام‘‘ میں اسے متروک الحدیث کہتے ہیں۔
ابواسحاق حربی l فرماتے ہیں کہ اس کے علاوہ لوگ زیادہ ثقہ ہیں۔
ابو احمد الحاکم l فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک یہ ثقہ نہیں ہے۔
بزار l فرماتے ہیں: یہ لین الحدیث ہے۔
ابوبکر مَروَزِی، احمد بن حنبل l سے نقل کرتے ہیں: یہ لیس بشیء ہے۔
عبداللہ بن احمدl ’’علل‘‘ میں لکھتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا کہ ابوبکر بن ابی سَبْرَہ حدیث گھڑتا تھا، پھر فرمایا کہ حجاج نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر سَبْرِی نے کہا تھا کہ میرے پاس حلال وحرام کی ستر ہزار احادیث موجود ہیں، میرے والد نے مجھے کہا کہ اس کی احادیث کچھ نہیں، یہ جھوٹ بولتا تھا، اور احادیث گھڑتا تھا۔
ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ ہمیں صالح بن احمد بن حنبل l نے کہا کہ مجھے میرے والد نے کہا کہ ابن ابی سَبْرَہ حدیث گھڑتا تھا۔
ابن عدی l فرماتے ہیں کہ اس کی اکثر احادیث محفوظ نہیں ہیں، یہ من جملہ حدیث گھڑنے والوں میں سے ہے۔
ابوحاتم ابن حبان بُستِی l فرماتے ہیں: یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے تھے، بہر صورت اس کی حدیث لکھنا اور اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔
(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں) ابن حبان l کی اتباع میں سمعانی l نے ’’انساب‘‘ میں اسی طرح کہا ہے، لیکن ان کا نام نہیں لیا، جیسا کہ ’’انساب‘‘ میں ان کی عام عادت ہے کہ ابن حبان l کا کلام بہت سے مقامات پر ان کی جانب انتساب کیے بغیر نقل کردیتے ہیں۔
ابو عبداللہ الحاکم l فرماتے ہیں: یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا تھا۔
ذہبی l نے ’’مغنی‘‘ میں کہا ہے کہ ابن حنبل l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ذہبی l ہی نے ’’المغنی‘‘ کے ’’کُنیٰ‘‘ میں لکھا ہے: محدثین نے اسے ترک کردیا تھا۔
حافظ ابن حجر l ’’تقریب‘‘ میں لکھتے ہیں: محدثین نے اسے وضعِ حدیث کے قول سے مجروح کیا ہے، اور مصعب زبیری کہتے ہیں کہ یہ عالم تھا،اھ]
موصوف کے متعلق محدثین ناقدین کے زبان وقلم سے بارہ الفاظ نکلے ہیں:
1 لين الحديث، قاله البزار.
2 ليس بالقوي عندهم، قاله أبوأحمد الحاكم.
3 يضعف حديثه، قاله الجُوزجاني.
4 غيره أوثق منه، قاله الحربي.
5 ضعيف الحديث، قاله ابن المَدِيْنِي وابن معين والبخاري.
6 ليس بشيء، قاله ابن معين. ليس هوبشيء، ليس حديثه بشيء، قالهما أحمد .
یہ تینوں کلمات متقارب بلکہ اول دونوں تو ایک ہی ہیں، فرق یہ ہے کہ ایک میں ضمیر مظہر کا ذکر ہے اور دوسرے میں نہیں، اور تیسرا پہلے دونوں کے معنی میں ہے اس لئے کہ کسی کی حدیث کا بے اعتبار ہونا خود اس کے بے اعتبار ہونے کی دلیل ہے،اس لئے تینوں کلمات ایک ہی درجہ میں رکھے گئے۔
7 منكر الحديث، قاله علي بن المَدِيْنِي والبخاري.
8 متروك الحديث، قاله النسائي وعبد الحق.
9 لاتحل كتابة حديثه.
0 ولا الاحتجاج به، قالهما ابن حبان.
! كان يكذب، قاله الإمام أحمد .
@ يضع الحديث، قاله أحمد، ونحوه قول ابن عدي: هو في جملة من يضع الحديث، وقول ابن حبان والحاكم: يروي الموضوعات عن الأثبات.
راوی مذکور کی روایت کا مقام تو اس کے متعلق ناقدین کے الفاظ مذکورہ سے خود متعین ہوجاتا ہے،لیکن مزید وضاحت کے لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ حضرات محدثین نے جرح وتعدیل کے الفاظ کی شدت وخفت کے پیش نظر ان کے مختلف درجات ومراتب متعین کئے ہیں۔۔۔۔
[راقم الحروف طارق کہتا ہے کہ حضرت جونپوری l مراتبِ جرح وتعدیل،نیز مراتبِ محدثین سے فارغ ہوکر لکھتے ہیں]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:۱۵ شعبان کا قیام اور روزہ مستحب ہے یا بدعت؟۲/۲۸۳- ۳۰۸۔
ملتی جلتی احادیث
۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔
۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
روایت: ’’جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے‘‘، یہ روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت کہ: ’’آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے‘‘،شدید ضعیف ہے۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔