التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

۴ - جزء روایت

×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.

یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: ایک مسئلہ دریافت [کذا في الأصل] ہے کہ میں نے ایک جید عالم سے سنا کہ حضرت آدم e نے جب یہ دعا کی کہ اے اللہ! تو میری خطا کو اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے وسیلہ سے بخش دے، دعا قبول ہو گئی، اللہ جل جلالہ نے فرمایا تم ان کا نام کیسے جانتے ہو؟ حضرت آدم e نے عرض کیا کہ جب میرے اندر روح پھونکی گئی تو لوح محفوظ میں ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا دیکھا۔

 میں نے تقریر میں اسے بیان کیا تو ایک اہل حدیث نے انکار کیا کہ یہ حدیث نہیں ہے، اس کا حوالہ کہاں ہے؟ احقر محمد عبد القیوم مظاہری، آمد خط بر حضرت شیخ مدظلہ۔

بندہ تو مراجعتِ کتب سے معذور ہے، آپ کا خط اپنے مدرسہ کے موجودہ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس صاحب کی خدمت میں بھیج رہا ہوں، وہ جواب لکھ کر روانہ کر یں گے۔حضرت شیخ (محمد زکریا) مدظلہ۔

جواب: حدیث مذکورعلامہ سیوطیl نے ’’كفاية اللبيب‘‘ (ص:۶/۱) میں لکھی ہے، فرماتے ہیں:

×أخرج الحاكم(ص:۶۱۵/۲) والبيهقي والطَبَرَانِي في الصغير (ص:۸۳/۲) وأبو نعيم وابن عساكر عن عمر بن الخطاب  رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما اقترف آدم الخطيئة قال: يا رب ! بحق محمد لما غفرت لي، قال: وكيف عرفت محمدا؟ قال لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي، فرأيت على قوائم العرش مكتوبا: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، قال: صدقت يا آدم! لولا محمد ما خلقتك اهـ÷ .

[(حضرت جونپوری l کی عبارت کا حاصل یہ ہے) حاکم l، بیہقی l، طبرانی l،نے ’’صغیر‘‘میں، ابو نعیم l، اور ابن عساکر l نے عمر بن خطاب r سے تخریج کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب آدم e سے خطاء صادر ہوگئی تو عرض کیا، اے پروردگار! بحق محمد، میری بخشش فرمادیجئے، اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ آپ، محمد کو کیسے جانتے ہیں؟ آدم e نے کہا: جب آپ نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی روح میں سے پھونکا تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا، نظر آیا کہ پایائے عرش پر لکھا ہے: لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ، میں جان گیا کہ آپ نے اپنی محبوب ترین مخلوق کا نام ہی اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے سچ کہا، اگر محمد نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا،اھ]

اس کے بعد یہ حدیث ’’معجم صغیر للطبرانی‘‘ میں مع السند والمتن ملی، ولفظه(ص:۲۰۶) (ص:۸۲/۲):

 ×حدثنا محمد بن داود بن أسلم الصَدَفِي المصري، ثنا أحمد بن سعيد المدني الفِهْرِي، ثنا عبد الله بن إسماعيل المدني، عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عمر بن الخطاب  رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما أذنب آدم الذنب الذي أذنبه رفع رأسه إلى العرش، فقال: أسئلك بحق محمد إلا غفرت لي، فأوحى الله إليه: ما محمد؟ ومن محمد؟ فقال: تبارك اسمك، لما خلقتني رفعت رأسي إلى عرشك، فإذا فيه مكتوب: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فعلمت أنه ليس أحد أعظم عندك قدرا ممن جعلت اسمه مع اسمك، فأوحى الله عزوجل إليه: يا آدم! إنه آخر النبيين من ذريتك، وإن أمته آخر الأمم من ذريتك، ولولاه يا آدم! ما خلقتك. قال الطَبَرَانِي: لا يروی إلا بهذا الإسناد، وتفرد به أحمد بن سعيد، انتهى.

وقال القَسْطَلاَّنِي في المواهب(ص:۶۲/۱، شرح): رواه البيهقي في دلائله من حديث عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، وقال: تفرد به عبد الرحمن. رواه الحاكم وصححه اهـ .

قلت: عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ضعيف، وقال الذهبي: إنه موضوع، وعبد الرحمن بن زيد بن أسلم واه، وعبد الله بن مسلم لا أدري من ذا [انتهى كلام الذهبي] .

وأخرجه الحاكم في المستدرك(ص:۱۱۵/۲) من طريق محمد بن إسحاق بن راهويه، قال ثنا أبو الحارث عبد الله بن مسلم الفِهْرِي، ثنا إسماعيل بن مسلمة، أنبأنا عبد الرحمن بن زيد إلى آخره. وعلم بذاك أنه وقع في إسناد الطَبَرَانِي سقط، وهو من الكاتب÷[1].

 [حضرت جونپوری l طبرانی l کی ’’معجم صغیر‘‘ سےروایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: طبرانی l نے کہا ہےکہ یہ روایت اسی سند سے مروی ہے، جس میں احمد بن سعید (نقلِ روایت میں) متفرد ہے، انتہیٰ۔

قَسْطَلاَّنی l نے ’’مواہب‘‘ میں لکھا ہے: بیہقی l نے ’’دلائل‘‘ میں یہ روایت عبد الرحمن بن زید بن اسلم کی سند سے تخریج کی ہے، (قَسْطَلاَّنی l فرماتے ہیں کہ) امام بیہقی l نے (نقلِ روایت کے بعد) فرمایا کہ (اس روایت کو نقل کرنے میں) عبد الرحمن متفرد ہے، (علامہ قَسْطَلاَّنی l مزیدفرماتے ہیں) حاکم l نے اسے تخریج کر کے صحیح کہا ہے۔

 میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے، اور ذہبی l نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے: یہ موضوع ہے، اور عبد الرحمن بن اسلم واہی ہے، اور(سند میں موجود راوی) عبد اللہ بن مسلم معلوم نہیں کون ہے؟

اس کے بعد حضرت جونپوری l نےطبرانی l کی سند میں موجود کاتب کی ایک غلطی کی طرف اشارہ فرمایا ہے]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: پیارے حبیب کے وسیلہ سے حضرت آدم u کا دعا کرنا،۱/۲۶۸،۲۶۹۔

[2] الیواقیت الغالیۃ:حدیث لولاک لما خلقت الافلاک،۲/۲۰۵،۲۰۳۔

[3] الیواقیت الغالیۃ:لولاك لما خلقت الأفلاك، کی تحقیق،۲/۲۰۸،۲۰۶۔

[4] الیواقیت الغالیۃ: لولاک لما خلقت الأفلاک کی تخریج،۲/ ۴۱۲،۴۱۱۔

[5] الیواقیت الغالیۃ:چند احادیث کا ثبوت،۲/۱۸۹،۱۹۴۔

[6] الیواقیت الغالیۃ: الصلوة معراج المؤمن، الخ،۲/۶۲ - ۶۶۔