روایت: ’’زمین سے اگنے والی ہر سبز گھاس میں ایک حکمت موجود ہے‘‘، یہ حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×كل عُشْبَة نابتة في الأرض فيها حكمة ثابتة÷. [ زمین سے اگنے والی ہر سبز گھاس میں ایک حکمت موجود ہے] کیا یہ حدیث ہے؟ ذوق تو اس کو حدیث تسلیم نہیں کرتا،مگر فیصلہ بغیر مراجعت وتحقیق کے کیسے کیا جاسکتا ہے ۔
جواب: ×كل عُشْبَة نابتة÷ حدیث نہیں ہے، صحاح ومسانید تو بڑی چیزیں ہیں اس کا ذکر تو موضوعات میں بھی نہیں ہے، یہ کسی حکیم کا قول ہے، اپنے پاس موجودہ کتابوں میں اس کے متعلق کچھ نظر سے نہیں گذرا،مگر معنی صحیح ہے، تمام مخلوقات خداوندی میں حکیم مطلق کی حکمت پوشیدہ ہے، ورنہ نعوذ باللہ لازم آئے گا کہ فعل الباری لغوو بے حکمت ہو، حالانکہ مشہور ہے: ×فعل الحکیم لایخلو عن الحکمة، انتهى، فكيف بالحكيم المطلق÷؟‘‘ [حکیم کا کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا انتہیٰ، تو پھر حکیم مطلق کے کاموں کا کیا کہنا ؟][1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: کل عشبة نابتة فی الأرض الخ، حدیث ہے؟۱/۲۹۶،۲۹۵۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
روایت: ’’اللہ تعالیٰ زمین والوں پر عذاب بھیجنے کا ارادہ فرماتے ہیں، پھر جب بچوں کی قرآنی تعلیم کو سنتے ہیں تو عذاب کو ہٹالیتے ہیں‘‘، یہ روایت کہیں نہیں ملی۔
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔