التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔

تفصیل

’’سوال: ×إدخال السرور في قلب مؤمن خير من عبادة ستين سنة÷. [مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے]

جواب:  یہ حدیث بایں لفظ تو اب تک نہیں ملی، ہاں! ×إدخال السرور في قلب المسلم÷ [مؤمن کے دل کو خوش کرنے ] کی روایتیں کتبِ حدیث میں وارد ہیں، امام زکی الدین المنذری l نے ’’الترغیب‘‘ میں (ص: ۱۴۶/۲)، اور علی متقیl نے ’’منتخب الکنز‘‘ (ص:۵۳۰/۲)، اور عراقی l نے ’’تخریج احیاء‘‘ میں، اور نور الدین الہیثمیlنے ’’مجمع الزوائد‘‘ (ص:۱۹۳) میں، ×إدخال السرور على المسلم÷ کی فضیلت کی متعدد حدیثیں ذکر کی ہیں، لیکن کسی حدیث میں اس حدیثِ مسئول کا مضمون نہیں ملا، غالباً یہ مضمون ایک حدیث سے ماخوذ ہے، جسے المنذری lنے ’’الترغیب فی اطعام الطعام‘‘ [کھانا کھلانے کی ترغیب میں](ص:۶۵/۲) بحوالہ ابن حبان، ابوذر r سے روایت کیا ۔

×قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تعبد عابد من بنی إسرائيل، فعبد الله في صَوْمَعَتِه ستين عاما، وأمطرت الأرض فاخضرّت، فأشرف الراهب من صَوْمَعَتِه فقال: لونزلت فذكرت الله فازددت خيرا، فنزل ومعه رغيف أو رغيفان، فبينما هو في الأرض لقيته امرأة، فلم يزل يكلمها وتكلمه حتى غشيها، ثم أغمي عليه فنزل الغدير يستحمّ، فجاء سائل، فأوما إليه أن يأخذ الرغيفين، ثم مات، فوزنت عبادة ستين سنة بتلك الزنية، فرجحت الزنية بحسناته، ثم وضع الرغيف أو الرغيفان مع حسناته فرجحت حسناته فغفرله÷. رواه ابن حِبَّان فی صحيحه}[1].

[آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص تھا جس نے اپنے گرجے میں ساٹھ سال اللہ کی عبادت کی تھی، (ایک دفعہ) بارش ہوئی اور اس سے زمین خوب زرخیز ہوگئی، راہب نے گرجے سے یہ منظر دیکھا تو سوچا کہ اگر وہ نیچے آکر اللہ کا ذکر کرے تو وہ خیر میں آگے بڑھ جائے گا، سو وہ نیچے آگیا، اس کے پاس ایک، دو چپاتیاں تھیں، زمین پر چلتے چلتے ایک عورت سے ملاقات ہوگئی، اس سے باتوں میں مشغول ہوگیا، عورت بھی اس سے گفتگو کرنے لگی، حتیٰ کہ یہ شخص اس عورت کے ساتھ مبتلاء ہوگیا، پھر اس پر غشی طاری ہوگئی، (ہوش آنے پر)ایک تالاب میں نہانے کے لئے اترا تو ایک سائل آگیا، اس نے اشارے سے کہا کہ یہ دونوں چپاتیاں لے لو، پھر یہ شخص خود مرگیا، اس کی ساٹھ  سالہ عبادت کا اس زنا سے موازنہ کیا گیا تو زنا اس کی نیکوں پر غالب ہوگیا، اس کے بعد اس کی ایک یا دو چپاتیاں نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں تو اس کی نیکیاں غالب ہوگئیں، بالآخر اس کی بخشش کردی گئی۔ اسے ابن حبان l نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں تخریج کیا ہے]

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: ۱۹، احادیث کی تحقیق،۲/۱۲۵۔