التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔

تفصیل

’’سوال:  ×سؤر المؤمن شفاء÷. [مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے]

جواب:  یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے :

×ففي الصحيحين أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى الإنسان الشيء أو كانت به قَرْحَة أو جرح، قال بإصبعه هكذا - يعني وضع سبابته الأرض ثم رفعها - وقال: بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفی سقيمنا بإذن ربنا÷[1]‘‘.

[کیونکہ صحیحین میں ہے کہ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے کسی  تکلیف کا اظہار کرتا یا اسے کوئی پھوڑا یا زخم ہوتا تو آپ ﷺ اپنی انگلی سےاس طرح کرتے، یعنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھ کر پھر اسے اٹھاتے،اور فرماتے: ×بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفی سقيمنا بإذن ربنا÷].

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: ۱۹، احادیث کی تحقیق،۲/۱۲۷،۱۲۸۔

ملاعلی قاری l ’’المصنوع‘‘(ص:۱۰۶،رقم:۱۴۴)میں فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل مرفوع روایت میں نہیں ہے، علامہ نجم الدین غزی  l ’’اتقان ما یحسن‘‘ (ص:۲۳۵، رقم:۹۱۵) میں اور علامہ احمد بن عبدالکریم l ’’الجدالحثیث‘‘ (ص:۱۱۶، رقم:۲۰۳) میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث نہیں ہے، علامہ محمد امیر مالکیl ’’النخبۃ البہیۃ ‘‘ (رقم:۱۳۷) میں لکھتے ہیں کہ ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث میں نہیں ہے۔

فائدہ:  روایت کی مزید تفصیل جاننے کے لئے دیکھئے : غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ :حصہ اول، ص:۳۳۸ ۔