من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
تفصیل
”۔۔۔ کوئی ”قصہ ماہ رمضان “ پڑھتی ہے کوئی ”معجزہ آل نبی “ پڑھتی ہے، بلکہ آج کل عورتوں کی انتہائی تعلیم یہی کتابیں رہ گئی ہیں، ایک شخص سے کسی نے پوچھا کہ تم نے کہاں تک پڑھا ہے ؟ تو کہا میں نے ”سب کچھ “ پڑھا ہے : ”معراج نامہ“ میں نے پڑھا ہے، ”معجزہ آل نبی“ میں نے پڑھا، ”نور نامہ“ میں نے پڑھا ہے، ”ساپن نامہ“ میں نے پڑھا، اس کا نام ”سب کچھ “ رکھا ہے ۔
صاحبو!.یہ کتابیں سب موضوعات ہیں، لکھنے والا گنہگار ہوا ہی، پڑھنے والا بھی گنہگار ہو تا ہے، اور ان کا شائع کر نا اور چھاپنا بھی گناہ ہے، مطبع والوں نے آج کل یہ حیلہ تراش لیا ہے کہ ہم تو اپنی محنت کے دام لیتے ہیں، راست ودروغ بر گر دنِ راوی [صحیح وغلط راوی کے ذمہ ہے]، مصنف اپنی تصنیف کا خود ذمہ دار ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی باغی کی کوئی تصنیف کردہ کتاب یا اشتہار بھی چھاپئے، اور اگر عدالت میں یہ جواب طلب ہو تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تو اپنی محنت کی اجرت لی ہے، راست و دروغ بر گر دنِ راوی، مصنف سے جواب طلب کیا جائے ذرا میں دیکھوں کہ یہ جواب دیکھ کر مطبع والے چھوٹ جائیں گے یا نہیں؟!
جب ایک دنیا کے حاکم سے نہیں چھوٹ سکتے تو حکم حقیقی سے تو چھوٹنا معلوم [كذا في الأصل]، بیبیو! کیا دنیا میں یہ موضوعات ہی کی کتابیں رہ گئی ہیں، کتابیں اچھی اور صحیح بھی تو بہت ہیں، اور اتنی موجود ہیں کہ تمام عمر بھی پڑھو تو ختم نہ ہوں، دین کی خدمت بحمد اللہ علماء نے اتنی کر دی ہے کہ کافی سے بھی زیادہ کتابیں موجود ہیں، ”بہشتی زیور“ پڑھئے، بزرگوں کی حکایتیں پڑھئے“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : شاعر مر فوع القلم ، ۲۶/۳۱۷ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
وصیت نامہ شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ، محض کسی کا تراشیدہ ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔