حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
تفصیل
اصلاحِ معاشرہ میں حضرت حکیم الامت l کی شخصیت کی ہمہ گیری کا اندازہ مولانا سید سلیمان ندوی l کے ان الفاظ سے کیا جاسکتا ہے:
”اصلاحِ امت
کی کوشش میں علمی و عملی زندگی کے ہر گوشے پر ان کی نظر تھی۔
بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، عورتوں سے لے کر مردوں تک، جاہلوں سے لے کر عالموں تک، عامیوں
سے لے کر صوفیوں تک، درویشوں اور زاہدوں تک، غریبوں سے لے کر امیروں تک، ان کی نظر
مصروفِ اصلاح و تربیت رہی۔ پیدائش، شادی بیاہ، غمی اور دوسری تقریبوں اور اجتماعوں تک کے احوال
پر ان کی نظر پڑی، اور شریعت کے معیار پر جانچ کر ہر ایک کا کھرا کھوٹا الگ کیا۔ رسوم و بدعات
اور مفاسد کے ہر ایک روڑے اور پتھر کو ہٹا کر صراط ِمستقیم کی راہ دکھائی۔
تبلیغ، تعلیم، سیاست، معاشرت، اخلاق وعادات اور عقائد میں دین خالص کے معیار سے جہاں کوتاہی نظر آئی اس کی اصلاح کی۔فقہ کے نئے نئے مسائل اور مسلمانوں کی نئی نئی ضرورتوں کے متعلق اپنے نزدیک پورا سامان مہیا کر دیا، اور خصوصیت کے ساتھ احسان و سلوک کی ، جس کا مشہور نام تصوف ہے، تجدید فرمائی۔
ان کے سامنے دین کی صحیح تِمثَال تھی، اسی کے مطابق مسلمانوں کی موجودہ زندگی کی تصویر میں جہاں جہاں نقائص تھے ان کے درست کرنے میں عمر بھر مشغول رہے۔انھوں نے اپنی زندگی اس میں صرف کر دی کہ مسلمانوں کی تصویر حیات کو اس کی شبیہ کے مطابق بنا دیں جو دین حق کے مرقّع میں نظر آتی ہے“[1]۔
حضرت حکیم الامت l جامع کمالات تھے، آپ کی ذاتِ والا میں ایک جہاں آباد تھا، آپ کا فیض بحر بےکراں تھا، مولانا سید سلیمان ندوی l کے یہ جملے اس حقیقت کے کس قدر عکّاس ہیں:
”حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی l کے علمی ودینی فیوض وبرکات اس قدر مختلف الانواع ہیں کہ ان سب کا احاطہ ایک مختصر سے مضمون سے نہیں ہوسکتا، اور یہی ان کی جامعیت ہے جو ان کے اَوصاف ومحامد میں سب سے اول نظر آتی ہے۔
وہ قرآن پاک کے مترجم ہیں، مجوّد ہیں، مفسر ہیں، اس کے علوم وحکم کے شارح ہیں، اس کے شکوک وشبہات کے جواب دینے والے ہیں، وہ محدث ہیں، احادیث کے اَسرار ونِکات کے ظاہر کرنے والے ہیں، وہ فقیہ ہیں، ہزاروں فقہی مسائل کے جوابات لکھے ہیں، نئے سوالوں کو حل کیا ہے، نئی چیزوں کے متعلق انتہائی احتیاطوں کے ساتھ فتوے دیئے ہیں، وہ خطیب تھے، خُطَبِ ماثورہ کو یکجا کیا ہے، وہ واعظ تھے، ان کے سینکڑوں وعظ چھپ کر عام ہوچکے ہیں، وہ صوفی تھے، تصوف کے اَسرار وغوامض کو فاش کیا ہے، شریعت وطریقت کی ایک مدت کی جنگ کا خاتمہ کرکے دونوں کو ایک دوسرے سے ہم آغوش کیا ہے۔
ان کی مجلسوں میں علم ومعرفت اور دین وحکمت کے موتی بکھیرے
جاتے تھے،
اور یہ موتی جن گنجینوں میں محفوظ ہیں وہ ملفوظات
ہیں، جن کی تعداد بیسیوں تک پہنچ چکی ہے، وہ مرشد کامل تھے، ہزاروں مسترشد ومستفید
ان کے سامنے اپنے احوال و وَارْدَات پیش کرتے
تھے، اور ان کے تسکین بخش جوابات دیتے اور ہدایات کرتے تھے، جن کا مجموعہ ”تربیت السالک“ہے۔
انہوں نے بزرگوں کے احوال وکمالات کو یکجاکیا اور اس ذخیرہ سے سب کو آشنا کیا، ان کی متعدد کتابیں اس مضمون پر ہیں، انہوں نے حضراتِ چشت کے احوال واقوال میں سے بظاہر اعتراض کے قابل باتوں کی حقیقت ظاہر کی اور ان کی تاویلات کیں، ان کی کتابوں کے خلاصے اقتباسات اور تسہیلات ان سے الگ ہیں، جن کی ترتیب ان کے مسترشدین نے کی ہے، وہ مصلح امت تھے، امت کے سینکڑوں معائب کی اصلاح کی، رسوم وبدعات کی تردید، اور اصلاحِ رسوم اور انقلاب ِحال پر متعدد تصانیف کیں، وہ حکیم الامت تھے، مسلمانوں کے علاج اور نَشْاۃ واِحیاء پر ”حیٰوۃ المسلمین“وغیرہ رسائل تالیف فرمائے، غرض ان کی زندگی میں مسلمانوں کی شاید کوئی مذہبی ضرورت ہوگی، جس کا مُدَاوا اس حکیم الامت l نے اپنی زبان اور قلم سے نہیں فرمایا اور جس کی وسعت کا اندازہ تحقیق اور مطالعہ کے بعد ہی نظر آسکتا ہے“[2]۔
حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی صاحب l تصانیف الامت l کے فیضان کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حضرت والا قدس سرہٗ العزیز کی تصانیف کثیرہ، تفسیر و احادیث اور فقہ و تصوف پر مشتمل ہیں، اور ملفوظات و مواعظ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ دورِ حاضر کے خاص دینی علوم و فنون کے مبصروں نے حضرت کے دینی کارناموں کے پیش نظر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حضرت اقدس اس عہد کے مجددِ ملت، حکیم الامت و حجۃ اللہ فی الارض تھے، چنانچہ اظہر من الشمس ہے کہ خواص و عوام کے لیے، علماء و صلحاء کے لیے، طالبین وسالکین کے لیے مفید وکارآمد اور بصیرت افروز اعجازی و الہامی مضامین مدتوں تک من جانب اللہ حضرت والا کے قلم و زبان سے جاری رہے، شریعت و طریقت کے دقائق کی تشریح و وضاحت ہوتی رہی، الحمد للہ علی ٰ ذلک۔
مسلمانوں کےلیے دین و دنیا کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس پر حضرت والا کی سیر حاصل مستند و معتبر تصانیف اور مواعظ و ملفوظات نہ ہوں، نصائح و وصایا کا بھی نہایت جامع ونافع مکمل دستور العمل مرتب فرما دیا ہے، خود بھی بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ:
”بحمداللہ وبفضلہ تعالیٰ سب ضروری کام ہو گیا ہے، صدیوں تک کےلیے دین کا راستہ بے غبار ہو گیا ہے، آئندہ نسلوں کے لیے ان شاء اللہ تعالیٰ میری ہی تصانیف، ملفوظات و مواعظ سے کام چلتا رہے گا، یہ سب حضرت حاجی صاحب قدس سرہٗ کا فیض و برکت ہے“[3]۔
بلاشبہ آپ کی تصنیفات علوم کے دفینے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں، آپ کی بابرکت تحریروں سے مختلف انداز سے فوائد چنے جاتےرہےہیں، اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔
حضرت حکیم الامت l کی تصنیفی خدمات، مولانا سید سلیمان ندوی l کے قلم سے ملاحظہ ہو:
”ان کی تصنیفات ہندوستان کے پورے طول وعرض میں پھیلیں اور ہزاروں مسلمانوں کی اصلاح وفلاح کا باعث ہوئیں، اردو اور عربی کے علاوہ مسلمانوں نے اپنے ذوق سے ان کی متعدد تصانیف کا ترجمہ غیر زبانوں میں بھی کیا، چنانچہ ان کی متعدد کتابوں کے ترجمے انگریزی، بنگالی، گجراتی، اور سندھی میں شائع ہوئے۔
ان کی تصانیف کی تعداد جن میں چھوٹے بڑے رسائل اور ضخیم تصانیف سب داخل ہیں، آٹھ سو کے قریب ہیں، ۱۳۵۴ھ میں ان کے ایک خادم مولوی عبد الحق فتحپوری l نے ان کی تصانیف کی ایک فہرست شائع کی تھی جو بڑی تقطیع کے پورے ۸۶ صفحوں کو محیط ہے، اس کے بعد کے نو برسوں میں جو رسائل یا تصانیف ترتیب پائیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ہر صدی کا مجدد اپنی صدی کے کمالات کا اعلیٰ نمونہ ہوتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو یہ صدی جو مطبوعات ومنشورات کے کمالات سے مَمْلُوّ ہے اور جس کا اہم کارنامہ خواہ حق کے اثبات واظہار میں ہو یا باطل کی نشر واشاعت میں، پریس اور مطبع ہی کے برکات ہیں، زبان وقلم اس صدی کے مبلغ ہیں، اور رسائل ومنشورات دعوت کے صحیفے ہیں، اس بنا پر مناسب تھا کہ اس صدی کے مجدد کے کرامات بھی ان ہی کمالات میں جلوہ گر ہو ۔
علمائے اسلام میں ایسے بزرگوں کی کمی نہیں، جن کی تصانیف کے اوراق اگر ان کی زندگی کے ایام پر بانٹ دیئے جائیں تو اوراق کی تعداد زندگی کے ایام پر فوقیت لے جائے، امام جریرطبری l [كذا في الأصل]، حافظ خطیب بغدادی l ، امام رازی l ، حافظ ابن جوزی l ، حافظ سیوطی l وغیرہ متعدد نام اس سلسلہ میں لئے جا سکتے ہیں، ہندوستان میں مولانا ابو الحسنات عبد الحی فرنگی محلی l اور نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کے نام بھی اس سلسلہ میں داخل ہیں، اس سلسلہ کا اخیر نام حضرت مولانا تھانوی علیہ الرحمۃ کا ہے“[4]۔
علوم الحدیث، خصوصاً فن سلوک و احادیث نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کے مابین تصوراتی خلیج کو چاک کرنے کا کارنامہ، حضرت حکیم الامت کے مجدد ہونے پر حجت قاطع ہے، چنانچہ مولانا سید سلیمان ندوی l مزید لکھتے ہیں:
”حضرت حکیم الامت l کو علوم الحدیث میں جو مہارت حاصل تھی، اس کی شہادت ان کے مواعظ ورسائل اور تالیفات کے ہزاروں صفحات دے رہے ہیں، جن میں بے شمار احادیث کے حوالے، اشارے اور تلخیصات، ان کے مشکلات کی شرح، ان کے دقیق مطالب کے حل اور ان کے نِکات ولطائف کا بیان ہے، خصوصیت کے ساتھ شیخ کے مواعظ میں جو زبانی تقریریں ہیں، برمحل حدیثوں کے حوالے اور اکثر احادیث کے بعینہ الفاظ مع ان کی تخریجات اور کتابوں کے حوالے،اس کثرت سے ہیں کہ ان کو دیکھ کر کسی انصاف پسند کو ان کے حافظ الحدیث ہونے میں شبہ نہیں ہوسکتا۔
اس کے بعد ان کی ان تصانیف کو لیجئے جو گو فقہ وفتاویٰ اور احکام ومسائل یا اصلاحِ رسوم اور سلوک میں ہیں، لیکن ان کی بنیاد احادیث پر ہے، ان میں احادیث کے حوالے دلائل کی مضبوطی اور صحت بیان کی تائید وشہادت کےلئے آئے ہیں، جو مؤلف کے علم ومعرفت پر دلیل قاطع ہیں۔
حضرت حکیم الامت l کو فن سلوک کی تجدید کی جو توفیق عنایت ہوئی تھی، اس کا ایک مبارک اثر یہ ہے کہ حضرت نے احادیث کی کتابوں سے ان تمام حدیثوں کو یکجا فرمایا، جن میں اس فن شریف کے مسائل متفرق تھے، اگر چہ بعض حضرات محدثین نے اپنی کتابوں میں بعض ابوابِ زہد ورِقاق کا تذکرہ کیا ہے، تاہم ان کی حیثیت فن کی نہیں، قدماء میں سے صرف ایک بزرگ حضرت امام عبد اللہ بن مبارک l المتوفی ۱۸۱ھ کا نام ہم کو معلوم ہے، انہوں نے ” کتاب الزہد والرقاق“ کے نام سے مستقل تصنیف فرمائی ہے، مگر یہ ہیچمدان اس کی زیارت سے محروم رہا ہے، اس لئے اس کی نسبت کچھ عرض نہیں کر سکتا، مگر قیاس یہ ہے کہ وہ ابن ابی الدنیا l کی کتاب کی طرح زہد ورِقاق اور مذمتِ دنیا کے مضامین کی احادیث پر مبنی ہوگی۔
اہل سلوک نے جن روایات احادیث سے کام لیا ہے، وہ عموماً ضعیف بلکہ موضوع تک ہیں، اسی لئے علماءِ سلوک کو اس فن میں کمزور سمجھا گیا ہے اور اسی بنا پر اہل حدیث وروایت نے یہ برخود غلط خیال قائم کرلیا ہے کہ فن سلوک اور اس کے مسائل احادیث نبوی ﷺ سے ثابت نہیں، اور صدیوں سے ان کا یہ اعتراض قائم تھا، گو بعض محدثین نے ادھر توجہ فرمائی اور اس سلسلہ میں کچھ کام انجام دیا، مثلاً امام ابن ابی جمرہ اندلسی l المتوفی ۶۹۹ھ نے ”صحیح بخاری“ کی شرح ”بہجۃ النفوس “ کے نام سے لکھی جس کی پہلی جلد چھپ کر شائع ہوچکی ہے، اس میں اس کا التزام کیا ہے کہ احادیث کی شرح میں سلوک کے مسائل ونکات کی طرف بھی اشارے کرتے جائیں، حضرت حکیم الامت l نے اس کام کو مستقل طور سے انجام دیا اور ”حقیقۃ الطریقہ من السنۃ الانیقہ“، ”التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف“ کے نام سے دو کتابیں تالیف کیں۔
(۱) حقیقۃ الطریقۃ: ۱۳۲۷ھ میں تالیف فرمائی ہے اور یہ درحقیقت حضرت کی کتاب ”التکشف بمہمات التصوف“ کا آخری جزو ہے اور ساتھ ہی مستقل تصنیف بھی ہے، اس میں تین سو احادیث جو عموماً صحاح میں مذکور ہیں، سلوک وتصوف کےمسائل کو مستنبظ کیا گیا ہے اور ان کو اخلاق، احوال، اشغال، تعلیمات، علامات، فضائل، عادات، رسوم،مسائل، اقوال، توجیہات، اصلاح اور متفرقات کے دس ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے، یہ اہل ِ علم کے مطالعہ کی خاص چیز ہے۔
(۲) التشرف: یہ کتاب چار حصوں میں ہے، ان میں ان احادیث کی تحقیق ہے، جو تصوف کی کتابوں میں یا صوفیہ کے کلام میں آتی ہیں، اور یہ دکھایا ہے کہ اصول وفن حدیث کی رو سے یہ حدیث کس درجہ کی ہے اور حدیث کی کس کتاب میں ہے، اور جو روایات ان میں دراصل حدیث نہ تھیں، بلکہ عوام نے غلط فہمی سے ان کوحدیث سمجھ رکھا ہے اگر وہ اقوال نتیجہ کے طور پر کسی دوسری حدیث یا آیتِ پاک سے ثابت ہیں تو ان احادیث وآیات اور اُن سے اُن اقوال کی صحت کے طریق واستنباط پر گفتگو فرمائی۔
حصہ اول”التشرف“ میں امام غزالی l کی ”احیاء العلوم“ کی احادیث کی تخریج ہے، اس حصہ کا مآخذ زیادہ تر امام غزالی l کی تخریج احیاء العلوم ہے جس کا حوالہ دیا گیا ہے، اور اس کے علاوہ احادیث کی دوسری کتابیں ہیں، جن کا ماخذ ہر روایت کے ساتھ بتایا گیا ہے، یہ حصہ ۱۳۴۱ھ میں لکھا گیا ہے ۔
حصہ دوم میں دفتر اول ”مثنوی مولانا روم l“ اور اس کی شرح ”کلید مثنوی“ میں آئی ہوئی احادیث وروایات کی تخریج کی گئی ہے، ان احادیث کی تحقیقات زیادہ تر امام سخاوی l کی ”المقاصد الحسنۃ“ سے التقاط کی گئی ہیں، یہ حصہ ۱۳۴۹ھ میں زیر ِقلم آیا۔
حصہ سوم وچہارم، ان دونوں حصوں میں حافظ سیوطی l کی ”جامع صغیر“سے، جو احادیث کی ساری کتابوں کا بہ ترتیب حروف تہجی ترتیب دیا گیا ہے، ساتھ ہی تحقیقات ِ خاصہ کا جابجا اضافہ اور احادیث کے مطالب کی تشریح وتطبیق اور بعض مشکلات کا حل کیا گیا ہے، حصہ سوم صرف الف کی روایتوں پر مشتمل ہے اور ۱۳۵۰ھ میں ترتیب پایا ہے، اور حصہ چہارم میں بقیہ حروف کی روایتیں ہیں اور وہ محرم ۱۳۵۳ھ میں تکمیل کو پہنچا ہے“[5]۔
حضرت حکیم الامت l کی حدیثی خدمات میں”اعلاء السنن“ آب ِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب l تحریر فرماتے ہیں:
”۱۳۳۰ھ میں آپ کو دلائل حدیثیہ للحنفیہ کے جمع کرنے کا خیال پیدا ہوا تو ”جامع الآثار“ اور ”تابع الآثار“ دو رسالے تصنیف فرمائے، جن میں ”ابواب الصلوۃ“ تک وہ حدیثیں جمع کی گئیں جو حنفیہ کی دلیل ہیں، پھر تمام ابواب کے دلائل کا استیعاب کرنا چاہا اور ”احیاء السنن“کے نام سےضخیم کتاب ”ابواب الحج“ تک تالیف فرمائی، مگر جس عالم کو اس پر نظر ثانی کے لیے متعین کیا گیا تھا، اس نے اپنی رائے سے اس میں اس قدر ترمیم وتنسیخ کردی کہ مولانا کی تصنیف باقی نہ رہی، بلکہ مستقل کتاب ہوگئی، اس لیے اس کی اشاعت ملتوی کردی گئی، اور حضرت کے منشاء کے موافق دوبارہ اس مہم کام کو انجام دیا گیا، پندرہ سال سے کچھ زیادہ مدّت میں ”ابواب الصلوۃ “سے ”ابواب المیراث“ تک جملہ ابواب ِ فقہیہ کے دلائلِ احکام، حدیث سے جمع کر دیئے گئے۔
یہ کتاب جس کا نام ”اعلاء السنن “ہے، بیس جلدوں میں تمام ہوئی ہے، ابتداء کی آٹھ جلدیں حرفاً حرفاً حضرت حکیم الامۃ l کی نظر سے گزرچکی ہیں، بقیہ جلدوں میں مشکل اور مہم مقامات حضرت کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، حضرت حکیم الامۃ l کو اس کتاب کی تکمیل سے جس قدر مسرت ہوئی ہے اس کو لفظوں سے بیان نہیں کیا جاسکتا، فرماتے تھے کہ اگر خانقاہ امدادیہ میں ”اعلاء السنن“ کے سوا اور کوئی کتاب بھی تصنیف نہ ہوتی تو یہی کارنامہ اس کا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کی نظیر نہیں مل سکتی، اس میں صرف حنفیہ ہی کے دلائل حدیثیہ نہیں، بلکہ متن کتاب میں احادیث ِ مویدۂ حنفیہ ہیں اور حواشی میں بڑی تحقیق اور تفتیش سے جملہ احادیث احکام کے استیعاب کی کوشش کی گئی ہے، پھر غایتِ انصاف کے ساتھ محدثانہ وفقیہانہ اصول سے جملہ احادیث پر کلام کیا گیا ہے۔
کوشش کی گئی ہے کہ ہر مسئلہ مختلف فیہا میں حنفیہ کے سب اقوال کو تلاش کیا جائے، پھر جو قول حدیث کے موافق ہو اسی کو مذہب ِ حنفی قرار دیا گیا، تحقیق کامل کے بعد پورے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ جس مسئلہ میں حنفیہ کا ایک قول حدیث کے خلاف ہوگا تو دوسرا قول حدیث کے موافق ضرور ہوگا، یاکوئی حدیث یا آثارِ صحابہ ان کے قول کی تائید میں ہوں گے ۔
آپ کو حیرت ہوگی کہ ”مسئلہ مصراۃ “ میں بھی امام ابو حنیفہ l کا ایک قول حدیث صحیح کے بالکل موافق ہے، جس کوعلامہ ابن حزم l نے ”محلی“ میں روایت کیا ہے، ”اعلاء السنن“ میں تقلید جامد سے کام نہیں لیا گیا، بلکہ تحقیق فی التقلید سے کام لیا گیا ہے، جس مسئلہ میں حنفیہ کی دلیل کمزور تھی وہاں صاف طور سے ضعفِ دلیل کا اعتراف کیا گیا اور دوسرے مذاہب کی قوت کو تسلیم کیا گیا ہے“[6]۔
ہم اس فصل کو علامہ زاہد الکوثری l کے ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں جو انھوں نے ”اعلاء السنن“ کو دیکھ کر بے ساختہ کہے ہیں:
{والحق يقال، إني دهشت من هذا الجمع، وهذا الاستقصاء، ومن هذا الاستيفاء البالغ في الكلام على كل حديث بما تقضي به الصناعة متنا وسندا، من غير أن يبدو عليه آثار التكلف في تائيد مذهبه، بل الإنصاف رائده عند الكلام على آراء أهل المذاهب، فاغتبطت به غاية الاغتباط، وهذا تكون همة الرجال وصبر الأبطال، أطال الله بقائه في خير وعافية، ووفقه لتاليف أمثاله من المولفات النافعة}.
حق بات کہنا پڑتی ہے، میں تو اس طرح حدیثوں کے جمع کرنے، تلاش کرنے اور پوری طرح ہر حدیث کے متن وسند پر فن حدیث کے موافق مفصّل کلام کرنے سے حیرت میں رہ گیا، پھر خوبی یہ ہے کہ اپنے مذہب کی تائید میں تکلّف کے آثار کا نام ونشان نہیں، بلکہ مذاہب کی رایوں پر انصاف کو امام بنا کر کلام کیا گیا ہے، مجھے اس کتاب سے بے انتہا خوشی ہوئی، ہمتِ مردانہ اسے ہی کہتے ہیں، اور بہادروں کا استقلال ایسا ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ مؤلف کو خیر وعافیت کے ساتھ تا دیر سلامت رکھے اور اس جیسی اور نافع تالیفات کی توفیق دے (آمین)[7]۔
حوالہ جات
[1] حضرت تھانوی ؒ کے پسندیدہ واقعات:مؤلف ابولحسن اعظمی، ص : ۲۲ ، مکتبۃ العلم، لاہور ۔
[2] ماہنامہ الحسن، اشاعت خاص بیاد حکیم الامۃ
مجدد الملۃ حضرت مولانا اشرف علی
تھانوی ؒ: ص:۱۱۴، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
[3] ماہنامہ
الحسن، اشاعت خاص بیاد حکیم الامۃ مجدد
الملۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ:
ص:۱۳۸، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
[4] ماہنامہ الحسن، اشاعت
خاص بیاد حکیم الامۃ مجدد الملۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ: ص:۱۱۵، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
[5] ماہنامہ الحسن، اشاعت خاص بیاد
حکیم الامۃ مجدد الملۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ: ص:۱۲۴، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
[6] ماہنامہ الحسن، اشاعت خاص بیاد حکیم الامۃ
مجدد الملۃ حضرت مولانا اشرف علی
تھانویؒ: ص:۲۳۷، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
[7] ماہنامہ الحسن، اشاعت
خاص بیاد حکیم الامۃ مجدد الملۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ: ص:240، جامعہ
اشرفیہ، لاہور۔
ملتی جلتی احادیث
مقدمہ
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
وصیت نامہ شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ، محض کسی کا تراشیدہ ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
آج کل واعظین کا مزاج وہی ہے جو یہود کا مذاق تھا، ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو عوام کو حیرت میں ڈال دیں۔