جمعہ کا حج ”حج اکبر “ سے مشہور ہے، یہ محض بے اصل ہے، البتہ حج یومِ جمعہ کی فضیلت کا انکار نہیں۔
تفصیل
”۔۔۔ عوام الناس میں جمعہ کے روز کے حج کا لقب ”حج اکبر “ مشہور ہے، سو یہ شریعت میں لفظی تحریف کرنا ہے، کیونکہ اطلاقاتِ شرعیہ میں ”حج اکبر“ مطلق حج کو کہتے ہیں، اس عمرہ سے ممتاز کرنے کےلئے جس کو ”حج اصغر“ کہتے ہیں، اور قرآن مجید میں جو شروع سورۂ براءت میں (يوم الحج الأكبر) آیا ہے وہاں یہی تفسیر ہے، اب اس اصطلاحِ مخترع سے احتمال ہے تفسیر میں غلطی کا، اور عوام اس کے اہتمام میں بہت غلو کر تے ہیں، یہ شریعت میں تحریفِ معنوی یعنی بدعت ہے، البتہ حج یومِ جمعہ کی فضیلت کا انکار نہیں، ایک بڑی فضیلت یہی ہے کہ حضور ﷺ کا حج جمعہ کے روز واقع ہوا تھا، مگر عوام کی زیادات، یہ محض بے اصل ہیں “[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : حج اکبر کیا ہے ؟ ۱۷/۳۶۲ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ”فتح الباری“(۸/۲۷۰)میں اس روایت کے ”عدمِ معرفت“ کا اظہار کیا ہے،نیز علامہ ابن قیم الجوزیہ ؒ نے ”زاد المعاد“ (۱/۶۵)میں،اور علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری ؒ نے ”تحفۃ الاحوذی“(۴/۳۱)میں اس روایت کو ”بے اصل“ کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
حکایت کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ نہ رکھیں، کیونکہ یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا، یہ بھی محض بے اصل ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
کتاب ”شرح محمدی “ میں موجود دفعِ وبا کے اس عمل کی کوئی اصل نہیں ہے۔