التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔

تفصیل

سوال (۲۴۲) کیافرماتےعلمائے دین اس صورت میں کہ جس وقت مؤذن اقامت میں أشهد أنّ محمدا رسول الله بولےتو سننے والا دونوں انگوٹھوں کو چوم کر دونوں آنکھوں پر رکھے یا نہیں، اگر رکھناہے تو آیا جائز، آیا مستحب، آیا واجب، آیا فرض ہے، اورجوشخص اس  کا مانع ہووے اس کا کیاحکم ہے، اور اگر نہیں  رکھنا ہے تو آیا مکروہ تحریمہ، آیا حرام ہے؟ اورمرتکب اس فعل کا ہووے اور اس کاجوحکم کرے اس کا  کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔

جدید یہ کہ اذان پر قیاس کرکے تحریرنہ فرماویں، بلکہ درصورت ِجواز یا عدم   جواز  کسی  معتبر  سے   عبارت   نقل   کرکے  تحریر فرمادیں ؟

الجواب: اول تو اذان ہی میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، اورجو کچھ بعضے لوگوں نے اس بارہ میں روایت کیا ہے وہ محققین کے نزدیک ثابت نہیں، چنانچہ شامی l بعد نقل عبارت کے لکھتے ہیں : {وذکر ذلك الجَرَّاحِي [أي: إسماعيل العجلوني] وأطال، ثم قال: ولم یصح في المرفوع من کل هذا شيء} انتهى. جلد اول،ص: ۲۶۷،  مگراقامت میں کوئی ٹوٹی پھوٹی روایت بھی موجودنہیں،پس اقامت میں انگوٹھے چومنا اذان کے وقت چومنےسے بھی زیادہ بدعت اور بے اصل ہے،اسی واسطے فقہاء نے اس کابالکل انکار کیاہے، یہ عبارت شامی l کی ہے: {ونقل بعضهم أن القهستاني کتب على هامش نسخته أن هذا مختص بالأذان، وأما في الإقامة فلم یوجد بعد الاستقصاء التام  والتتبع}. ۱۲جلد اول، ص : ۲۶۷ ایضاً   [كذا في الأصل]۔

سوال (۲۴۳) اذان کے وقت محمدرسول اللہ کہنے پر ہاتھ چومنا  کیسا ہے؟ ایک بزرگ  نے  فرمایا   آنکھوں  میں  لگانے  سے  دُکھتی  نہیں ۔

الجواب: اذان کےوقت جو عادت ہے انگوٹھوں کے چومنے کی، یہ فی نفسہ آشوبِ چشم کاعمل تھا، لیکن لوگ اس  کو ثواب اور تعظیم اسم مبارک نبوی ﷺ سمجھ کر  کرتے ہیں اس لئے بدعت ہے، اور اگر اعتقاد نہ ہو تو دوسرے کو  شبہ  پڑے گا، اس  لئے  درست نہیں، واللہ  تعالی ٰاعلم  وعلمہ  اتم  واحکم۔  ایضاً  [كذا في الأصل]

سوال (۲۴۴)تقبیل الابہامین یعنی بوقت کہنےمؤذن کے، أشهد أن محمدا رسول الله بنام محمد ﷺ ناخن دونوں انگوٹھوں کےچوم کر آنکھوں پر رکھنے بدعت ہیں یا سنت؟ اگراس کی کوئی اصل ہو وہ حدیث یا اثر جس قدر تعداد میں ذہن مبارک میں ہوں بقیدنام کتاب، حدیث، باب وفصل وصفحہ، مرقوم فرما کر ممنون ومشکور فرمادیں، ایک دفعہ کسی صاحب نے اس کے متعلق  دو حدیثیں  دو کتابوں سے پیش کی تھیں، اگرچہ ضعیف تھیں لیکن کتابیں یاد نہیں رہیں، للہ جواب سے جلدی سرفرازی عطافرماویں۔والسلام علی من اتبع الہدیٰ، نیز اگر  وہ حدیثیں  ضعیف ہوں تو   ارشاد  ہو   کہ   ان   پر   عمل   کرنے   کا   شریعت   میں کیا   حکم   ہے؟

الجواب: ”مقاصد حسنہ“ سخاوی l میں ان روایات کی تحقیق ہے، ان کامضمون صرف یہ ہے کہ یہ عمل ہے رَمَد، یعنی آشوبِ چشم [آنکھ دکھنے]  کا، مگر اب لوگ اس کو دین سمجھ کر کرتے ہیں، تو بدعت ہوناظاہر ہے، اورصحیح نیت پر بھی تشبہ  ہے  اہل بدعت کے  ساتھ، اس  لئے  ترک  لازم  ہے  [1]۔

ایک دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] امدادالفتاویٰ : کتاب ما یتعلق بالحدیث،تقبیل ابہامین دراقامت واذان برنام مبارکﷺ، ۵/۲۶۷، مکتبہ دارالعلوم، کراچی۔

[2] التشرف   : ص:۱۱۲، مکتبہ محبوب المطابع،  دہلی۔ التشرف  : مسح  العینین کی تحقیق،  ص: ۱۸۴،       ادارہ   تالیفات  اشرفیہ ،ملتان۔   

حافظ سخاوی ؒ کےاس کلام پر کہ ”اس باب میں کوئی بھی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے“، ملا علی قاری ؒ نے ”اسرار المرفوعہ“ (ص:۳۰۶) میں،اورعلامہ محمد بن اسماعیل عجلونی  ؒنے ” كشف الخفاء“ (2/۲۴۱) میں اکتفاء کیا ہے،نیز محمد بن محمد درویش  الحوت ؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۱۳۰۴) میں، اور علامہ احمد بن عبدالکریم غزی ؒ  نے ”الجد الحثيث“ (رقم:۴۵۰) میں یہی کہا ہے اس باب میں کوئی بھی مرفوع روایت”صحیح“  نہیں ہے۔