روایت: ’’اپنی اولاد کا اکرام کرو، جس نے اپنی اولاد کا اکرام کیا، اللہ جنت میں اس کا اکرام کریں گے‘‘۔
یہ حدیث بھی اب تک نہیں ملی۔
تفصیل
’’سوال: ×أكرموا أولادكم، فمن أكرم أولادهم أكرمه الله في الجنة÷.
جواب: یہ حدیث بھی اب تک نہیں ملی، ابن ماجہ l اور حافظ خطیب بغدادی l (ص:۲۸۸/۸) نے حارث بن نعمان لیثی کے طریق سے حضرت انس r سے روایت کیا ہے : ×قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكرموا أولادكم، وأحسنوا أدبهم÷.‘‘ [آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی اولاد کا اکرام کرو، اور انہیں اچھے آداب سکھاؤ][1] ۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: ۱۹، احادیث کی تحقیق،۲/۱۲۷۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جس میں یہ چار خوبیاں ہوں اس کا ایمان کامل ہے، اگرچہ وہ سراپا خطاؤں میں (ڈوبا) ہو: سچائی،شکر،حیا، اور اچھے اخلاق‘‘َ۔ یہ حدیث بھی اب تک نہیں ملی۔
روایت: ×صل من قطعك، وعزّ من قنع÷.(جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ،اور جس نے قناعت اختیار کی وہ عزت پائے گا)
یہ روایت مجموعی طور پر اس طرح نہیں ملی۔
روایت: ’’باری تعالیٰ بوڑھے شخص کو صبح وشام دیکھ کر فرماتے ہیں کہ مجھے تمہارے بڑھاپے کی وجہ سے تمہیں آگ میں عذاب دینے سے حیاء آتی ہے‘‘۔
یہ حدیث بھی اب تک نہیں مل سکی۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
روایت: ’’×الصدق ينجي، والكذب يهلك÷. سچ نجات دیتا ہے، اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے‘‘۔
یہ لفظ بھی تلاش کے باوجود اب تک نہیں ملا، البتہ حضرت کعب r کا غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنا اور پھر سچ سچ خدمت نبویہ میں عرض کردینا اس روایت کے معنی کی صحت کی دلیل ہے۔