روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔
تفصیل
’’سوال: ×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. [علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے] اس حدیث میں ×مسلمة÷ کا لفظ ثابت ہے؟ اگر ہے تو کتاب کا نام ازراہ کرم تحریر فرمائیں۔۔۔ ‘‘ ۔
جواب: حدیث: ×طلب العلم فريضة على كل مسلم÷. [علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے] ابن ماجہ lوغیرہ نے تخریج کی ہے، اس میں ’’مسلمة‘‘ کی زیادتی ثابت نہیں ہے، جیسا کہ علامہ سخاوی l وغیرہ نے تصریح کی ہے، لیکن معنی درست ہیں، فرائض وواجبات کا علم حاصل کرنا ہر شخص پر فرض ہے، مرد ہو یا عورت‘‘[1]۔
ملتی جلتی احادیث
۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
روایت: ×الدنيا جيفة وطالبها كِلاب÷؟ (دنیا مردار ہے اور اس کے طلب گار کتے ہیں ) حدیث بلفظہ تو موجود نہیں ہے، ہاں بمعناہ ملتی ہے۔
۱ – جزء: عمامہ کے فضائل
اذان کے بعددعائے وسیلہ میں لفظ ×الدرجة الرفيعة÷ مجموعی طور پر ثابت نہیں ہے،اسی طرح ×وارزقنا شفاعته يوم القيامة÷ کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملے، ہاں اس کے ہم معنی الفاظ وارد ہیں۔
روایت: ×الخير فيما وقع÷. جو ہوچکا اسی میں خیر ہے،یہ حدیث نہیں ہے۔