۲ – جزء: عربی زبان کے نو غیر معتبر فضائل
[حضرت جونپوری l کی مفصل عبارت نقل کرنے سے پہلے ان تمام احادیث کا خلاصہ وحکم حضرت جونپوری l ہی کے الفاظ سے ملاحظہ ہو]
1 - روایت: ’’عربوں سے محبت کر، کیونکہ میں عربی ہوں، اور قرآن عربی میں ہے، اور جنت والوں کی زبان عربی ہے‘‘۔
محدثین کی ایک جماعت نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
2 - روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں عربی ہوں، اور قرآن عربی میں ہے، اور جنت والوں کی زبان عربی ہے‘‘۔
محدثین کی ایک جماعت نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
3 - روایت: ’’جنت والوں کی زبان عربی ہے، اور آسمان والوں کی زبان عربی ہے،اور محشر والوں کی زبان عربی ہے‘‘۔
حافظ ابن حبان l، حافظ ابن جوزی l، حافظ ذہبی l نے اسےمن گھڑت کہا ہے۔
4 - روایت: ’’تم میں سے جو شخص اچھی طرح عربی بول سکتا ہے وہ فارسی زبان میں گفتگو نہ کرے، کیونکہ یہ نفاق کو جنم دیتا ہے‘‘۔
بلاشبہ یہ منکر حدیث ہے۔
5 - روایت: ’’جوشخص فارسی زبان میں گفتگو کرے گا، یہ اس کے ہلکے پن میں اور اضافہ کرےگا، نیز اس کی مُرَوَّت کو نقصان پہنچائے گا‘‘۔
ذہبی l نے اس کی نکارت کی جانب اشارہ کیا ہے۔
6 - حدیثِ ابن عباس t موقوفا ً: ’’آدم u کی جنت میں عربی زبان تھی، جب آپ سے خطاء صادر ہوئی تو اللہ نے عربی زبان کو سلب فرمالیا اور وہ سریانی زبان میں بات چیت کرنے لگے، جب آپ نے توبہ فرمائی تو اللہ نے دوبارہ عربی زبان لوٹا دی‘‘۔
میرا گمان ہے کہ یہ بے اصل ہے۔
7 - روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے سلمان! تمہارا ناس ہو، عرب سے محبت کرو،تین وجوہات سے: تمہارا نبی عربی ہے، تمہارا قرآن عربی ہے، اور تمہاری جنت کی زبان عربی ہے‘‘۔
اسےا مام بخاری l’’تاریخ کبیر‘‘ میں تعلیقاً لائے ہیں، [اس متن کو محدثین کی ایک جماعت نے من گھڑت کہا ہے]۔
8 - روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ نے اپنے نبی کے مابین ہمیشہ عربی میں وحی نازل کی ہے، پھر وہ نبی اپنی قوم کی زبان میں انہیں یہ وحی پہنچاتا ہے‘‘۔
یہ حدیث واہی الاسنادہے۔
9 - روایت: ’’ابن عباس t سے مروی ہے: جبریل u کی جانب عربی میں وحی بھیجی جاتی، اور وہ ہر نبی کی جانب ان کی زبان میں وحی پہنچاتے‘‘۔
(اس کی سند میں موجود)ابوبکر بن عیاش سیء الحفظ راوی ہے، اور کلبی متہم ہے۔
تفصیل
[حضرت جونپوری lکی عبارت سے سابقہ ذکر کردہ خلاصہ کی تفصیل ملاحظہ ہو]
جوابات:
[پہلی حدیث:
دوسری حدیث:
چوتھی حدیث:
پانچویں حدیث:
چھٹی حدیث:
آٹھویں حدیث:
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:عربی زبان کی فضیلت پر کچھ روایتیں،۱/۳۸۷ ـ ۳۹۳۔
[2] حافظ ابن تیمیہ l نے ’’اقتضاء الصراط المستقيم‘‘ (۱/ ۳۹۵)میں حافظ ابن جوزی l کے کلام پر اکتفا ء کرتے ہوئے اسے موضوع کہا ہے،علامہ محمد بن محمد درویش الحوت l نے’’اسنى المطالب‘‘ (۱/ ۳۱) میں امام ابوحاتمl اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اکتفا ء کرتے ہوئے اسے موضوع کہا ہے،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ (۲/ ۳۱)میں حافظ سیوطیl پر تعاقب کرتے ہوئے حافظ ذہبی l کے کلام کو ترجیح دی ہے،علامہ عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘ (۱/ ۶۹)میں اسے شدید ضعیف کہا ہے، تفصیل کےلئے کتاب’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘ حصہ سوم (ص:۲۳۴) ملاحظہ فرمائیں۔
[3] حافظ ابن جوزی l نے ’’الموضوعات‘‘ (۳/ ۷۱)میں،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ (۲/ ۲۸۱)میں، علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۷۹)میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے،نیز علامہ برہان الدین حلبیl نے ’’الكشف الحثيث‘‘ (ص: ۱۸۱)میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اکتفا ء کرتے ہوئے اسے موضوع کہا ہے۔
علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘(۱/ ۲۷۹)میں،حافظ ابن حبان l کے کلام پر اکتفاء کرتے ہوئے اسے من گھڑت کہا ہے۔
[4] امام سیوطی l نے ’’اللآلی المصنوعۃ‘‘(۲/۲۳۸) میں، علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيہ الشريعۃ‘‘ (۲/۲۹۱)میں اور علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘(۱/۲۷۹)میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے،نیز حافظ ابن حجر l ’’فتح الباری‘‘(۶/۱۸۴) میں فرماتے ہیں اس کی سندواہی ہے۔
[5] حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘(۴/ ۱۰۹)میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت اس سند سے باطل ہے، حافظ محمد بن طاہر مقدسیl ’’ذخيرة الحفاظ‘‘(۴/ ۲۲۴۹،رقم:۵۲۲۶)میں،حافظ ابن جوزیl ’’الموضوعات‘‘ (۳/ ۷۱) میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت باطل،من گھڑت ہے،حافظ ابن حجرl ’’فتح الباری‘‘(۶/ ۱۸۴)میں فرماتے ہیں اس کی سندواہی ہے،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيہ الشريعۃ‘‘(۲/ ۲۹۱)میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
[6] حافظ ابن عساکر l نے ’’تاریخ دمشق ‘‘(۷/۴۰۶)میں اس روایت کو سنداً تخریج کیا ہے،ملاحظہ ہو:
’’أنبأنا أبو طاهر الحِنَّائي وأبو محمد بن الأكفاني وابن السمرقندي، قالوا أنا أبو الحسن بن أبي الحديد وأخبرنا أبو الحسين بن أبي الحديد، أنا جدي أبو عبد الله، أنا أبي أبو الحسن، أنا أبو محمد بن أبي نصر، أنا عبد السلام بن أحمد بن محمد القرشي، أنا محمد بن إسماعيل التميمي، أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، نا موسى بن إبراهيم المَرْوَزِي، نا نوح بن دَرَّاج، عن أبي روق الهَمْدَاني، عن عكرمة، عن رضي الله تعالى عنه: أن آدم كان لغته في الجنة العربية، فلما عصى ربه سلبه الله العربية فتكلم بالسريانية، فلما تاب الله عليه رد عليه العربية‘‘.
ہماری جستجو کے مطابق اس روایت کی سند میں دو راوی ایسےملے ہیں جن پر معتد بہ ائمہ جرح وتعدیل نے جرح کے شدید صیغے استعمال فرمائے ہیں:
(۱) نوح بن درّاج (۲)موسی بن ابراہیم المروزی۔
ابو محمد نوح بن درّاجنخعی: یہ کذاب،خبیث ہے(امام یحیی بن معینl)،زائغ (حافظ جوزجانی l)،لیس بالقوی(امام ابوحاتمl)،لیس بذاک(امام بخاری l)،لا يكون بہ بأس(حافظ ابوزرعہl)، ضعیف، متروک الحدیث (امام نسائی l)،جھوٹا،احادیث گھڑتا تھا (امام ابوداؤد l)،لاشئ (حافظ ساجی l)، ثقہ (حافظ ابن نمیرl)،ثقہ راویوں سے من گھڑت روایت نقل کرتا تھا (حافظ ابن حبانl)،ثقہ راویوں سے من گھڑت روایت نقل کرتا تھا (امام حاکم l)، یہ کثیرالحدیث نہیں،اس کی روایت لکھی جائے گی (حافظ ابن عدی l)، لاشئ (حافظ ابو نعیم اصبہانی l) (دیکھئے:تہذیب التہذيب:۴/ ۲۴۵)۔
ابو عمران موسی بن ابراہیم مروزی: کذاب (امام یحیی بن معینl)،متروک (حافظ دارقطنیl)، منکرالحدیث (حافظ عقیلیl)،مجہول شیخ، ثقہ راویوں سے منکر روایت نقل کرتا تھا (حافظ ابن عدیl) (دیکھئے: لسان المیزان:۸/ ۱۸۷)۔ یہ غافل شخص ہے،اسے تلقین کی جاتی یہ اسے قبول کرلیتا،ترک کیے جانے کامستحق ہے(حافظ ابن حبان l) (دیکھئے:الضعفاء والمتروكين لابن جوزی: ۳/ ۱۴۴)۔ واضح رہے کہ حافظ ذہبی l نے موسی بن ابراہیم کی بعض دیگر بلایا بھی ذکر کی ہیں،دیکھئے: ’’میزان الاعتدال‘‘: ۴/۱۹۹۔
الحاصل یہ روایت اس سند سے شدید ضعیف ہے، اسے آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
[7] الیواقیت الغالیۃ:عربی زبان کی فضیلت پر کچھ روایتیں،۱/۳۹۳-۳۹۴۔
ملتی جلتی احادیث
۱ – جزء: عمامہ کے فضائل
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔