پہلی اُمتوں کے کچھ لوگ بندر ہوگئے تھے، اور یہ بندر
انہیں کی نسل کے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔
تفصیل
”اسی طرح یہ جو مشہور ہے کہ پہلی اُمتوں کے کچھ لوگ بندر ہوگئے تھے، یہ بندر انہیں کی نسل کے ہیں یہ بالکل غلط ہے، حدیث میں آگیا ہے کہ وہ بندر سب مرگئے تھے، ان کی نسل نہیں چلی، یہ جانور ”بندر“ پہلے سے بھی تھا، یہ نہیں کہ بندر انہیں سے شروع ہوئے ہیں“[1]۔
حوالہ جات
[1] بہشتی زیور: حصہ دہم،اصلی بہشتی زیور کا ضمیمہ، ص:۸۴۰،دارالاشاعت،کراچی ۔
امام قرطبی ؒ نے بھی اپنی ”تفسير“(۲ / ۱۷۰)میں اور علامہ آلوسی ؒ نے ”روح المعانی“( ۱ / ۲۸۳) میں یہی تفصیل ذکر کی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔