التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔

تفصیل

”اس کو عام لوگ مریم روزہ کا چاند کہتے ہیں، اور اس کی ستائس تاریخ میں روزہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ایک ہزار روزوں کا ثواب ملتا ہے، شرع میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں، اگر نفل روزہ رکھنے کو دل چاہے، اختیار ہے۔ خدائے تعالیٰ جتنا چاہیں ثواب دیدیں، اپنی طرف سے ہزار یا لاکھ مقرر نہ سمجھے، بعضی جگہ اس مہینے میں تبارک کی روٹیاں پکتی ہیں، یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہے، شرع میں اس کا کوئی حکم نہیں، نہ اس پر کوئی ثواب کا وعدہ ہے، اس واسطے ایسے کام  کو  دین  کی بات  سمجھنا  گناہ  ہے“[1]۔

ایک دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] بہشتی زیور: حصہ ششم،رجب کی رسموں کا بیان، ص:۵۰۸،دارالاشاعت، کراچی ۔

حافظ ابن حجر ؒ نے  میں ”تبيين العجب“(ص:۶۳) میں ۲۷ رجب کے روزے کی روایت کو موضوع روایات کے تحت لکھا ہے،اور علامہ لکھنوی ؒ نے ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۵۸) میں حافظ ابن حجرؒ کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

[2] زوال السِنۃ عن اعمال السَنۃ، یعنی سال بھر کے مسنون اعمال:رجب، ص: ۱۵،ادارہ اسلامیات، لاہور ۔

علامہ لکھنوی ؒ نے بھی ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۷۸) میں شیخ عبد الحق دہلوی ؒ کے کلام پر اکتفاء کیا ہے، علامہ لکھنوی ؒ  کی عبارت ملاحظہ ہو:

{فائدة: قد كنت لما سافرت من الوطن مع الوالدين المرحومين إلى حيدر آباد الدكن في سنة أربع وثمانين بعد الألف والمائتين من الهجرة على صاحبها أفضل الصلوات والتحية، دخلت بلدة حيدر آباد في اليوم الخامس عشر من رجب، فلقيني بعض مشايخها وقال: مرحبا نعم المجيء جئت، ما أحسن وصولك في اليوم المبارك يوم الاستفتاح، فقلت في نفسي: لعل لهذا اليوم فضلا ثابتا بالرويات، ثم طلبت ذلك من مظانه فلم أجد لذلك أصلا، ثم وقفت على كلام الشيخ الدهلوي في ما «ثبت بالسنة»: اعلم أنا لم نجد في كتب الأحاديث لا إثباتا ولا نفيا ما اشتهر بينهم من تخصيص الخامس عشر من رجب بالتعظيم والصوم والصلاة، وتسميته بيوم الاستفتاح، وتسميته بمريم روزه انتهى.  فعلمت أنه ليس إلا من جنس الأمور المشهورة بين الصوفية مما ليس له أصل في كتب الشريعة}.