”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔
تفصیل
”اس کو عام لوگ مریم روزہ کا چاند کہتے ہیں، اور اس کی ستائس تاریخ میں روزہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ایک ہزار روزوں کا ثواب ملتا ہے، شرع میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں، اگر نفل روزہ رکھنے کو دل چاہے، اختیار ہے۔ خدائے تعالیٰ جتنا چاہیں ثواب دیدیں، اپنی طرف سے ہزار یا لاکھ مقرر نہ سمجھے، بعضی جگہ اس مہینے میں تبارک کی روٹیاں پکتی ہیں، یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہے، شرع میں اس کا کوئی حکم نہیں، نہ اس پر کوئی ثواب کا وعدہ ہے، اس واسطے ایسے کام کو دین کی بات سمجھنا گناہ ہے“[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] بہشتی زیور: حصہ ششم،رجب کی رسموں کا بیان، ص:۵۰۸،دارالاشاعت، کراچی ۔
حافظ ابن حجر ؒ نے میں ”تبيين العجب“(ص:۶۳) میں ۲۷ رجب کے روزے کی روایت کو موضوع روایات کے تحت لکھا ہے،اور علامہ لکھنوی ؒ نے ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۵۸) میں حافظ ابن حجرؒ کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
[2] زوال السِنۃ عن اعمال السَنۃ، یعنی سال بھر کے مسنون اعمال:رجب، ص: ۱۵،ادارہ اسلامیات، لاہور ۔
علامہ لکھنوی ؒ نے بھی ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۷۸) میں شیخ عبد الحق دہلوی ؒ کے کلام پر اکتفاء کیا ہے، علامہ لکھنوی ؒ کی عبارت ملاحظہ ہو:
{فائدة: قد كنت لما سافرت من الوطن مع الوالدين المرحومين إلى حيدر آباد الدكن في سنة أربع وثمانين بعد الألف والمائتين من الهجرة على صاحبها أفضل الصلوات والتحية، دخلت بلدة حيدر آباد في اليوم الخامس عشر من رجب، فلقيني بعض مشايخها وقال: مرحبا نعم المجيء جئت، ما أحسن وصولك في اليوم المبارك يوم الاستفتاح، فقلت في نفسي: لعل لهذا اليوم فضلا ثابتا بالرويات، ثم طلبت ذلك من مظانه فلم أجد لذلك أصلا، ثم وقفت على كلام الشيخ الدهلوي في ما «ثبت بالسنة»: اعلم أنا لم نجد في كتب الأحاديث لا إثباتا ولا نفيا ما اشتهر بينهم من تخصيص الخامس عشر من رجب بالتعظيم والصوم والصلاة، وتسميته بيوم الاستفتاح، وتسميته بمريم روزه انتهى. فعلمت أنه ليس إلا من جنس الأمور المشهورة بين الصوفية مما ليس له أصل في كتب الشريعة}.
ملتی جلتی احادیث
روایتِ صلوۃ الرغائب باطل ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
حکایت کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ نہ رکھیں، کیونکہ یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا، یہ بھی محض بے اصل ہے۔
ماہِ رمضان کے آخر ی خطبہ میں {الوداع الوداع یا شهر رمضان }، پڑھنا بالکل بے اصل ہے۔