جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
تفصیل
”باقی اس میں شیخ ابن عربی l نے جو خاتم الولایت کے بارے میں لکھا ہے وہ بے شک بہت ہی سخت بات ہے، وہ تو اس کو صاف صاف انبیاء علیہم السلام کا استاد لکھتے ہیں جو کہ بہت موحش مضمون ہے، اگرچہ اس میں تاویل ہوسکتی ہے جس کو میں نے اپنی شرح ”فصوص “ میں لکھا ہے، مگر پھر بھی دل اس لفظ کو قبول کر نے اور ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں ہوتا، اس لئے میں تو اس کو بالکل غلط سمجھتا ہوں:یا تو شیخ ہی کا کشف غلط ہو یا کسی نے ان کی کتاب میں یہ مضمون الحاق کر دیا ہو، اور اس میں کچھ شیخ کی بے ادبی نہیں، شیخ کا ادب یہی ہے کہ ان کو اس خرافات سے بری کیا جائے ۔
علامہ شعرانی l نے ”یواقیت وجواہر“ میں اس کی تصریح کی ہے کہ بعض یہودیوں نے شیخ کے کلام میں تحریف بھی کی ہے، اس لئے ان کے کلام میں جو مضمون خلافِ شریعت ہوگا ہم اس کو شیخ کی طرف ہر گز منسوب نہ کریں گے، ضرور اسے الحاق کہیں گے، اور اگر کوئی اس کو تسلیم نہ کرے تو ہم صاف یہی کہیں گے کہ شیخ کا کشف غلط ہے، اور کشفیات میں غلطی ہو جانا کوئی بعید بات نہیں، جب مطلقاً صدیق کے علوم کا اعتبار نبی کی تائید کے بغیر نہیں ہو تا تو شیخ کے علوم کا بھی اعتبار شریعت کی تائید کے بغیر کیونکر ہوسکتا ہے ۔۔۔“[1]۔
ملتی جلتی احادیث
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
روایت: ”جنت میں ایک جنت ہے، اس میں نہ حور ہیں اور نہ قصور، صرف یہ ہے: {رب أرني أرني}. اے رب! مجھے دیدار کرائیں، مجھے دیدار کرائیں“، یہ غلط ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔