روایتِ صلوۃ الرغائب باطل ہے۔
تفصیل
”نیز شیخ [عبد الحق دہلوی l] نے ”صلوۃ الرغائب“ [رجب کے پہلے شب جمعہ میں ایک مخصوص نماز ] کا بھی ابطال کیا ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] زوال السِنہ عن اعمال السَنہ، یعنی سال بھر کے مسنون اعمال: رجب،ص: ۱۵،ادارہ اسلامیات، لاہور ۔
روایت ”صلوۃ الرغائب“کو حافظ ابن جوزی ؒ،امام طُرْطُوشی ؒ(المتوفی:۵۲۰)،حافظ العز بن عبد السلام ؒ،امام نووی ؒ،حافظ ذہبی ؒ،حافظ ابن دِحیہ کلبی ؒ، حافظ عراقی ؒ،حافظ ابن رجب حنبلی ؒ، حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ،حافظ سیوطی ؒ،علامہ ابراہیم حلبی ؒ(المتوفی:۹۵۶)نے من گھڑت کہا ہے،دیکھئے: ”اتحاف السادة المتقين“(۳/۷۰۰)، ”الآثارالمرفوعہ‘‘ (ص:۶۲)۔
علامہ عبد الحي ؒ اس روایت پر انتہائی مفصل کلام کرکے آخر میں لکھتے ہیں: {وقد اتضح مما ذكرنا أن المحدثين كلهم اتفقوا على كون حديثها موضوعا، ثم منهم وهم الجمهور من منع عنها قطعا وجعل أداءها بدعة وضلالا، ومنهم من جوز أداءها لمن شاء من غير اعتقاد صحة حديثها، والحق مع الجمهور وهو قول المنصور}.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”جو شخص مجھ کو ماہ ِصفر کے گذرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا“، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”شبِ برأت یعنی پندرہ شعبان میں آ پ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا“، یہ گھڑی ہوئی بات ہے۔
”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔