حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔
تفصیل
اسی طرح حضرت عکاشہ r کی حکایت جو مشہور ہے، بالکل غلط ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] اشرف الجواب : باب دوم ،حضورﷺ کی تعریف میں ایسا مبالغہ جس سے دیگر انبیاء ؑ کی توہین ہو جائز نہیں، نیز بعض غیر معتبر رسائل کی تردید، ص : ۱۳۰، دارالاشاعت،کراچی ۔
اس قصہ کو حافظ ابن جوزی ؒ نے ” كتاب الموضوعات“(۱/۳۰۱) میں، حافظ سیوطی ؒ نے ”اللآلی المصنوعہ“ (۱/۲۵۷)میں، علامہ ابن عرّاق ؒنے ”تنزيہ الشريعہ“ (۱/۳۳۱) میں، علامہ لکھنوی ؒ نے ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۴۰) میں من گھڑت کہا ہے۔
راقم الحروف نے اس قصہ کی تحقیق کتاب ”غیر معتبر روایات“ (ص:۱۰۰) میں لکھی ہے،حاصل یہ ہے کہ عکاشہ نامی ایک شخص نے آپ ﷺ کے کہنے پر آپ ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا کہ میں آپﷺ سے قصاص لینا چاہتا ہوں،کیونکہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ میری برہنہ پیٹھ پر چھڑی چبوئی تھی،آپ ﷺ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا،اس پر تمام صحابہ ؓ غمناک ہو گئے،اور آپ ﷺ کی جگہ اپنے آپ کو پیش کرنا شروع کر دیا،حتی کہ حضرات حسنین ؓ نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا،لیکن وہ شخص نہ مانا،بالآخر جب آپ ﷺ نے قصاص کے لئے اپنی پیٹھ خالی کی تو اس نے آپ ﷺ کا بوسہ لے لیا،اور کہا کہ میں بس یہی چاہتا تھا،آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہے تو اسے دیکھ لے۔یہ قصہ اس تفصیل کی ساتھ تو من گھڑت ہے، البتہ اس جیسا ایک دوسرا مختصر واقعہ سواد بن غزیّہ نامی صحابی ؓ کا ثابت ہے۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت : ”حضرت محمد بن علی بن ابی طالب r کی والدہ خولہ حنفیہ جنّیہ تھیں “، یہ بالکل غلط ہے۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
حضرت عمر r کا اپنے بیٹے ابو شحمہ پر حد نافذ کرنے کا مشہور قصہ موضوع وباطل ہے، صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔