روایت: ”جو شخص مجھ کو ماہ ِصفر کے گذرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا“، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
تفصیل
’’بعض کتبِ تصوف میں ایک حدیث لکھ دی ہے کہ {من بشّرني بخروج صفر بشّرته بالجنة}. یعنی حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ کو ماہِ صفر کے گذرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا، آہ! [كذا في الأصل]، اس سے بعض نے اس ماہ کی نحوست پر استدلال کیا ہے، مگر یہ دلیل ثبوتاً اور دلالتًہ دونوں طرح مخدوش ہے، یعنی نہ تو یہ حدیث سے ثابت ہے، اور نہ یہ اس مضمون پر دال ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] زوال السِنہ عن اعمال السَنہ، یعنی سال بھر کے مسنون اعمال :صفر المظفر، ص: ۸،ادارہ اسلامیات، لاہور ۔
علامہ صغانی ؒ نے ”موضوعات“ (رقم:۱۰۰) میں،علامہ اسماعیل عجلونی ؒ نے ”كشف الخفاء“ (رقم:۲۴۱۸)میں، علامہ شوکانی ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“ (رقم:۱۲۶۰) میں، ملاعلی قاریؒ نے”الاسرار المرفوعہ“ (ص:۳۲۴) میں، علامہ محمد بن طاہر پٹنی ؒ نے ”تذكرة الموضوعات“ (ص:۱۱۶)میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”شبِ برأت یعنی پندرہ شعبان میں آ پ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا“، یہ گھڑی ہوئی بات ہے۔
روایتِ صلوۃ الرغائب باطل ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔