روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
تفصیل
ایک حدیث یہ گھڑی ہے: {رأیت ربي یطوف في سِکك المدينة} (میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا ) [نعوذ باللہ] یہ حضرت ابوبکر r کی طرف منسوب ہے، کہ انہوں نے آپ کو گلیوں میں دیکھا تو فرمایا: {رأیت ربی یطوف فی سِكك المدينة}. کہ میں نے خدا کو مدینہ کی گلیوں میں گھومتے ہوۓ دیکھا [نعوذ باللہ ]، بس پھر تو ہر صوفی خدا ہو گیا، جیسے جاہل صوفی کہتا ہے ـ نعوذ باللہ ـ اللہ جسے کہتے ہیں، واللہ میں ہی ہوں [نعوذ باللہ ][1]۔
حوالہ جات
[1] اشرف الجواب : باب دوم ،بعض لوگوں نے حضور ﷺ کے خدا ہونے کی حدیثیں گھڑی ہیں، ص : ۸۲، دارالاشاعت، کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا تا کہ تسلی رہے“، یہ جاہلوں کی ایجاد ہے۔
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔