روایت: ”حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا تا کہ تسلی رہے“، یہ جاہلوں کی ایجاد ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ اسی طرح ایک اور شعر ہے : ؎
پے تسکین خاطر صورت پیراہن یوسف محمد کو جو بھیجا حق نے سایہ رکھ لیا قد کا
یعنی جیسے یعقوب e نے اپنی تسلی کے واسطے حضرت یوسف e کاکرتہ مبارک رکھ لیا تھا، اسی طرح حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا کہ تسلی رہے، کیا (نعوذ باللہ) حضور ﷺ دنیا میں آکر خدا سے غائب ہو گئے تھے اور نظر نہ آتے تھے، کیا (نعوذ باللہ) حق تعالیٰ کو سکون کی بھی ضرورت ہے؟ ناس ہو ایسی جہالت کا، شاعر نے اپنے نزدیک حس [كذا في الأصل] تعلیل برتی ہے اور اس پر نازاں ہے: اول تو وہ روایت ہی متکلم فیہ ہے جس میں حضور ﷺ کے سایہ نہ ہو نے کا بیان ہے، دوسرے خود اس روایت میں سایہ نہ ہونے کی وجہ بھی موجود ہے کہ آپ پر ابر سایہ فگن رہتا تھا، اس لیے حضور ﷺ کا سایہ نہ ہو تا تھا، اور یہ علت کیسے ہو سکتی ہے جو شاعر نے بیان کی ہے، کیا وہ خدا کو حاضر و ناظر نہیں جانتا؟[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : مضامین لغت میں گمراہ شعراء کا غلو ،۳۱/۴۷ ،ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”چوتھے آسمان پر حضرت عیسی e بیمار ہیں، آپ ﷺ کاتبسم علاج کیلئے درکار ہے“، یہ مضمون بالکل غلط ہے۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔