روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
تفصیل
”اس پر استطرا داً ایک بات یاد آگئی، وہ یہ کہ دنیا میں ایسے جاہل صوفی بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن میں لفظِ عشق موجود ہے، بھائی قرآن میں کہاں ہے اول سے آخر تک دیکھ لو؟ الفاظِ قرآن تو محدود ہیں، معانی البتہ غیر محدود ہیں، اللہ تعالیٰ نے دریا کو کوزہ میں بھر دیا ہے ۔
جاہل صوفی جواب میں کہتا ہے کہ {حم عسق} یہ اصل میں عشق ہے، کسی نے کہا کہ اس میں تو سین ہے اور عشق میں شین ہے، تو آپ [یعنی جاہل صوفی] کہتے ہیں کہ اصل میں تو شین ہی تھا مگر چونکہ حضور ﷺ پڑھے ہو ئے تھے نہیں (نعوذ باللہ )، اس لئے آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا، اس لئے آپ ﷺ کی رعایت سے سین نازل کیا گیا، اب پیغمبر ﷺ پر بھی وہی اعتراض ہو گیا، جو بلال r پر تھا کہ {أسهد} کہتے تھے۔
مجھے اس روایت پر یقین نہیں ہے، نہ معلوم کہاں کی روایت ہے، اور اگر ثابت بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ حبش [كذا في الأصل] کے رہنے والے تھے، ان سے شین نہ نکلنا کچھ عجب نہیں، مگر حضور ﷺ تو عرب العرباء افصح البلغاء تھے، آپ ﷺ سے شین کا ادانہ ہو نا بہت تعجب کی بات ہے، اگر ایسا ہو تا اور ایسی رعایت ہوتی تو معوذتین میں بھی شین نہ ہوتا، {من شر} کی جگہ {من سر} ہوتا ۔۔۔“[1]۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔