من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
تفصیل
”بعض جاہلوں نے یہاں تک غضب کیا کہ یہ سمجھ رکھا ہے کہ موضوع باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے، یہ بیان کر دینا درست ہے، جیسے نماز کے متعلق ایسے فضائل بیان کر دیئے جائیں جن کی قرآن حدیث میں کچھ بھی اصل نہ ہو، مگر ان سے نماز پر تحریص ہوتی ہو، تو جرح نہیں۔
سمجھ لیجئے کہ یہ بالکل غلط ہے، اور اس میں دو خرابیاں ہیں: ایک تو اس وعید کو سرلینا جو ابھی بیان ہوئی یعنی : {من کذب علي متعمدا فلیتبوا مقعده من النار}.(جس شخص نے قصداً مجھ پر جھوٹ بولا پس چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے)، دو سرے شریعت کی طرف ایک نیا مسئلہ منسوب کر نا ہے کہ ایسا اس سے جائز ہے، نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ شریعت کامل نہیں ہے، کیونکہ یہ مسئلہ شریعت میں کہیں منقول نہیں، حالانکہ شریعت اسلامی کامل ومکمل ہے : (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي). [المائدة: 3] (آج ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا، اور اپنی نعمت کو مکمل کر دیا )دین کو حق تعالیٰ نے کا مل فرمایا ہے، اور کوئی نعمت ایسی نہیں چھوڑی جس کو پورا نہ کر دیا ہو، نعمت سے مراد دینی نعمت ہے، تو کوئی بات دین کی ایسی نہیں رہی جس کی شریعت میں کمی ہو۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت :فضائل میں بھی موضوعات کو بیان کرنا جائز نہیں ، ۲۶/۳۱۶، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میں اس بات پر خدا کا شکر کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت اور علی rکی ولایت سے راضی ہے“، یہ بالکل غلط روایت ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔