جھوٹے فضائل میں فطری ظلمت ہے، نیز موضوع روایتیں زبان کے بدترین گناہوں میں سےہیں۔
تفصیل
”۔۔۔جھوٹے فضائل میں یہ اثر کہاں؟ جھوٹی روایتوں سے اس وقت تو جوش ہو تا ہے لیکن ان میں فطری ظلمت ہو تی ہے کہ قلوب ان کو قبول نہیں کر تے، اور مجلس سے اٹھتے ہی انکا ذرا بھی اثر باقی نہیں رہتا، چنانچہ دیکھ لیجئے کہ مصنوعی وعظوں میں کیا اثر ہے، اور اہل اللہ ومحققین کے وعظوں میں کیا اثر ہے ۔
بعض اہل قلب کے وعظوں کی مجلس میں سے جنازے اٹھ گئے ہیں، یہ اصلی اور واقعی باتوں کا اثر ہے، مصنوعی، مصنوعی ہےاور اصلی، اصلی ہے، خوب سمجھ لیجئے کہ موضوع روایتیں اور کتابیں پڑھنا جائز نہیں، اور یہ بھی زبان کے بدترین گناہوں میں سے ہے۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : واقعی باتوں کا اثر، ۲۶/۳۱۶ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
احادیث میں مذکور حضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، گھڑے ہوئے فضائل بیان نہ کریں۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
غلط روایتوں کو بیان کر نا ایجاد فی الدین ہے۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔