روایت : ”حضرت ہندہ R کو آپ ﷺ نے اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا“، بے اصل ہے۔
تفصیل
سوال (۲۰۱) میرے یہاں دختر تولد ہوئی ہے جس کا بخیالِ حصولِ سعادت میں نے ایک صحابیہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر ہندہ رکھا ہے، ایک بزرگ نے بیان کیا کہ یہ وہ مبغوض صحابیہ ہیں جنہیں بعد قبولِ اسلام بھی سرکارِ دو عالم ﷺ نے اپنے جمال جہاں آرا کی زیارت سے حکماً محروم فرمایا دیا تھا کہ اسے دیکھ کر حمزہ r کے واقعہ کی یاد تازہ ہو جائے گی، اور بمقتضائے بشریت آپ کو تکلیف ہوگی، روایتِ مذکورہ اگر صحیح ہے تو کیا ایسی مبغوضہ صحابیہ کے نام رکھنے میں کوئی شرعی قباحت لازم آتی ہے اور مسلمانوں کو تبرکاً اس نام کا اعادہ اپنے گھروں میں کرنا رَوَا ہے ؟
الجواب : اول تو یہ روایت کہ حضرت ہندہ R کو اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا، نظر سے نہیں گذری، البتہ حضرت وحشی r کے باب میں یہ ممانعت ”بخاری“ میں ہے، ان بزرگ سے اس کا حوالہ پوچھا جاوے۔
دوسرے شیخین رحمہم اللہ تعالی کی روایت میں حضرت ہندہ R کا حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا اور نفقہ کا مسئلہ پوچھنا اور آپ ﷺ کا جواب ارشاد فرمانا: {خذي مایکفیك وولدك بالمعروف}. [دستور کے مطابق، جو نفقہ تمہیں اور تمھارے بچوں کےلئے کافی ہو،وہ تم لے سکتی ہو] مذکور ہے، جو اس روایت کے معارض ہے۔
تیسرے کتب اسماء الرجال ”تقریب “ وغیرہ میں یہی نام حضرت ام سلمہ R زوج النبی ﷺ کا مذکور ہے، جن کا محبوب ہونا معلوم ہے۔
چوتھے ان سب سے قطع نظر نام کا مبغوض ہونا تو ثابت نہیں، غرض ہر طرح سے یہ دعوی بے اصل ہے، اور نام رکھنے میں کسی قسم کا محذور [منع] نہیں، فقط[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب جائز و ناجائز یا مکروہ افعال واستعمال ، ہندہ نام رکھنا، ۴/۱۵۸، مکتبہ دارالعلوم،کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
وصیت نامہ شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ، محض کسی کا تراشیدہ ہے۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔