التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت : ”حضرت ہندہ R کو آپ ﷺ نے اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا“، بے اصل ہے۔

تفصیل

سوال (۲۰۱)  میرے  یہاں  دختر  تولد  ہوئی  ہے جس  کا  بخیالِ  حصولِ  سعادت میں  نے  ایک صحابیہ رسول اللہ ﷺ کے  نام  پر  ہندہ  رکھا  ہے،  ایک  بزرگ  نے بیان کیا  کہ یہ  وہ  مبغوض صحابیہ ہیں جنہیں بعد قبولِ اسلام بھی سرکارِ دو عالم ﷺ نے اپنے  جمال  جہاں  آرا کی زیارت سے حکماً محروم فرمایا دیا تھا کہ اسے دیکھ کر حمزہ r کے واقعہ کی یاد تازہ  ہو جائے  گی، اور بمقتضائے بشریت آپ کو تکلیف ہوگی، روایتِ  مذکورہ  اگر صحیح ہے تو کیا ایسی مبغوضہ صحابیہ کے نام رکھنے میں کوئی شرعی قباحت لازم آتی ہے اور مسلمانوں کو تبرکاً اس نام کا اعادہ اپنے گھروں میں  کرنا  رَوَا  ہے ؟

الجواب : اول تو یہ روایت کہ حضرت ہندہ R کو اپنی زیارت سے منع  فرما  دیا  تھا، نظر سے نہیں گذری،  البتہ  حضرت  وحشی r کے  باب  میں  یہ ممانعت ”بخاری“  میں ہے،  ان  بزرگ  سے  اس  کا  حوالہ  پوچھا جاوے۔

دوسرے شیخین رحمہم اللہ تعالی  کی روایت میں حضرت  ہندہ R کا  حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا اور نفقہ کا مسئلہ پوچھنا اور  آپ ﷺ کا جواب ارشاد فرمانا: {خذي مایکفیك وولدك بالمعروف}. [دستور کے مطابق، جو نفقہ تمہیں اور تمھارے بچوں کےلئے کافی ہو،وہ تم لے سکتی ہو] مذکور ہے، جو اس روایت کے معارض ہے۔

تیسرے  کتب  اسماء  الرجال ”تقریب “ وغیرہ میں  یہی  نام  حضرت  ام  سلمہ R زوج   النبی ﷺ کا مذکور ہے، جن کا  محبوب  ہونا  معلوم  ہے۔

چوتھے ان سب سے قطع نظر نام کا مبغوض ہونا تو ثابت نہیں، غرض ہر طرح سے یہ دعوی بے اصل ہے، اور نام  رکھنے میں  کسی قسم کا محذور [منع] نہیں، فقط[1]۔

حوالہ جات

[1] امدادالفتاویٰ :  کتاب جائز و ناجائز یا مکروہ افعال واستعمال ، ہندہ نام رکھنا، ۴/۱۵۸،   مکتبہ دارالعلوم،کراچی ۔