وصیت نامہ شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ، محض کسی کا تراشیدہ ہے۔
تفصیل
سوال (۵۷۳) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک وصیت نامہ چھپا ہوا جناب رسول مقبول ﷺ کی طرف سے شا ئع ہوا ہے، جو شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ کو ارشاد ہوا ہے، اس کی کیا اصل ہے ؟ مستفتی نے تمام وصیت نامہ کی نقل لکھی تھی، بوجہ اختصار اور بناءً علی الشہرۃ چھوڑ دیا گیا ۔
الجواب: ایسا وصیت نامہ بہت دفع شا ئع ہو چکا ہے ، ہمیشہ اسی نام اور لقب سے شائع ہوتا ہے : اول تو یہ تعجب ہے کہ ایک شخص اتنی بڑی عمر پاوے ، دوسرے یہ تعجب ہے کہ ایک شخص کے سوا اور کسی خادم کو یا اور ملکوں کے بزرگوں اور ولیوں کو یہ دولت زیارت اور ہمکلامی کی نصیب نہ ہو۔
تیسرے اگر ایسا ہی قصہ ہوتا تو خود مدینہ میں اس کی زیادہ شہرت ہونا چاہئےتھی ، حالانکہ وہاں کے آنے جانے والوں یا خطوط سے ان امور کا نام ونشان بھی نہیں معلوم ہوتا ، پھر محض اس طرح بلاسند کو ئی مضمون قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتاا ور نہ جو جس کے جی میں آوے مشہور کردیا کرے ، شرع میں حکم ہے کہ جو با ت ہو خوب تحقیق کے بعد اس کو معتبر سمجھو۔
علاوہ
اس کے اس میں
بعض مضامین ایسے ہیں جو شرع
اور عقل
کے خلاف ہیں ، مثلا:
سترہ لاکھ مسلمان
کلمہ گو مریں ،
اور ان میں
سترہ آدمی صرف
مسلمان ہوں: اول تو
خدا تعالی ٰ کی
رحمت غالب ہے
ان کے غضب پر
، دوسرے ہم خود دیکھتے ہیں کہ
زیادہ مسلمان تو بہ کر
کے اور کلمہ
پڑھتے ہو ئے مرتے
ہیں ، جو علامت خاتمہ
با لخیر کی ہے، پھر
اس مضمون کی گنجائش
کہا ں ہے؟ اسی طر
ح اس میں
لکھا ہے کہ تارک
الصلوٰۃ کے جنازہ
کی نماز نہ
پڑھیں، یہ حکم صاف حدیث
کے خلاف ہے، {صلوا على کل بر
وفاجر}. [ہر نیک و بد کی نماز جنازہ پڑھو] یہ بھی
قرینہ ہے اس وصیت
نامہ کے غلط ہونے
کا، اسی طرح جن
چیزوں کا بدعت
ہو نا دلیل
شرعی سے
ثابت ہوچکا ہے ،
جیسے: تخصیص شربت کی
شہداء کربلا کے
واسطے، اور کھیر خاتون R کے واسطے،اور
پلاؤ حضرت غوث
اعظم l کے واسطے ، اسی طرح آجکل
سا مولود شریف ان سب چیزوں
کی اس میں تر غیب
ہے ، یہ سب باتیں
اس میں عقل اور شرع کے خلاف ہیں ۔
اس لئے یہ وصیت نامہ محض کسی کا تراشیدہ ہے ، محدثین نے اس سے ہلکے قرینوں پر حدیث کو موضوع کہہ دیا ہے ، اور موضوع کی اشاعت و روایت نصاً اور اجماعاً حرام ہے ، بلکہ بعض محدثین کے نزدیک کفر ہے ، ہرگز اس کے تمام مضمون کو صحیح نہ سمجھیں ، البتہ جو باتیں قرآن و حدیث اور دین کی کتابوں میں لکھی ہیں، اس کے موافق نیک راہ پر چلیں اور بری راہ سے بچیں ، اور جھوٹی بات کا نسبت کرنا حضرت پیغمبر ﷺ کی طرف، بڑا بھاری گناہ ہے ، اس لئے ایسے مضمون کے رواج دینے والا گنہگار ہو گا[1]۔
حوالہ جات
[1] امدا د الفتاویٰ: مسائل شتیٰ، تحقیق وصیت نامہ کہ چند بار بنام مجاور روضہ شیوع یافتہ ، ۴/۵۵۵ ، مکتبہ دارالعلوم،کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
حضرت سفیان ثوری l مسجد میں ایک بار اپنے سرین اور دونوں قدموں پر بیٹھے تھے، غیب سے آواز آئی کہ اَو ثور!۔۔۔
یہ قصہ محض کسی کا تراشیدہ۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
کتاب ’’نور نامہ‘‘ مجموعۂ موضوعات ہے۔