التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔

تفصیل

حدیث: ”بلال  r ،شین   کی   جگہ  اذان   میں   سین   کہتے   تھے “،  مزنی l [اصل میں اسی طرح ہے، ہمارے پاس موجودہ المقاصد الحسنہ کے نسخوں میں مزی l ہے] نے برہان l سے   نقل   کیا   ہے  کہ  عوام  کی  زبان پر  یہ  مشہور   ہو  گیا   ہے  اور ہم   نے   کسی   کتاب   میں  نہیں   دیکھا۔[حافظ سخاوی l فرماتے ہیں]  آگے سین میں بھی اس  کا  ذکر آے  گا ، [حضرت تھانوی  l فرماتے ہیں] پھر سین میں  [حافظ سخاوی  l نے] یہ کہا ہے کہ”بلال r کا  سین  اللہ  کے نزدیک  شین  ہے “، ابن  کثیر  l نے   کہا   ہے کہ اس  کی  کچھ  اصل  نہیں  اور  یہ  صحیح  نہیں۔

ف: اور  بعض   کتب  تصوف  میں  جو  پایا  جاتا  ہے  وہ  حجت  نہیں،  مگر  انہوں نے   راوی   کے   ساتھ حسنِ ظن کی   بناء   پر   لکھ دیا   ہے،   اس  لئے   وہ   معذور   ہیں[1]۔

حوالہ جات

[1] التشرف   : ص:۷۷ ،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔   التشرف: حدیث سین بلال کی عدم صحت   ،  ص   : ۱۶۷،      ادارہ  تالیفات  اشرفیہ،ملتان  ۔

علامہ ابراہیم ناجی ؒ(المتوفی:۹۰۰)،امام سیوطی ؒ،ملا علی قاری ؒ،علامہ قاوقجی ؒنے بھی اس روایت کو ”بے اصل“  کہا ہے،دیکھئے:
”كشف الخفاء“(رقم:۶۹۵،رقم:۱۵۲۰)، ”اللؤلؤ المرصوع“( رقم:۲۶۲)۔