روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
تفصیل
حدیث: ”بلال r ،شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے “، مزنی l [اصل میں اسی طرح ہے، ہمارے پاس موجودہ المقاصد الحسنہ کے نسخوں میں مزی l ہے] نے برہان l سے نقل کیا ہے کہ عوام کی زبان پر یہ مشہور ہو گیا ہے اور ہم نے کسی کتاب میں نہیں دیکھا۔[حافظ سخاوی l فرماتے ہیں] آگے سین میں بھی اس کا ذکر آے گا ، [حضرت تھانوی l فرماتے ہیں] پھر سین میں [حافظ سخاوی l نے] یہ کہا ہے کہ”بلال r کا سین اللہ کے نزدیک شین ہے “، ابن کثیر l نے کہا ہے کہ اس کی کچھ اصل نہیں اور یہ صحیح نہیں۔
ف: اور بعض کتب تصوف میں جو پایا جاتا ہے وہ حجت نہیں، مگر انہوں نے راوی کے ساتھ حسنِ ظن کی بناء پر لکھ دیا ہے، اس لئے وہ معذور ہیں[1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۷۷ ،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف: حدیث سین بلال کی عدم صحت ، ص : ۱۶۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
علامہ ابراہیم ناجی
ؒ(المتوفی:۹۰۰)،امام سیوطی ؒ،ملا علی قاری ؒ،علامہ قاوقجی ؒنے بھی اس روایت کو ”بے
اصل“ کہا ہے،دیکھئے:
”كشف الخفاء“(رقم:۶۹۵،رقم:۱۵۲۰)، ”اللؤلؤ المرصوع“( رقم:۲۶۲)۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
روایت : ”دنیا آخرت کی کھیتی کی جگہ ہے “، اس روایت کی آگاہی نہیں،
لیکن اس کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔