التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔

تفصیل

حدیث: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں)کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں،  اور حلیمی l نے  ”شعب“  میں کہا ہے کہ یہ صحیح نہیں [یہاں تک حافظ سخاوی l کا کلام مکمل ہوا] ۔ [حضرت تھانوی l فرماتے ہیں] اور  بعض  کتابوں  میں جو  پایا  جاتا  ہے  جیسا  ”بوستان“ میں  ہے:   ؎ 

سزد گر بدورش بنازم چناں
                 

 

کہ سید بد ور ان نوشیرواں

اس  کا  جواب  ابھی  (اوپر) گزر چکا  ہے  (یعنی  حسنِ ظن  بالراوی  کی  بناء  پر نقل  کر دیا)[1]۔

دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] التشرف   : ص:۷۸، مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔   التشرف   : حدیث زمان پیدائش کی صحت ،   ص   : ۱۶۷،      ادارہ  تالیفات  اشرفیہ،ملتان ۔  

[2] التشرف   : ص:۱۳۴،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔  التشرف   : حدیث  غیر ثابت ،  ص: ۱۹۴،       ادارہ  تالیفات  اشرفیہ، ملتان۔

حافظ ابو عبد اللہ حلیمی ؒ (المتوفی:۴۰۳)کے قول پر  امام بیہقی ؒ نے ”شعب الايمان“ (۷/۱۶۷) میں،حافظ زرکشی ؒ نے ”اللآلی المنثورہ“ (ص:۱۳۰) میں اکتفاء کیا ہے،اسی طرح علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“(رقم:۱۶۴۸) میں، علامہ شوکانی   ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“(رقم:۱۰۲۵) میں،علامہ محمدامیر مالکی ؒ نے ”النخبہ البہيہ“ (رقم:۴۰۵) میں، علامہ احمدبن عبدالکریم غزی ؒ نے  ”الجد الحثيث“(ص:۷۵) میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“(رقم:۳۹۰) میں اسے بے اصل،باطل قرار دیا ہے۔