روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
تفصیل
حدیث: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں)کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں، اور حلیمی l نے ”شعب“ میں کہا ہے کہ یہ صحیح نہیں [یہاں تک حافظ سخاوی l کا کلام مکمل ہوا] ۔ [حضرت تھانوی l فرماتے ہیں] اور بعض کتابوں میں جو پایا جاتا ہے جیسا ”بوستان“ میں ہے: ؎
سزد گر بدورش بنازم چناں
کہ سید بد ور ان نوشیرواں
اس کا جواب ابھی (اوپر) گزر چکا ہے (یعنی حسنِ ظن بالراوی کی بناء پر نقل کر دیا)[1]۔
دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۷۸، مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : حدیث زمان پیدائش کی صحت ، ص : ۱۶۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
[2] التشرف : ص:۱۳۴،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف : حدیث غیر ثابت ، ص: ۱۹۴، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان۔
حافظ ابو عبد اللہ حلیمی ؒ (المتوفی:۴۰۳)کے قول پر امام بیہقی ؒ نے ”شعب الايمان“ (۷/۱۶۷) میں،حافظ زرکشی ؒ نے ”اللآلی المنثورہ“ (ص:۱۳۰) میں اکتفاء کیا ہے،اسی طرح علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“(رقم:۱۶۴۸) میں، علامہ شوکانی ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“(رقم:۱۰۲۵) میں،علامہ محمدامیر مالکی ؒ نے ”النخبہ البہيہ“ (رقم:۴۰۵) میں، علامہ احمدبن عبدالکریم غزی ؒ نے ”الجد الحثيث“(ص:۷۵) میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“(رقم:۳۹۰) میں اسے بے اصل،باطل قرار دیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔