روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
تفصیل
حدیث: وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے، [حافظ سخاوی l فرماتے ہیں] میں اس حدیث پر مطلع نہیں ہوا ۔
ف: [بعض کتب تصوف میں پائے جانے کا] عذر وہی ہے جو ابھی {إن بلا لا} میں اور بعثت [یعنی میں عادل بادشاہ کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں] میں گزرا [یعنی حسنِ ظن بالراوی کی بناء پر نقل کیا ہو گا][1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۷۹ ،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : حب الوطن داخل ایمان نہیں ہے ، ص : ۱۶۸، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان۔
امام سخاوی ؒ کی طرح امام سیوطی ؒ نے ”الدرر المنتثرہ“(رقم:۱۹۰) میں،علامہ محمدامیر مالکیؒ نے”النخبہ البہيہ“ (رقم:۱۰۳) میں اس روایت کے عدمِ معرفت کے قول کو اختیار کیا گیا ہے،نیز علامہ صغانی ؒ نے ”موضوعات“ (ص:۵۳) میں،علامہ محمدبن محمد درویش ؒ نے”اسنى المطالب“ (رقم:۵۵۱) میں اس روایت کو من گھڑت،اور ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“ (رقم:۱۰۶) میں اسے بے اصل کہا ہے، علامہ احمدبن عبدالکریم غزی ؒ نے ”الجد الحثيث“(ص:۸۵) میں اس کے حدیث ہونے کی نفی کی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”قلب خانۂ خدا ہے“، لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، البتہ اس کے قریب المعنیٰ ایک دوسری روایت ثابت ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔
روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔