روایت: ’’نماز مؤمن کی معراج ہے‘‘،یہ حدیث نہیں ہے، کسی کا مقولہ ہے۔
تفصیل
’’حديث: ×الصلوة معراج المؤمن÷. [نماز مؤمن کی معراج ہے]
×اشتهر على ألسنة العوام أنه حديث مرفوع، وقد أوْغَلْتُ في طلبه في مظانه فلم أعرفه، ولم أعْثُرْ له على سند، والظاهر أنه من كلام بعض السلف، وإن ثبت فمعناه أن الصلوة يحصل بها غاية القرب للمصلي بالرب تبارك وتعالى، كما حصل للنبي صلى الله عليه وسلم في المعراج، ويحصل المحادثة والمناجاة كما ورد في الصحيحين وغيرهما: أن المصلي يناجي ربه. والله أعلم÷[1].‘‘ [لوگوں کی زبانوں پر یہ روایت مرفوعاً (آپ ﷺ کا قول) مشہور ہے، میں نے ممکنہ مقامات پر یہ روایت خوب تلاش کی ہے، لیکن مجھے یہ روایت کہیں نہ ملی، اور اس کی کسی بھی قسم کی سند حاصل نہ ہوسکی، بظاہر یہ سلف میں سے کسی کا کلام ہے، اور اگر یہ ثابت ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ نماز پڑھنے والے کو نماز میں رب تعالیٰ سے انتہائی قربت ہوئی ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کو معراج میں انتہائی قربت حاصل ہوئی تھی، نیز نمازی (دورانِ نماز) رب تعالیٰ سے مناجاۃ کرتا ہے جیسا کہ ’’صحیحین ‘‘ وغیرہ میں وارد ہے کہ نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔ واللہ اعلم]۔
ایک دوسرے انداز سے
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’حضورِ قلب کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘،یہ قصہ گوواعظوں کی حدیث ہے، میں اب تک ان الفاظ کے ساتھ اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔
روایت: ’’معراج کے موقع پر باری تعالیٰ کا فرمان کہ آپ(ﷺ)جوتے نہ اتاریں،جوتوں سمیت آجائیں‘‘، یہ روایت بے اصل معلوم ہوتی ہے۔
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔