روایت: ’’ہر چیز کا کوئی دفینہ ہوتا ہے، اور تقوٰی کا دفینہ عارفین کے دل ہیں‘‘، یہ متن صاحب رسالت ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ اہل تصوف کا کلام ہے
تفصیل
’’سوال: ×لکل شیء معدن، ومعدن التقوى قلوب العارفین÷. [ ہر چیز کا کوئی دفینہ ہوتا ہے، اور تقوی کا دفینہ عارفین کے دل ہیں]۔
جواب: امر اول [یعنی زیرِ بحث روایت] صوفیہ کا کلام ہے،مرفوعاً اس کا ثبوت نہیں ہے، نورالدین ہیثمی lکہتے ہیں (ص :۳۶۸ /۱۰):
×عن عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لکل شیء معدن، ومعدن التقوى قلوب العارفین. وفیه محمدبن رجاء وهو ضعیف. انتهى.
ولم یذکر [أي الهيثمي] من خرّجه، وفیه سقوط، والصواب: رواه الطَبَرَاني، وفیه محمد بن رجاء وهو ضعیف. ورواه البیهقي عن عمر. وهذا الحدیث لایثبت، وقد حکم ابن الجوزي وغیره بوضعه، کما بسطه المُنَاوِي في فیض القدیر(ص :۲۸۶/۵) ÷[1].
[(حضرت جونپوری l کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ) حافظ ہیثمی l نے حضرت عبد اللہ بن عمرw سے بحوالہ طبرانی l اس روایت کو نقل کیا ہے،اور کہا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن رجاء ضعیف راوی ہے۔امام بیہقی l نے اسے حضرت عمرt سے تخریج کیا ہے۔
اور یہ حدیث ’’ثابت‘‘ نہیں ہے،حتیٰ کہ ابن جوزی l وغیرہ نے اس پر من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے، مُنَاوِی l نے بھی یہی تفصیل ’’فیض القدیر‘‘ میں لکھی ہے]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: لکل شیء معدن ومعدن التقوی قلوب العارفین، ۱/۵۲، ۵۳ ۔
[2] الیواقیت الغالیۃ: لکل شیء معدن الخ یہ کنز العمال میں ہے یا نہیں ؟ ۱/۵۸،۶۰۔ بقیہ اگلے صفحہ پر =
= حافظ ذہبی lنے ’’میزان الاعتدال‘‘ (۴/ ۳۳۱، رقم: ۹۳۳۶)میں،حافظ ابن قیم lنے ’’المنار المنیف‘‘ (ص: ۶۶) میں اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے، نیر امام بیہقی lنےبھی ’’شعب الایمان‘‘ (۶/ ۳۶۲، رقم:۴۳۳۰)میں اسے منکر کہا ہے ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں‘‘، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے‘‘، یہ روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت کہ: ’’آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے‘‘،شدید ضعیف ہے۔
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔