التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”بدھ کے روز کتاب شروع کر نے کا اہتمام۔۔۔“،اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔

تفصیل

اسی طرح بعض طلباء کو بدھ کے روز کتاب شروع کر نے کا اہتمام کر تے دیکھا ہے، اور اس کو کسی روایت کی طرف مستند سمجھتے ہیں، سو اس  بات میں کوئی روایت  ثابت  نہیں[1]۔

حوالہ جات

[1] غلط مسئلے :عقائد، ایمان، ذکر وتلاوت، علم، عملیات وتعویذات  ، ص ۲۲، عمران اکیڈمی، لاہور ۔

حافظ سخاویؒ نے ”المقاصد الحسنہ“(رقم:۹۴۳) میں اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ ”میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوں“،حافظ سخاوی ؒ کے قول پر علامہ عجلونی  ؒ نے ”كشف الخفاء“(رقم:۲۱۹۱)میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“ (رقم:۲۷۵) میں،علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ” اسنى المطالب“ (رقم:۱۲۴۳) میں،علامہ عبد الحي لکھنوی ؒ نے ”الفوائد البهيہ“ (ص:۵۸)میں اکتفاء کیا ہے،نیز حافظ ابن عراق ؒ نے ”تنزيه الشريعہ“ (۲/۵۵) میں اسے ”بے اصل“  کہا ہے،البتہ بدھ کو بعض دیگر معتبر روایات کے مطابق قبولیت اور فضیلت حاصل ہے،اس لئے ان معتبر روایات کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے درس وغیرہ کی ابتداء بدھ سے کرنابلاشبہ مستحسن ہے،اور حضرات علماء سلف کا معمول بھی ہے،چنانچہ حافظ ابن عراق ؒ نے اگرچہ زیرِ بحث روایت کو ”بے اصل “کہا ہے ،لیکن بروزبدھ،درس کی ابتداءکو مستحسن سمجھتے ہوئےیہ دلیل پیش کی ہے:  

”بہتر یہ ہے کہ اس بارے میں یہ صحیح حدیث مدِ نظر ہو کہ ”اللہ عز وجل نے بدھ کو نور کی تخلیق کی“انتہی،اورعلم بھی ایک نور ہے،چنانچہ بروزبدھ ابتداء کرنے پر یہ نیک فالی ہوگی کہ یہ فعل پایہ تکمیل تک پہنچے گا،کیونکہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ  ”اللہ اپنے نور کو ضرور پورا کرکے رہیں گے“،جزء ابی بکر انباری میں عطاءبن میسرہ عن عطاء بن ابی رباح عن عائشہ ؓ مروی ہے،”سفرکے لئے،نکاح کے لئے،اور بچے کے ختنہ کے لیے پسندیدہ دن بدھ ہے“۔  

اسی طرح علامہ عبد الحي لکھنویؒ نے بروز بدھ ابتداءِ درس کو پسند کیا ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے:

”مجھے اس روایت کی ایک دوسری لطیف اصل ملی ہے،جسے امام بخاری ؒنے”ادب المفرد“میں،نیزامام احمد بن حنبلؒ اورامام بزار ؒ نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے مسجد فتح میں پیر،منگل اور بدھ کو دعا کی،چنانچہ بروز بدھ ظہر اور عصر کے درمیان آپ ﷺ کی دعا قبول ہوگئی۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ مجھےجب بھی کوئی اہم بات پیش آتی ہے،میں اس گھڑی کی جستجو کرتا،اور بروز بدھ اس گھڑی میں دعا کرتا،میری دعا قبول ہو جاتی“۔