التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔

تفصیل

’’سوال: ×اعمل لدنياك كأنك تعيش أبدا، واعمل لآخرتك كأنك تموت غدا÷؟ [دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو  کل مرنے والا ہے]

جواب:  حدیثِ اول [یعنی زیرِ بحث روایت] تو بلفظہ نہیں ملی، لیکن اس کے معنی ایک حدیث کے ذیل میں ’’کنز العمال‘‘ اور ’’منتخب کنز العمال‘‘ (ص: ۱۴۰/۶) وغیرہ میں موجود ہے،پوری حدیث عبد اللہ بن عمرو بن العاص r سے حسب ذیل الفاظ سے مروی ہے:

×إن هذا الدين متين، فأوغِل فيه برفق، ولا تُبَغِّضْ إلى نفسك عبادة ربك، فان المُنبَتَّ لا سفرا قَطَعَ ولا ظَهْرا ألقى [كذافي الأصل و في كنزالعمال: أبقى]، فاعمل عمل امرئ يظن أن لن يموت أبدا، واحذر حذر من يخشى أن يموت غدا. رواه البيهقي في شعب الإيمان والسنن الكبير (ص :۱۹/۳) والعسكري في الأمثال وسنده ضعيف، وفي لفظ: يظن أنه يموت هَرَما÷.‘‘

[بلاشبہ یہ دین قوی ہے، لہٰذا اس میں نرمی سے مشغول ہونا،اور اپنے رب کی بندگی سے اپنے آپ کو متنفر مت بناؤ،کیونکہ سواری کو تھکا کر ساتھیوں سے پیچھے رہ جانے والا نہ کسی زمین کی مسافت طے کر پاتا ہے،نہ ہی کسی کمر کو سلامت چھوڑتا ہے، اور عمل اس آدمی کے عمل کی طرح کرو جس کو یہ گمان ہو کہ وہ کبھی نہیں مرے گا، اور خوف اس آدمی کے خوف کی مانند رکھو جسے کل اپنے مرجانے کا اندیشہ ہو۔اسے بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ و ’’سنن کبیر‘‘ میں تخریج کیا ہے، نیز عسکری l نے ’’امثال‘‘ میں ذکر کیا ہے، اوراس کی سند ضعیف ہے، اور (بعض جگہ ) یہ الفاظ بھی ہیں: جسے یہ گمان ہو کہ وہ بوڑھا ہو کر مرے گا]

اور امام ابن المبارک lنے ’’ کتاب الزہد‘‘ (ص :۴۶۹)میں موقوفًا روایت کیا ہے۔

اس کے بعد مُنَاوِی lکی ’’فیض القدیر‘‘ کی مراجعت کی تو اس سے معلوم ہوا کہ حدیث مسئول حدیث نہیں ہے، بلکہ بعض لوگوں نے حدیثِ مذکور [جو ذیل میں آرہی ہے] کی شرح میں فرمایا ہے (ص: ۱۲/ج۲):

×اعمل عمل من وفي نسخة: امرئ يظن أن لا يموت أبدا، واحذر حذر امرئ يخشى أن يموت غدا [انتهى الحديث]. أي: قريبا جدا، ولم يرد به حقيقة الغد، والمراد تقديم أمر الآخرة وأعمالها حَذَرَ الفوت بالموت على عمل الدنيا، وتاخير أمر الدنيا كراهة الاشتغال بها على عمل الآخرة.

وأما ما فهمه البعض أن المراد: اعمل لدنياك كأنك تعيش أبدا، واعمل لآخرتك كأنك تموت غدا، ويكون المراد الحث على عمارة الدنيا لينتفع من يجيء بعد، والحث على عمل الآخرة، فغير مرضي، لأن الغالب على أوامر الشارع ونواهيه الندب إلى الزهد في الدنيا، والتقلل من متعلقاتها، والوعيد على البناء وغيره، وإنما مراده أن الإنسان إذا عمل [كذافي الأصل والظاهر أنه: علم] أنه يعيش أبدا، قل حرصه وعمله، أن [كذافي الأصل والظاهر أنه: وأن] ما يريده لن يفوته تحصيله بترك الحرص عليه والمبادرة إليه، فإنه يقول: إن فاتني اليوم أدركته غدا، فإني أعيش أبدا، ويكون أمره بعمل الآخرة على ظاهره اهـ ÷.

[ اس شخص کی طرح اعمال کرو جسے یہ خیال ہو کہ وہ کبھی نہیں مرے گا، اور اس شخص کے خوف کی طرح خوف اختیار کرو جسے کل مرنے کا خوف ہو یعنی بہت جلد مرنے کا خوف ہو)حدیث مکمل ہوئی(۔ یہاں ’’حقیقی ’’ کل‘‘مراد نہیں ہے، مراد یہ ہے کہ آخرت کے امور واعمال کو دنیا کے کاموں پر مقدم رکھو، اس اندیشہ پر کہ کہیں موت سے یہ (امورِ آخرت ) فوت نہ ہوجائیں، اور دنیاوی کاموں کو اخروی کاموں سے مؤخر رکھو، ان میں مشغول ہونے کو ناپسند سمجھتے ہوئے ۔

اور بعض کا (اس قول سے) یہ سمجھنا کہ دنیاوی کام اس طرح کرو کہ تم ہمیشہ جیتے رہوگے، اور اخروی کام اس طرح کرو کہ گویا کہ تم کل مرجاؤ گے، اور یہ کہ (اس سے مقصود) لوگوں کو تعمیرِ دنیا پر ابھارنا ہے، تاکہ بعد میں آنے والے انسان اس سے نفع اٹھائیں، اور آخرت پر بھی ابھار نا (اس سےمقصود)ہے ۔ یہ (اس قول سے مراد لینا ) پسندیدہ نہیں ہے، کیونکہ اکثر شریعت کے اوامر ونواہی کا مقصود دنیا سے بے رغبتی پیدا کرنا ہے، اور دنیا سے متعلق چیزوں میں کم مشغول ہونا (مقصود) ہے، نیز دنیا کو آباد کرنا وغیرہ پر وعیدیں بھی ہیں، (جب یہ بات ثابت ہے تو) اس قول سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو یہ معلوم ہوگا کہ اسے ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو اس کی حرص وعمل کم ہوجائے گا، کیونکہ وہ سمجھے گا کہ چاہتوں میں حرص نہ کرنے سے اور ان کے حصول میں جلدی نہ کرنے سے، وہ فوت نہیں ہونگیں، بایں وجہ کہ اگر آج نہ ملیں تو کل مل جائیں گی، کیونکہ ہمیشہ ہی زندہ رہنا ہے، البتہ آخرت کے اعمال پروہ ظاہر کے مطابق عمل کرے]

اور یہ حدیث [یعنی: اس شخص کی طرح اعمال کرو۔۔۔] ضعیف ہے، سیوطی l نے ’’جامع صغیر‘‘ میں اس کے ضعف کی علامت لگائی، مُنَاوِی l فرماتے ہیں: ×لأن فيه ضعيفا ومجهولا. انتهى÷. [اس لیے کہ اس میں ضعیف ومجہول راوی ہیں، انتہیٰ ]

اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے معاملہ میں بہت زیادہ کوشش نہ کرے، جیسے کسی کو یہ معلوم ہو کہ اسے ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آج کا کام کل پر ڈالتا رہے گا، بخلاف آخرت کے کہ اس میں خوب فکر کرنی چاہیے، جیسے کسی کو آج ہی کا دن عمل کے واسطے ہے اور کل تو اسے حاضری دینی ہے تو وہ پوری کوشش کرے گا۔

پھر بہت دنوں کے بعد جب حافظ ابن حجر l کی ’’المطالب العالیہ‘‘ چھپ کر آئی تو اس میں (ص :۱۷۲،ج ۳)عبد اللہ بن عمرو بن العاص r کا قول بروایت حارث بن ابی اسامہ lان الفاظ میں ملا:

×أحْرِزْ لدنياك كأنك تعيش أبدا، واعمل لآخرتك كأنك تموت غدا [انتهى كلام ابن حجر]. وقال بعض الفضلاء فی حاشية المقاصد الحسنة (ص :۱۹۲): رواه ابن أبي الدنيا بلفظ: احرث. وإسناده مجهول، ولا أصل له في المرفوع، وقول عبد الله بن عمرو رواه ابن قتيبة في غريب الحديث (ص :۸۱/ج ۱) بلفظ: احرث، انتهى÷[1].

[دنیا اس طرح جمع کر گویا تو ہمیشہ جئے گا، اور آخرت کے لئے  عمل کر گویاکہ تو کل مرجائے گا(حافظ ابن حجر lکی عبارت مکمل ہوئی)، اور ’’المقاصد الحسنہ ‘‘ کے حاشیہ میں بعض فضلاء نے لکھا ہے: ابن ابی الدنیا lنے یہ روایت ان لفظوں سے لکھی ہے: کھیتی کر، اس روایت کی سند مجہول ہے، مرفوع میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور ابن قُتَیْبَہ lنے اسے ’’غریب الحدیث ‘‘ میں ’’کھیتی کر‘‘ کے الفاظ سے، عبداللہ بن عمر و r کے قول کے طور پر اسے ذکر کیا ہے، انتہیٰ ]

حوالہ جات

[1]  الیواقیت الغالیۃ: اعمل لدنیاک کانک تعیش ۔۔۔ ۱/۲۸۵،۲۸۷۔