روایت: ×الخير فيما وقع÷. جو ہوچکا اسی میں خیر ہے،یہ حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×الخير فيما وقع÷. [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے] کیا حدیث ہے؟
جواب: ×الخير في ما وقع÷. [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے]حدیث نہیں ہے، حضرت شیخ l نے آپ بیتی املاء کرائی ہے، انداز [كذا في الأصل] یہ ہے کہ کاتب کے قلم سے لغزش ہوئی، صاحبِ ’’ کشف الخفاء‘‘ لکھتے ہیں: ×والخيرة في الواقع، ليس بحديث÷ [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے، یہ حدیث نہیں ہے][1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:الخير فى ما وقع کیا حدیث ہے؟ ۲/۴۷۲ـ ۴۷۵۔
یہ روایت ان الفاظ سے بھی بیان ہوتی ہے: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے واسطہ جو پسند کرے،وہ بندہ کی اپنی پسند سے بہتر ہے۔یہ روایت بھی ان لفظوں سے ثابت نہیں ہے،اگرچہ اس کا معنی درست ہے،چنانچہ ’’ كشف الخفاء‘‘ (۱/ ۴۵۱) میں ہے: ×(خيرة الله للعبد خير من خيرته لنفسه) قال في التمييز: لم أجد عليه كلاما وما علمته في المرفوع، ويستأنس له بقوله تعالى: (وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم وعسى أن تحبوا شيئا وهو شر لكم) وقال القاري: لم يعرف له أصل في مبناه وإن صح معناه كما يستفاد من قوله تعالى: (وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم). ومن هنا ورد الأمر بالاستخارة صلاة ودعاء، وورد: ما خاب من استخار، وما ندم من استشار، وثبت في الدعاء: اللهم خر لي واختر لي ولا تكلني إلى اختياري، وهذا أصل ما اشتهر على ألسنة العامة: الخيرة فيما اختاره الله، والخيرة في الواقع÷.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ×الدنيا جيفة وطالبها كِلاب÷؟ (دنیا مردار ہے اور اس کے طلب گار کتے ہیں ) حدیث بلفظہ تو موجود نہیں ہے، ہاں بمعناہ ملتی ہے۔
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
روایت: ’’اگر کوئی شخص جماعت کا رہبر ہوگا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رہبر بنا کر جنت میں لےجائیں گے‘‘،ان لفظوں کے ساتھ یہ حدیث نہیں ملی۔