روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
باب: معجزاتِ نبوی ﷺ
جانوروں، کنکریوں، چاند وغیرہ سے متعلق آپ ﷺ کے معجزات کی بے اصل روایات۔
گروپ: سیرت
19 روایات
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: ’’ایک صحابی r رسول کا آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے اونٹ کے بارے میں شکایت کرنا کہ وہ مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا، اور اونٹ کا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہنا میں ان کو اس وجہ سے سونے نہیں دیتا کہ مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں ان کی نماز فوت نہ ہوجائے‘‘۔
روایت : حبیب بن مالک کا آپ ﷺ سے شقِ قمر کا معجزہ طلب کرنااور آپ ﷺ کی برکت سے اس کی بیٹی سطیحہ کا ٹھیک ہونا۔
روایت : حضر موت کے وفد کے سامنے کنکریوں کا آپ ﷺکی مٹھی میں تسبیح پڑھنا
روایت: آپ ﷺکے فرمانے پرابوجہل کے ہاتھوں میںکنکریوں کا آپ ﷺ کی شہادت دینا۔
روایت: ابوجہل کا آپ ﷺ کےلئے گھڑا کھودنا، اور خود اس میں گر جانا
روایت: ’’گوہ کا آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دینااور اعرابی کا مسلمان ہونا‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کے دستِ مبارک سے حضرت سلمان r کےواسطے لگائے گئےتین سو درختوں کا راتوں رات اگنا۔
روایت: آپ ﷺنے جوروٹی تنور میں لگائی وہ نہیں پکی،پوچھنےپرفرمایا:جس چیز کو محمد کا ہاتھ لگ جائے اسے آگ نہیں چھوسکتی