روایت: آپ ﷺکے فرمانے پرابوجہل کے ہاتھوں میںکنکریوں کا آپ ﷺ کی شہادت دینا۔
تفصیل
ایک دفعہ ابوجہل آپ ﷺ کی خدمت میں مٹھی میں کنکریاں چھپا کر لایا، اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو بتائیں کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا میں بتاؤں یا یہ خود بتائیں، اس پر کنکریوں نے آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی۔
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:1/234،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ايند كمبني ـ لاهور .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ابوجہل کا آپ ﷺ کےلئے گھڑا کھودنا، اور خود اس میں گر جانا
روایت : حضر موت کے وفد کے سامنے کنکریوں کا آپ ﷺکی مٹھی میں تسبیح پڑھنا
روایت : حبیب بن مالک کا آپ ﷺ سے شقِ قمر کا معجزہ طلب کرنااور آپ ﷺ کی برکت سے اس کی بیٹی سطیحہ کا ٹھیک ہونا۔
روایت: ’’أخي يوسف أصبح، وأنا أملح‘‘.آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: میرے بھائی یوسف زیادہ صباحت والے ہیں، اور میں زیادہ ملاحت والا ہوں۔
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔