روایت: ’’گوہ کا آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دینااور اعرابی کا مسلمان ہونا‘‘۔
حکم: شدید ضعیف،بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
یہ روایت دو(۲) سندوں سے مروی ہے:
1 طریق ِحضرت عمر بن خطاب r
2 طریق ِحضرت علی المرتضی r
طریقِ حضرت عمر بن خطاب r
روایت پر ائمہ حدیث کا کلام
حوالہ جات
[1] المعجم الأوسط: ۶/ ۱۲۷، رقم: ۵۹۹۶، ت: طارق بن عوض الله،دار الحرمین- قاهره، ط: ۱۴۱۵ هـ. .
[2] المعجم الصغیر: ۲/ ۱۵۳، رقم: ۹۴۷، ت: محمد شکور محمود، المکتب الإسلامی - بیروت، ط:۱۴۰۵ هـ. .
[3] دلائل النبوة: ۶ / ۳۶، ت: عبد المعطی قلعجی، دارالکتب العلمیة- بیروت، ط:۱۴۰۸ هـ. .
[4] تاريخ دمشق: ۴/ ۳۸۳، ت: عمربن غرامة، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۱۶ هـ .
[5] البداية والنهاية: ۶/۱۶۵ ، ت:علي شيري،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ.
[6] سبل الهدى والرشاد لمحمد بن يوسف الصالحي الشامي(۹۴۲ هـ):جماع أبواب معجزاته صلى الله عليه وسلم في الحيوانات، الباب العاشر في شهادة الضب له بالرسالة، ۹ /۴۲۱، دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: ۱۴۱۴ هـ .
[7] المصدر السابق. واضح رہےکہ ہم نے یہ قول، مصدر ِثانوی سے لکھا ہے،حافظ ابن تیمیہ l کی معروف کتب میں مجھے یہ قول تا حال نہیں ملا۔
[8] کنزالعمال: ۱۲/ ۳۵۸، رقم:۳۵۳۶۴، مؤسسة الرسالة - بیروت، الطبعة الخامسة: ۱۴۰۵هـ .
[9] کنزالعمال: ۱۲/ ۳۵۸، رقم:۳۵۳۶۴، مؤسسة الرسالة - بیروت، الطبعة الخامسة: ۱۴۰۵هـ .
[10] ميزان الاعتدال: ۳/ ۶۵۱، رقم:۷۹۶۴، ت: علی محمد البجاوی، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .
[11] التلخيص الحبير:۴ /۲۳۱، رقم:۲۳۱۵،،ت:أبو عاصم حسن بن عباس،مؤسسة قرطبة ـ القاهرة،الطبعة: ۱۴۱۶هـ .
[12] لسان الميزان: ۷/ ۳۶۰، رقم:۷۱۸۴، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .
[13] مجمع الزوائد: ۸/ ۵۱۸، رقم:۱۴۰۸۶، ت: عبدالله محمد درويش، دار الفكر– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[14] الخصائص الکبرى: باب قصة الضب،۲/ ۱۰۰، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .
[15] دلائل النبوة: ذكر الظبي والضب، ۲/۳۷۷، رقم:۲۷۵،ت: محمد رواس قلعجي، دار الفائس – بيروت، الطبعة: ۱۴۰۶ هـ .
[16] علامہ تقی الدین احمد بن علی المقریزی l نے ’’إمتاع الأسماع‘‘ میں حافظ ابونعیم اصبہانیl کی بیان کردہ حدیث ذکر کی ہے،ملاحظہ ہو:
’’فخرج أبو نعيم من حديث أبي بكر بن أبي عاصم قال: أخبرنا يحيى بن خلف، أخبرنا معمر قال: سمعت كَهْمَس يحدث عن داود بن أبي هند، عن عامر قال: صحبت ابن عمر سنتين فما سمعته يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا حديث الضّب، وكان إذا حدثنا يحدثنا عن عمر، ولم يكن يحدث إلا عن فقه. قال أبو نعيم: كذا رواه يحيى بن خلف عن معتمر مختصرا، وطوّله محمد بن عبد الأعلى‘‘. (إمتاع الأسماع:۵/ ۲۴۳،ت: محمد عبد الحميد النميسى، دار الكتب العلمية– بيروت،ط:۱۴۲۰ هـ .)
حضرت عامر شعبی l بیان فرماتے ہیں کہ میں ابن عمرr کی خدمت میں دوسال رہا،میں نے ان سےاس عرصے میں آپﷺ کے انتساب سےصرف حدیثِ ضب ہی سنی ہے،وہ جب بھی ہمیں بیان کرتےتو عمر rسے نقل کرتے تھے،اور وہ فقہ کے ساتھ ہی حدیث بیان کرتے تھے۔حافظ ابو نعیمl فرماتے ہیں کہ یحی بن خلف نے معتمر سےاسی طرح اس روایت کو مختصراً نقل کیا ہے،اور محمد بن عبد الاعلی نے اسے معتمر سے تفصیل سے نقل کیا ہے۔
اس کے بعد حافظ ابو نعیم l نے ذیرِ بحث مطول روایت نقل کی ہے،حاصل یہ رہا کہ حافظ ابو نعیم l نے یہاں’’روایتِ ضب‘‘دو طریق سے ذکر کی ہے،پہلا طریق سلمی سے خالی ہے،لیکن مختصر ہے،اور اس کا متن بھی ذکر نہیں کیا،دوسراطریق سلمی پر مشتمل ہے،وہ مفصل ہے،جیسا کہ ہم ما سبق میں اسے لکھ چکے ہیں،تلاش کرنے پر حافظ ابو نعیم اصبہانی l کی ذکرکردہ ’’روایتِ ضب‘‘ کا متن بطریق عامر شعبی جو سلمی سے خالی ہے،’’صحیح بخاری‘‘میں مل گیا،لیکن اس’’روایتِ ضب‘‘ میں زیرِ بحث قصہ کا کوئی ذکر نہیں ہے،معلوم ہوتا ہے کہ حافظ ابو نعیم l اسی علت کی جانب اشارہ فرما رہے ہیں کہ روایتِ شعبی بطریق محمد بن عبد الاعلی عن معتمر(جس میں سلمی نہیں ہے)جس مطول مضمون کو شامل ہے،روایتِ شعبی بطریق یحیی بن خلف عن معتمر کا مختصر متن یکسر اس سے خالی ہے،امام بخاری l کی روایت ملاحظہ ہو:
’’حدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن توبة العنبري قال: قال لي الشعبي: أرأيتَ حديث الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم، وقاعدتُ ابن عمر قريبا من سنتين أو سنة ونصف، فلم أسمعه يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا، قال:كان ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيهم سعد، فذهبوا يأكلون من لحم، فنادتهم امرأة من بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم =
= إنه لحم ضب، فأمسكوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وَسلم: كلوا أو اطعموا فإنه حلال أو قال لا بأس به، شك فيه، ولكنه ليس من طعامي‘‘. (الصحيح للبخاری:۹/ ۹۰،ت: محمد زهير بن ناصر،دار طوق النجاة،ط:۱۴۲۲ هـ)
توبۃ العنبریl فرماتے ہیں کہ حضرت عامر شعبیl نے مجھ سے کہا کہ دیکھو تو حسنl آپ ﷺ کی کتنی ہی احادیث(یعنی مرسلاً)بیان کرتے ہیں،حالانکہ میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے پاس دویا ڈیڑھ برس رہا ہوں،لیکن میں نے اس عرصہ میں ان سے آپﷺ کے انتساب سے صرف یہ حدیث سنی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی جماعت جن میں حضرت سعدr بھی تھےگوہ کا گوشت کھانے لگے، نبیﷺکی اہلیہ نے ان سے کہا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے،یہ سن کر صحابہ کھانے سے رک گئے،آپﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ،یا فرمایا کہ کھلاؤ،کیونکہ یہ حلال ہے،یا کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ـ راوی کو ان الفاظ میں شک ہے ـ لیکن یہ میری خوراک (غذا) نہیں ہے(یعنی میری طبیعت میں اس کی جانب میلان نہیں ہے)۔
[17] الأسرار المرفوعة:۱/ ۲۳۹،رقم:۲۷۲،ت:محمد الصاغ،مؤسسة الرسالة ـ بیروت،الطبعة: ۱۳۹۱هـ..
[18] المواهب اللدنية بالمنح المحمدية: ۲ / ۲۷۹، المكتبة التوفيقية- القاهرة ، الطبعة: ۱۳۲۶ هـ .
[19] الكشف الحثيث:۱ /۲۴۱، رقم:۷۰۷، ت: صبحي السامرائي، مكتبة النهضة العربية - بيروت، ط:۱۴۰۷ هـ .
[20] البدر المنير:۹ /۲۰۱، ت: مصطفى أبو الغيط و عبدالله بن سليمان وياسر بن كمال، دار الهجرة– الرياض، الطبعة الأولى: ۱۴۲۵هـ.
[21] تاريخ دمشق: ۴/ ۳۸۱، ت: عمربن غرامة، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۱۶ هـ .
[22] تاریخ بغداد: ۶/ ۲۴۴، رقم:۲۲۳۴ ، ت: بشّار عوّاد، دار الغرب الإسلامی ـ بیروت، الطبعة الأولی: ۱۴۲۲ هـ..
[23] میزان الاعتدال: أحمد بن محمد بن عمران،۱ /۱۴۷،رقم : ۵۷۵،ت: علی محمد البجاوی، دار المعرفة- بیروت.
[24] لسان الميزان:۱/ ۶۳۹، رقم:۷۸۹، ت: عبدالفتاح أبو غدة، دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’الدنيا مزرعة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
روایت: ’’من امتشط قائما ركبه الدين‘‘.
ترجمہ: کھڑے ہو کر کنگی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔
روایت: ’’علم حاصل کرو اگرچہ چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔ضمنی طور پر روایت: ’’علم حاصل کرو، ماں کی گود سے قبر تک‘‘کی تحقیق کی گئی ہے۔
روایت: ’’إذاسلِم رمضان سلِمت السنة، وإذا سلِمت الجمعة سلِمت الأيام ‘‘.
اگر رمضان شریف ٹھیک رہا،تو پورا سال ٹھیک رہےگا، اور اگر جمعہ ٹھیک رہا تو پورا ہفتہ ٹھیک رہے گا۔
روایت: کھانے کےبعد کی دعا: الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمين‘‘.