حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:3/302،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
[2] مثنوي مولوي معنوي:3/305،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
[3] الصحيح للبخاري:1/76،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
’’صحیح بخاری‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’حدثنا مسدد، قال: حدثني يحيى بن سعيد، قال: حدثنا عوف، قال: حدثنا أبو رجاء، عن عمران، قال: كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم، وإنا أسرينا حتى كنا في آخر الليل، وقعنا وقعة .....ثم سار النبي صلى الله عليه وسلم، فاشتكى إليه الناس من العطش، فنزل فدعا فلانا كان يسميه أبو رجاء نسيه عوف ودعا عليا فقال: اذهبا، فابتغيا الماء، فانطلقا، فتلقيا امرأة بين مزادتين أو سطيحتين من ماء على بعير لها، فقالا لها: أين الماء؟ قالت: عهدي بالماء أمس هذه الساعة ونفرنا خلوف، قالا لها: انطلقي إذا، قالت: إلى أين؟ قالا: إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: الذي يقال له الصابئ، قالا: هو الذي تعنين، فانطلقي، فجاءا بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وحدثاه الحديث، قال: فاستنزلوها عن بعيرها، ودعا النبي صلى الله عليه وسلم بإناء، ففرغ فيه من أفواه المزادتين أو سطيحتين وأوكأ أفواههما وأطلق العزالي، ونودي في الناس: اسقوا واستقوا، فسقى من شاء واستقى من شاء وكان آخر ذاك أن أعطى الذي أصابته الجنابة إناء من ماء، قال: اذهب فأفرغه عليك، وهي قائمة تنظر إلى ما يفعل بمائها، وأيم الله لقد أقلع عنها، وإنه ليخيل إلينا أنها أشد ملأة منها حين ابتدأ فيها .
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجمعوا لها، فجمعوا لها من بين عجوة ودقيقة وسويقة حتى جمعوا لها طعاما، فجعلوها في ثوب وحملوها على بعيرها ووضعوا الثوب بين يديها، قال لها: تعلمين ما رزئنا من مائك شيئا، ولكن الله هو الذي أسقانا، فأتت أهلها وقد احتبست عنهم، قالوا: ما حبسك يا فلانة! قالت: العجب لقيني رجلان، فذهبا بي إلى هذا الذي يقال له الصابئ ففعل كذا وكذا، فوالله إنه لأسحر الناس من بين هذه وهذه، وقالت: بإصبعيها الوسطى والسبابة، فرفعتهما إلى السماء تعني السماء والأرض أو إنه لرسول الله حقا، فكان المسلمون بعد ذلك يغيرون على من حولها من المشركين، ولا يصيبون الصرم الذي هي منه، فقالت: يوما لقومها ما أرى أن هؤلاء القوم يدعونكم عمدا، فهل لكم في الإسلام؟ فأطاعوها، فدخلوا في الإسلام‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: عرب کے سرداروں کا آنحضورﷺ سے جھگڑنا کہ ملک بانٹ لیجئے تاکہ جھگڑا نہ ہواور آنحضورﷺ کا ان کو جواب دینا کہ میں اس حکومت میں اللہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہوں اور جانبین سے ان کی بحث، پھر سیلاب کا آنا اور اسے روکنے کےلئے سرداروں نے اپنے نیزے ڈالے جنہیں سیلاب بہا کر لے گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں ایک شاخ ڈالی تو سیلاب مڑ کر سمندر کی جانب چلا گیا۔
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: حضرت ادریس e میں ستاروں کی جنسیت تھی وہ آٹھ سال تک زُحل سے ہم رفتار رہے، غائب رہنے کے بعد جب ان کی تشریف آوری ہوئی وہ زمین پر ستاروں کا درس دیتے تھے، اُن کے سامنے ستارے عمدہ صف باندھے درس میں حاضر رہتے تھے۔
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔