روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:۳/۱۶۳۱،ت:محمود إبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[2] إحياء علوم الدين:۲/33،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[3] روح البيان:10/19،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[4] مجمع الزوائد:۵/۳۷۳،رقم:۹۰۴۷،ت:عبد الله محمد درويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[5] مجمع الزوائد:۵/۳۷۵،رقم:۹۰۵۳،ت:عبد الله محمد درويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک حدیث میں آیا ہے: ’’ پہلی امتوں میں ایک بزرگ ریت کے ایک ٹیلہ سے گزرے، گرانی کا زمانہ تھا، وہ اپنے دل میں یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر یہ ریت کا ٹیلہ غلہ کا ڈھیر ہوتا تو میں اس سے بنی اسرائیل کو خوب کھلاتا ، حق تعالی شانہ نے اُس زمانہ کے نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں بزرگ کو خوشخبری سنادو کہ ہم نے تمہارے لئے اتنا ہی اجر وثواب لکھ دیا جتنا کہ یہ ٹیلہ غلہ کاہوتا ، اور تم اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا ولی حور عین میں سے اپنی زوجہ کے ساتھ تخت پربیٹھا ہوگا جو کہ سرخ یاقوت کا ہوگا، اور اس پر نور کے قبے ہوں گے، سو اس وقت وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں تمہاری چال کا مشتاق ہوں، فرمایا کہ وہ سرخ یاقوت کے تخت سے اتر کر سبز مرجان کے باغ کی طرف چلے گی ، اور اللہ عزوجل اس کےلئے اس باغیچے میں دو نور کے راستے پیدا فرمادیں گے، ان میں سے ایک راستہ زعفران کا ہوگا، اور دوسرا کافور کا ہوگا، وہ زعفران کے راستے پر چلے گی اور کا فور کے راستے سے لوٹے گی، اور وہ ناز ونخرے کے ستر ہزار طریقوں سے چلے گی‘‘۔
روایت: ’’آپ s کا ارشاد ہے: قیامت کی علامات میں سے ہےکہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دیں گے ، اور پھر رجوع کئے بغیر ان کے ساتھ اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے‘‘۔
روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔