روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن دو شخص اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم کس وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ ہمیں جنت کی اجازت دیں؟ اللہ تعالی فرمائیں گے: میرے بندو داخل ہوجاؤ، میں نے قسم کھائی ہے کہ احمد ومحمد نام کا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
روایت پر ائمہ کاکلام
حوالہ جات
[1] فضائل التسمية بأحمد ومحمد:۱/۱۶،رقم:1،ت:مجدي فتحي السيد،دار الصحابة للتراث ـ بطنطا، الطبعة الأولى1411هـ .
[2] أحاديث الشيوخ الثقات:3/10۴۱،رقم:45۴،ت:الشريف حاتم بن عارف العوني،دار عالم الفوائد ـ مكة المكرمة .
[3] موجبات الجنة:۱/۲۰۸،رقم:۳۰۸،مخطوط من الشاملة .
[4] الموضوعات:۱/۱۵۷،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولی۱۳۸۶هـ .
[5] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:8/۴۴۷،رقم:۳۴۴۶،ت:حسن علي ورسمه،جمعية دار البر ـ دبئي، الطبعة الأولى1439هـ .
واضح رہے کہ ’’الغرائب الملتقطہ‘‘میں حضرت انس بن مالکr سے روایت کرنے والا راوی ’’حمید الطویل‘‘کے بجائے ’’عبد العزیز‘‘ مذکور ہے، عبارت ملاحظہ ہو: ’’قال: حدثنا حمد بن نصر الحافظ إملاء، أخبرنا أبو سعيد ابن أبي منصور القاضي، حدثنا الحسن بن الحسين، حدثنا أحمد بن عبد الله النهرواني، حدثنا صدقة بن موسى، حدثنا أبي، حدثنا عبد العزيز، عن أنس بن مالك رفعه: يوقف عبدان بين يدي الله عز وجل يوم القيامة، فيأمر بهما إلى الجنة، فيقولان: يا ربنا! بما استأهلنا منك الجنة، ولم نعمل عملا يجازينا الجنة؟ فيقول الله عز وجل لهما: عبداي ادخلا الجنة، فإني آليت على نفسي أن لا يدخل النار من اسمه أحمد ومحمد‘‘.
شیخ سعید بن بسیونی زغلول کے ’’الفردوس بماثور الخطاب‘‘کے حاشیہ میں بحوالہ ’’زہر الفردوس‘‘ یہی سند نقل کی گئی ہے، دیکھئے: (الفردوس بمأثور الخطاب:5/535،رقم:9006 ،ت:سعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ) .
[6] الموضوعات:۱/۱۵۷،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولی۱۳۸۶هـ .
[7] اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:1/97،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۷هـ .
[8] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۳۴،رقم:۵۲،ت:یاسر بن إبراهیم،دار الرشد ـ الریاض،الطبعة۱۴۱۹هـ .
[9] اللؤلؤ المرصوع:ص:۴۸،رقم:۷۵،ت:فواز أحمد زمرلي،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[10] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:1/91،رقم:266،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .
[11] الموضوعات:۱/۳۴۲،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفيةـ المدينة المنورة،الطبعة الأولی۱۳۸۶هـ .
[12] تاريخ بغداد:۶/۴۱۲،رقم:۲۹۰۲،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[13] تاريخ بغداد:۹/261،رقم:4365،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[14] ميزان الاعتدال:۱/ ۱۶۱،رقم:۶۴۴، ت:على البجاوي،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۳۸۲هـ .
[15] المغني في الضعفاء:۱/۹۷،رقم:۴۷۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[16] تاریخ الإسلام:8/237،رقم:147،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[17] انظر توضيح المشتبة:4/72،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[18] توضيح المشتبة:4/72،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[19] الإصابة:۲/۱۸۵،رقم:۲۱۲۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[20] الكشف الحثيث:ص:۶۰،رقم:۱۱۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[21] تنزيه الشريعة:1/۳۵،رقم:۲۳۴،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے محمد! کھڑے ہوجائیں، بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں، چنانچہ ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا وہ کھڑا ہوجائے گا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اسے پکارا گیا ہے، چنانچہ محمد ﷺ کے اکرام کی وجہ سے انہیں نہیں روکا جائے گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس بچے کا نام برکت کے لئے محمد رکھا تو وہ شخص اور بچہ جنت میں ہوں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنی اہلیہ سے ہمبستر ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ اگر یہ حاملہ ہوگئی تو میں اس بچے کا نام محمد رکھوں گا، تو اللہ اسے لڑکا عطا فرمائیں گے، اور جس گھر میں محمد نام کا شخص ہوگا اللہ اس گھر میں خیر وبرکت فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی عالم کو سہارا دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر قدم کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں، اور اگر کوئی آدمی محبت وعقیدت کی وجہ سے کسی عالم کے ماتھے یا سر پر بوسہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر بال کے بدلہ میں اس کو نیکی عطا فرماتے ہیں‘‘۔
روایت:’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اور سورۂ یا سین کی تلاوت کی، اس کی مغفرت کردی جاتی ہے‘‘، ایک روایت میں اس کے یہ الفاظ مذکور ہیں: ’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور اسے فرمانبردار لکھ دیا جاتا ہے‘‘، اور ایک مقام پر ہے: ’’اسے برئ الذمہ لکھ دیا جاتا ہے‘‘۔