روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
تفصیل
حدیث: [باری تعالیٰ فرماتے ہیں ] ”میں ایک خزانہ تھا جس کو کوئی نہیں پہچانتا تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا اور ان کواپنی پہچان دی، پھر انہوں نے مجھ کو پہچانا“۔ [حافظ سخاوی l فرماتے ہیں] ابن تیمیہ l کہتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی سند معلوم ہوئی، نہ صحیح نہ ضعیف، اور زَرْکشی lاور ہمارے شیخ l (بھی اس حکم میں ) ابن تیمیہ l کے تابع ہوئے ۔
ف: [حضرت تھانوی l فرماتے ہیں] لیکن یہ مضمون صحیح ہے اور حدیث {إن الله جمیل یحب الجمال} [یعنی اللہ خوب رُو ہے،خوبصورتی کو پسند کرتا ہے] سے مستنبط ہے، جیسا کہ احقر نے اپنی بعض تالیفات میں بیان کیا ہے، چنانچہ ”النکت الدقیقہ“ کے مضمون ہشد ہم میں بھی مذکور ہے[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۹۹،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف : حدیث کنت کنز ا مخفیا کی تحقیق، ص: ۱۷۸، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان۔
[2] اشرف الجواب : باب اول، آپﷺ کے نکاح کرنے کی حکمتیں، ص : ۴۷، دارالاشاعت،کراچی ۔
حافظ ابن تیمیہ ؒ،امام زرکشی ؒ وغیرہ کے
اقوال پر، ملا علی قاری ؒ نے”المصنوع“(رقم:۲۳۲) میں، علامہ
عجلونی ؒ
نے
”كشف الخفاء“ (رقم: ۲۰۱۶) میں، علامہ ابن عرّاق ؒنے ”تنزيہ
الشريعہ“ (1/۱۴۸) میں،علامہ محمد بن طاہر
پٹنی ؒ نے”تذكرة الموضوعات“(ص:۱۱) میں، علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے
”الجد الحثيث“ (رقم:۳۶۲) میں
اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔
روایت : ”دنیا آخرت کی کھیتی کی جگہ ہے “، اس روایت کی آگاہی نہیں،
لیکن اس کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔
روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔