روایت: ایک حدیث میں آیا ہے:’’ حج اور عمرہ کا پورا پورا ادا کرنا یہ ہے کہ اپنے گھر سے حج کا یا عمرہ کا احرام باندھ کر چلے‘‘۔
باب: حج، عمرہ اور حرمین
حج و عمرہ، کعبہ، زمزم اور مدینہ منورہ کے فضائل۔
گروپ: عبادات
15 روایات
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج إلى مكة، ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبروتان‘‘. جو شخص حج کےلئے مکہ جائے پھر میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے، اس کےلئے دو مقبول حج لکھے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’والله! إن تربتها ميمونة‘‘. اللہ کی قسم! بے شک اس کی مٹی میمونہ ہے‘‘، بعض مقام پر یہ الفاظ ہیں: ’’والله! إن تربتها مؤمنة‘‘. اللہ کی قسم! اس کی مٹی مؤمنہ ہے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’حجوا الفرائض، فإنها أعظم أجرا من عشرين غزوة في سبيل الله، وإن الصلاة علي تعدل ذا كله‘‘. فرض حج ادا کرو، وہ بیس مرتبہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے سے بڑھا ہوا ہے، اور بلاشبہ مجھ پر درود پڑھنا اس تمام کے برابر ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’غبار المدينة شفاء من الجذام‘‘. مدینہ کا غبار کوڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی حاجیوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب مزدلفہ کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی تاجروں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب منی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی اونٹ والوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب جمرہ عقبہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی سوال کرنے والے کی مغفرت فرماتے ہیں، جو کوئی بھی اس جگہ حاضر ہوا ہو، اس کی ضرور مغفرت کردی جاتی ہے‘‘۔
روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔
روایت: حدیث پاک میں آیا ہے: ’’جو بندہ ملتزم سے لپٹ گیا، وہ ایسا ہے جیسے اس نے اللہ تعالی کے ساتھ معانقہ کیا‘‘۔
روایت: زمزم پیتے وقت یہ دعاء پڑھنا:’’ اللّهم إني أسألك علما نافعا، ورزقا واسعا، وشفاء من كل داء‘‘.