روایت: ایک حدیث میں آیا ہے:’’ حج اور عمرہ کا پورا پورا ادا کرنا یہ ہے کہ اپنے گھر سے حج کا یا عمرہ کا احرام باندھ کر چلے‘‘۔
حکم: حافظ ابن عدی l نے زیر بحث مرفوع روایت کو جابر بن نوح کی سب سے بڑھ کر ’’منکر‘‘ حدیث قرار دیا ہے، حافظ ابن قیسرانی l نے حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے، امام بیہقی l نے زیر بحث روایت کے مرفوع طریق کو ’’قابل نظر‘‘ قرار دے کر اسے حضرت علی r کے قول کے طور پر ذکر کیا ہے، اسی طرح حافظ ابن صلاح l نے بھی مرفوع طریق کو ضعیف قرار دے کر اسے حضرت عمر r اور حضرت علی r کے قول کے طور پر ذکر کیا ہے، حافظ ابن ملقن l نے امام بیہقی l اور حافظ ابن صلاح l کے اقوال پر اعتماد کیا ہے، حافظ ذہبی lنے مرفوع طریق کی اسناد کو ’’واہی‘‘ قرار دیا ہے، الحاصل زیرِ بحث روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، اسے حضرت علی r کے انتساب سے بیان کرنا چاہئے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الكامل في ضعفاء الرجال:2/338،رقم:328،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[2] الجامع لشعب الإيمان:5/472،رقم:3736،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[3] السنن الكبرى:5/45،رقم:8929،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[4] التدوين في أخبار قزوين:4/83،ت: عزيز الله العطاري،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۸هـ .
[5] الكامل في ضعفاء الرجال:2/338،رقم:328،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[6] ذخيرةالحفاظ:2/977،رقم:2032،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[7] الجامع لشعب الإيمان:5/47۳،رقم:3736،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[8] السنن الصغير:2/145،رقم:1499،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دارالوفاء،الطبعةالأولى1410هـ .
[9] السنن الكبرى:5/45،رقم:8928،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[10] شرح مشكل الوسيط:3/322،ت:محمد بلال بن محمد أمين،داركنوز إشبيليا ـ الرياض،الطبعة الأولى 1432هـ .
[11] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:1771،رقم:7637،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ .
[12] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:6/78،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[13] ’’ابو بشیر‘‘ کے اعراب کے بارے میں حافظ مغلطای l لکھتے ہیں: ’’كذا رأيته بخط المهندس مضبوطا عن المزي بفتح الباء من بشير، وكذا ذكره ابن الجوزي في كتاب الضعفاء، وفي كتاب أبي أحمد الحاكم: بشيير[كذا في الأصل، والصحيح:بُشَيْر]، يعني: بضم الباء، وقال: ليس بالقوي عندهم‘‘. (إكمال تهذيب الكمال: 3/137، رقم:918،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ) .
[14] سؤالات ابن الجنيد:ص:298،رقم:104،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[15] سؤالات ابن الجنيد:ص:۴۲۳،رقم:۶۲۳،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[16] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:1/۳۵۶،رقم:۲۳۹۸،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[17] التاريخ الكبير:۲/۱۹۲،رقم:۲۲۲۰،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[18] سؤالات البرذعي:ص:159،رقم:226،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱430هـ .
[19] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/287،رقم:1873،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[20] الجرح والتعديل:2/500،رقم:2056،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى۱۳۷۲هـ .
[21] الضعفاء والمتروكين:ص:163،رقم:99،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[22] انظرإكمال تهذيب الكمال: 3/137،رقم:918،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم، الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[23] المجروحين:1/210،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[24] الأسامي والكنى:۲/۶۹،رقم:۱۰۷۵،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[25] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:1/288،رقم:737،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[26] المقتنى في سرد الكنى:1/113،رقم:707،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[27] تقريب التهذيب:ص:136،رقم:876،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[28] كتاب الآثار:ص:101،رقم:484،ت:أبو الوفاء،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[29] الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار:3/125،رقم:12689،ت:كمال يوسف الحوف،دار التاج ـ بيروت، الطبعة الأولى1409هـ .
[30]الأم:8/421،رقم:3352،ت:رفعت فوزي عبد المطلب،دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع،الطبعة الأولى 1422هـ .
[31] مسند ابن الجعد:ص:26،رقم:63،ت:عامر أحمد حيدر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1417هـ .
[32] جامع البيان عن تأويل آي القرآن:3/329،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[33] شرح معاني الآثار:2/160،ت:محمد زهري النجار،الطبعة الأولى ۱399هـ .
[34] تفسير ابن أبي حاتم:۱/۳۳۳،رقم:۱۷۵۵،ت:أسعد محمد الطيب،مكتبة نزار مصطفى الباز ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۷هـ .
حافظ ابن ابی حاتم l تخریج روایت کے بعد فرماتے ہیں: ’’وروي عن ابن عباس، وطاوس، وسعيد بن جبير نحو ذلك‘‘.
[35] السنن الكبرى:4/558،رقم:8706،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[36] المستدرك على الصحيحين:2/303،رقم:3090،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1422هـ .
[37] الأحاديث المختارة:2/221،رقم:604،ت:عبد الملك بن عبد الله بن دهيش،دار خضر ـ بيروت،الطبعة الثالثة1420هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے، وہ لوگ بخار میں مبتلا تھے، حضور ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے: حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تو صُعَیب موجود ہے، (یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادی بطحان میں ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صُعَیب کو کیا کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لعاب ڈالو: ’’بسم الله، تراب أرضنا بريق بعضنا شفاء لمريضنا بإذن ربنا‘‘، ان حضرات نے اس کا استعمال کیا، اللہ کے فضل سے بخار جاتا رہا‘‘۔
روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔