روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔
تفصیل
روایت پر کلام
حوالہ جات
[1] كتاب رياض النفوس في طبقات علماء القيروان وإفريقية وزهادهم ونساكهم وسير من أخبارهم وفضائلهم وأوصافهم:۲/۲۵۴،ت:بشير البكوش،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية1414هـ .
[2] الشفاء بتعريف حقوق المصطفى:۲/93،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1399هـ .
[3] نهاية الأرب في فنون الأدب:1/298،دار الكتب المصرية ـ القاهرة،الطبعة1342هـ .
[4] النجم الوهاج في شرح المنهاج:3/394،دار المنهاج ـ جدة،الطبعة الأولى1425هـ .
[5] توضيح المشتبة:8/285،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[6] نزهة المجالس ومنتخب النفائس:1/223،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[7] التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة:1/51،ت:أسعد طرابزوني الحسيني،مطبعة دار نشر الثقافة ـ القاهرة،الطبعة1399هـ .
[8] إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وسلم من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع:14/۶23،ت: محمد عبد الحميد النميسي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[9] مغني المحتاج إلى معرفة معاني الفاظ المنهاج:۲/206،ت:الشيخ علي محمد المعوض،الشيخ عادل أحمد الموجود، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1421هـ .
[10] إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المبين:2/284،دار إحياء الكتب العربية .
[11] نسيم الرياض في شرح شفاء القاضي عياض:5/132،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک بستی والوں کو عذاب دیا گیا جس میں دس ہزار لوگ تھے، جن کا عمل انبیاءE کا عمل تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالی کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے تھے، اور نیکی کا حکم نہیں کرتےتھے اور نہ ہی برائی سے روکتے تھے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں آیا ہے: ’’ پہلی امتوں میں ایک بزرگ ریت کے ایک ٹیلہ سے گزرے، گرانی کا زمانہ تھا، وہ اپنے دل میں یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر یہ ریت کا ٹیلہ غلہ کا ڈھیر ہوتا تو میں اس سے بنی اسرائیل کو خوب کھلاتا ، حق تعالی شانہ نے اُس زمانہ کے نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں بزرگ کو خوشخبری سنادو کہ ہم نے تمہارے لئے اتنا ہی اجر وثواب لکھ دیا جتنا کہ یہ ٹیلہ غلہ کاہوتا ، اور تم اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے‘‘۔
روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔