التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

محمد بن بابْشَاذ ابو عبید اللہ البصری

المتوفی ۳۰۶ ھایک روایت میں تذکرہ

محمد بن بابْشَاذ ابو عبید اللہ البصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

مذکورہ روایت میں موجود، محمد بن بابْشَاذ ابو عبید اللہ البصری (المتوفی ۳۰۶ ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام  

 حافظ خطیب l لکھتےہیں: ’’وفی حديثه غرائب ومناکیر‘‘[34].  ان کی حدیثوں میں غرائب اور منکر روایتیں ہیں۔

اس کے بعد حافظ خطیب l نے ابن بابْشَاذ کی منکر روایتوں میں زیرِ بحث روایت بھی نقل کی ہے۔

حافظ ابن کثیر l نے بھی،قطع نظر خاص اس روایت کے،’’البداية والنهاية‘‘[35] میں ابن بابْشَاذ کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ان کی احادیث میں غرائب ومناکیر ہیں۔

حافظ ذہبی l ’’المغنی فی الضعفاء‘‘[36] میں لکھتےہیں:

’’وثّقه الدارقطنی، ولکنّه روى حدیثا موضوعا راج عليه، ولم يهتد إليه فی فضل أبی بکر‘‘.موصوف کی دار قطنی l نے توثیق کی ہے،لیکن محمد بن بابشاذ نے ایک من گھڑت روایت(زیرِ بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت) حضرت ابو بکر r کی فضیلت میں نقل کی ہے،یہ روایت ان کی طرف لوٹتی ہے،جس کی جانب انھیں رہنمائی نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

[34] تاریخ بغداد: محمد بن بابشاذ، ۲/ ۴۶۴، رقم:۴۴۹، ت: بشار عوّاد، دار الإسلامية - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۲ هـ .  

[35]  البداية والنهاية: ۱۱/ ۱۴۷،ت:علي شيري، دار إحياء التراث العربي - بيروت،الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ .

[36] المغنی فی الضعفاء: محمد بن بابشاذ، ۲/ ۱۶۸، رقم: ۵۳۲۸، ت: دکتور نور الدین عتر، إدارة إحیاء التراث الإسلامی - قطر .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ