اس روایت کی تحقیق سے
روا یت: ’’حضرت ابو بکر r کا ٹاٹ کا لباس پہننا اور باری تعالیٰ کی جانب سے اُن پر سلام‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)مذکورہ روایت میں موجود، محمد بن بابْشَاذ ابو عبید اللہ البصری (المتوفی ۳۰۶ ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام
حافظ خطیب l لکھتےہیں: ’’وفی حديثه غرائب ومناکیر‘‘[34]. ان کی حدیثوں میں غرائب اور منکر روایتیں ہیں۔
اس کے بعد حافظ خطیب l نے ابن بابْشَاذ کی منکر روایتوں میں زیرِ بحث روایت بھی نقل کی ہے۔
حافظ ابن کثیر l نے بھی،قطع نظر خاص اس روایت کے،’’البداية والنهاية‘‘[35] میں ابن بابْشَاذ کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ان کی احادیث میں غرائب ومناکیر ہیں۔
حافظ ذہبی l ’’المغنی فی الضعفاء‘‘[36] میں لکھتےہیں:
’’وثّقه الدارقطنی، ولکنّه روى حدیثا موضوعا راج عليه، ولم يهتد إليه فی فضل أبی بکر‘‘.موصوف کی دار قطنی l نے توثیق کی ہے،لیکن محمد بن بابشاذ نے ایک من گھڑت روایت(زیرِ بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت) حضرت ابو بکر r کی فضیلت میں نقل کی ہے،یہ روایت ان کی طرف لوٹتی ہے،جس کی جانب انھیں رہنمائی نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
[34] تاریخ بغداد: محمد بن بابشاذ، ۲/ ۴۶۴، رقم:۴۴۹، ت: بشار عوّاد، دار الإسلامية - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۲ هـ .
[35] البداية والنهاية: ۱۱/ ۱۴۷،ت:علي شيري، دار إحياء التراث العربي - بيروت،الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ .
[36] المغنی فی الضعفاء: محمد بن بابشاذ، ۲/ ۱۶۸، رقم: ۵۳۲۸، ت: دکتور نور الدین عتر، إدارة إحیاء التراث الإسلامی - قطر .