اس روایت کی تحقیق سے
روا یت: ’’حضرت ابو بکر r کا ٹاٹ کا لباس پہننا اور باری تعالیٰ کی جانب سے اُن پر سلام‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)سند میں موجود،سہل بن صُقَیر ابو الحسن الخلاطی کے بارے میں اقوال ائمہ
حافظ ابن عد ی l ’’الکامل فی الضعفاء‘‘[27] میں لکھتے ہیں:
’’.... وأرجو ا أن لا یتعمّد الکذب، وإنّما یغلط، أو یشتبه عليه الشيء فیرويه‘‘..... مجھے امید ہے کہ سہل جان بوجھ کر جھوٹی روایت نقل نہیں کرتا، بات صرف یہ ہے کہ ان سے غلطی ہوجاتی ہے، یا مشتبہ چیزبھی نقل کردیتے ہیں‘‘۔
حافظ مزی l ’’تهذیب الکمال‘‘[28] میں حافظ ابن عدی l کاقول نقل کرکے لکھتے ہیں : ’’وقال أبوبکر الخطیب: یضع الحدیث، وقال أبونصْر بن ماکولا: فيه ضعف‘‘ . ابوبکر خطيب l فرماتے ہیں کہ سہل حدیث گھڑتا تھا، اور ابن ماکولا l فرماتے ہیں کہ سہل میں ضعف ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الکاشف‘‘[29] میں لکھتےہیں: سہل ’’متہم‘‘ (شدید جرح)ہے۔
حافظ ابن حجر l ’’التقریب‘‘[30] میں لکھتے ہیں: ’’منکر الحدیث، اتهمه الخطیب بالوضع‘‘. سہل منکر الحدیث ہے، سہل کو خطیب نے ’’متہم بالوضع‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[27] الکامل فی الضعفاء: سهل بن صقیر، ۳/ ۴۴۱، رقم ۸۵۸، دار الفکر – بیروت، الطبعة الثانية: ۱۴۰۵ هـ
[28] تهذیب الکمال: سهل بن صقیر، ۱۲/ ۱۹۴، رقم: ۲۶۱۶، ت: بشار عواد، مؤسسة الرسالة - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ .
[29] الکاشف: ۱/ ۴۶۹، رقم: ۲۱۶۳، ت: محمد عوامة وأحمد الخطیب، دار القبلة للثقافة الإسلامية - جدة، الطبعة الأولى: ۱۴۱۳ هـ .
[30] التقریب: ۲۵۸، رقم: ۲۶۶۲، ت: محمد عوامة، دار الرشید - حلب، الطبعة الثالثة: ۱۴۱۱ هـ .