التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

سہل بن صُقَیر ابو الحسن الخلاطی

ایک روایت میں تذکرہ

سہل بن صُقَیر ابو الحسن الخلاطی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود،سہل بن صُقَیر ابو الحسن الخلاطی کے بارے میں اقوال ائمہ

حافظ ابن عد ی l ’’الکامل فی الضعفاء‘‘[27] میں لکھتے ہیں:

’’.... وأرجو ا أن لا یتعمّد الکذب، وإنّما یغلط، أو یشتبه عليه الشيء فیرويه‘‘..... مجھے امید ہے کہ سہل جان بوجھ کر جھوٹی روایت نقل نہیں کرتا، بات صرف یہ ہے کہ ان سے غلطی ہوجاتی ہے، یا مشتبہ چیزبھی نقل کردیتے ہیں‘‘۔

حافظ مزی l ’’تهذیب الکمال‘‘[28] میں حافظ ابن عدی l  کاقول نقل کرکے لکھتے ہیں : ’’وقال أبوبکر الخطیب: یضع الحدیث، وقال أبونصْر بن ماکولا: فيه ضعف‘‘ . ابوبکر خطيب l فرماتے ہیں کہ سہل حدیث گھڑتا تھا، اور ابن ماکولا l فرماتے ہیں کہ سہل میں ضعف ہے۔

حافظ ذہبی l ’’الکاشف‘‘[29] میں لکھتےہیں: سہل ’’متہم‘‘ (شدید جرح)ہے۔

حافظ ابن حجر l ’’التقریب‘‘[30] میں لکھتے ہیں: ’’منکر الحدیث، اتهمه الخطیب بالوضع‘‘. سہل منکر الحدیث ہے، سہل کو خطیب نے ’’متہم بالوضع‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[27]  الکامل فی الضعفاء: سهل بن صقیر، ۳/ ۴۴۱، رقم ۸۵۸، دار الفکر – بیروت، الطبعة الثانية: ۱۴۰۵ هـ

[28]  تهذیب الکمال: سهل بن صقیر، ۱۲/ ۱۹۴، رقم: ۲۶۱۶، ت: بشار عواد، مؤسسة الرسالة - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ .

[29] الکاشف: ۱/ ۴۶۹، رقم: ۲۱۶۳، ت: محمد عوامة وأحمد الخطیب، دار القبلة للثقافة الإسلامية - جدة، الطبعة الأولى: ۱۴۱۳ هـ .

[30]  التقریب: ۲۵۸، رقم: ۲۶۶۲، ت: محمد عوامة، دار الرشید - حلب، الطبعة الثالثة: ۱۴۱۱ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ