اس روایت کی تحقیق سے
روا یت: ’’حضرت ابو بکر r کا ٹاٹ کا لباس پہننا اور باری تعالیٰ کی جانب سے اُن پر سلام‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)علاء بن عمرو الحنفی (۲۲۷ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن حبان l کا یہ قول پہلے گذرچکاہے:
’’علاء بن عمرو شیخ‘‘ ہیں، وہ ابو اسحاق فزاری سے عجائب نقل کرتے ہیں، بہرصورت ان کے ذریعے احتجاج جائز نہیں ہے ‘‘۔
واضح رہے کہ حافظ ابن حبان l نے مذکورہ صراحت کے باوجود موصوف کو ’’ثقات‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔
ایسے ہی حافظ ابن حزم ظاہری l کا یہ قول بھی آچکا ہے: ’’... لأنّه من طریق العلاء بن عمرو الحنفی ـ وهوهالک مُطَرَّحٌ ـ ....‘‘. ’’...کیونکہ یہ حدیث علاء بن عمرو حنفی سے مروی ہے، جو ہالک مطرح (شدید جرح)ہے ...‘‘.
حافظ ابوحاتمl لکھتے ہیں: ’’مارأینا إلاخیرا‘‘[20]. ہم نے ان میں خیر ہی دیکھی ہے۔
واضح رہے کہ حافظ ابو حاتم l نے ’’کتاب العلل‘‘ میں حدیث : أحبّوا العرب لثلاث، لأنّی عربی والقرآن عربی وکلام أهل الجنة عربی‘‘. اپنی سند سے تخریج کی ہے، اور اس سند میں علاء بن عمر و الحنفی موجود ہے، تخریج سند کے بعد لکھتے ہیں: ’’هذا حدیث کذب‘‘.[21]یہ جھوٹی حدیث ہے۔
اسى طرح حافظ ذہبیl نے بھی علاء بن عمروالحنفی کا ترجمہ ’’میزان‘‘[22] میں قائم کیا، اور حدیث: ’’أحبوا العرب ....‘‘. نقل کرکے حافظ ابو حاتمl کا مذکورہ قول نقل کیا ہے، جس سے قرین ِقیاس یہی ہے کہ کذب کی نسبت علاء بن عمرو کی طرف ہے، واللہ اعلم۔
حافظ ذہبیl ’’تاریخ الإسلام‘‘[23] میں لکھتے ہیں: ’’شیخ واهی الحدیث ... روى عن أبي إسحاق الفزاري حديثا موضوعا....‘‘. علاء بن عمر و شیخ،واہی الحدیث (شدید جرح) ہے ....علاء نے اسحاق فزاری کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت نقل کی ہے....‘‘۔
حافظ ذہبی l کی ’’من گھڑت‘‘ روایت سے مراد زیرِ بحث روایت ہے،کیونکہ اس روایت میں علاء اسحاق فزاری سے نقل کر رہا ہے،اور حافظ ذہبی l کا بطریق علاء اسے جھوٹ کہنا پہلے گذر چکا ہے۔
اسی طرح ’’میزان الاعتدال‘‘[24] میں بھی حافظ ذہبی l نے موصوف کو ’’متروک‘‘(شدیدجرح) کہا ہے۔
حافظ ابن حجر l ’’لسان المیزان‘‘[25] میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنےکےبعد لکھتے ہیں:
’’... وذکر ابن حبان فی الثقات فقال: عن ابن إدریس، ربما خالف، وقال النسائی: ضعیف، نقله عنه أبو العرب فی تالیفه، ونقل الحاکم فی تاریخ نیسابور عن صالح جَزَرَة أنه سُئل عنه فقال: لا بأس به، وقال أبو حاتم: کتبت عنه، وما رأیت إلا خیرا‘‘.
’’...ابن حبان lنے موصوف کو ثقات میں نقل کیا ہے، پھر کہا ہے کہ وہ ابن ادریس سے احادیث نقل کرتا تھا، بعض اوقات مخالفت بھی کرتاہے۔ابوالعرب l نے اپنی تالیف میں نقل کیا ہے کہ نسائی l نے علاء بن عمرو کو ضعیف کہا ہے، حاکم lنے’’تاریخ ِنیشاپور‘‘ میں نقل کیا ہے کہ صالح جزرہ lسے علاءکے بارے میں پوچھا گیا تو صالحl نے ’’لا بأس بہ‘‘ (تعدیل) کہا،اور ابو حاتم l فر ماتے ہیں، میں نے ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور میں نے ان میں خیر ہی دیکھی ہے‘‘۔
حافظ ابن حبان l اور حافظ ابو حاتم l کے دوسرے اقوال آپ ما قبل میں ملاحظہ فرماچکے ہیں۔
حوالہ جات
[20] الجرح والتعدیل: باب العین، ۶/ ۴۷۱، ت: مصطفى عبد القادر عطاء، دار الکتب العلمية - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۲ هـ .
[21] کتاب العلل: ۶/ ۴۲۶، رقم: ۲۶۴۱، ت:سعد بن عبد الله وخالد بن عبد الرحمن الجُريسي، مكتبة الملك الفهد - الرياض،الطبعة: ۱۴۲۷ هـ .
[22] میزان الاعتدال: العلاء بن عمرو الحنفی، ۳/ ۱۰۳ رقم: ۵۷۳۷، ت: علی محمد البجاوی، دارالمعرفة- بیروت۔
[23] تاریخ الإسلام:الطبقة الثالثة والعشرون، ۶/ ۱۱۱ رقم: ۶۳۶۸، ت: مصطفى عبدالقادر عطاء، دارالکتب العلمية – بیروت، الطبعة الأولى: ۲۰۰۵م.
[24] میزان الاعتدال: العلاء بن عمرو الحنفی، ۳/ ۱۰۳ رقم: ۵۷۳۷، ت: علی محمد البجاوی، دارالمعرفة - بیروت۔
[25] لسان المیزان: ۵/ ۴۶۶، رقم:۵۲۸۰، ت: شیخ عبد الفتاح أبو غدة، دار البشائر الإسلامية - بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .