اس روایت کی تحقیق سے3 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ جل شانہ شبہات کے ہجوم میں گہری نظر کو محبوب رکھتا ہے، اور شہوتوں کے نزول کے وقت عقل کامل کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی عمر بن ابی عمر عبدی بلخی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ جوزقانیl ’’الأباطيل‘‘[47] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعمر بن أبي عمر، وإبراهيم بن عبد الحميد مجهولان‘‘. عمر بن ابی عمر اور ابراہیم بن عبد الحمید دونوں مجہول ہیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’لسان المیزان‘‘[48] میں ابراہیم بن عبد الحمید عجلی کے ترجمہ میں حافظ جوزقانیl کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’عمر معروف، لكنه ضعيف‘‘. عمر معروف ہے، لیکن ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ہی نے ’’فتح الباري‘‘[49] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
علامہ قسطلانی l نے ’’المواهب‘‘[50] میں حافظ ابن حجر عسقلانی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ سیوطی l نے ’’جمع الجوامع‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
علامہ غماری l نے ’’المداوي‘‘[52] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[47] الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير:۲/۴۷،رقم:433،ت:عبد الرحمن عبد الجبار،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1403هـ .
[48] لسان الميزان:۱/۳۰۹،رقم:۱۸۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴23هـ .
[49] فتح الباري:۱۲/۳۵۴،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .
[50] المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:۳/۵۱۸،ت:صالح أحمد الشامي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[51] جمع الجوامع:۶/۷،رقم:۱۵۹۳۶،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة1426هـ .
[52] المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي:۲/۳۰۲ ،رقم:۲۵۷،دار الكتبي ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۹۹۶ء .