التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عمر بن ابی عمر عبدی بلخی

3 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: عمر بن ابی عمر

عمر بن ابی عمر عبدی بلخی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عمر بن ابی عمر عبدی بلخی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ جوزقانیl ’’الأباطيل‘‘[47] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعمر بن أبي عمر، وإبراهيم بن عبد الحميد مجهولان‘‘. عمر بن ابی عمر اور ابراہیم بن عبد الحمید دونوں مجہول ہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’لسان المیزان‘‘[48] میں ابراہیم بن عبد الحمید عجلی کے ترجمہ میں حافظ جوزقانیl کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’عمر معروف، لكنه ضعيف‘‘. عمر معروف ہے، لیکن ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  l ہی نے ’’فتح الباري‘‘[49] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

علامہ قسطلانی l نے ’’المواهب‘‘[50] میں حافظ ابن حجر عسقلانی  l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ سیوطی l نے ’’جمع الجوامع‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ غماری l نے ’’المداوي‘‘[52] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[47] الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير:۲/۴۷،رقم:433،ت:عبد الرحمن عبد الجبار،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1403هـ .

[48] لسان الميزان:۱/۳۰۹،رقم:۱۸۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴23هـ .

[49] فتح الباري:۱۲/۳۵۴،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .

[50] المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:۳/۵۱۸،ت:صالح أحمد الشامي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[51] جمع الجوامع:۶/۷،رقم:۱۵۹۳۶،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة1426هـ .

[52] المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي:۲/۳۰۲ ،رقم:۲۵۷،دار الكتبي ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۹۹۶ء .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی عمر بن ابی عمر عبدی بلخی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ جوزقانیl ’’الأباطيل‘‘[72] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعمر بن أبي عمر، وإبراهيم بن عبد الحميد مجهولان‘‘. عمر بن ابی عمر اور ابراہیم بن عبد الحمید دونوں مجہول ہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’لسان المیزان‘‘[73] میں ابراہیم بن عبد الحمید عجلی کے ترجمہ میں حافظ جوزقانیl کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’عمر معروف، لكنه ضعيف‘‘. عمر معروف ہے، لیکن ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  l ہی نے ’’فتح الباري‘‘[74] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

علامہ قسطلانی l نے ’’المواهب‘‘[75] میں حافظ ابن حجر عسقلانی  l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ سیوطی l نے ’’جمع الجوامع‘‘[76] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ غماری l نے ’’المداوي‘‘[77] میں ایک روایت کے تحت عمر بن ابی عمر کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[72] الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير:۲/۴۷،رقم:433،ت:عبد الرحمن عبد الجبار،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1403هـ .

[73] لسان الميزان:۱/۳۰۹،رقم:۱۸۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴23هـ .

[74] فتح الباري:۱۲/۳۵۴،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .

[75] المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:۳/۵۱۸،ت:صالح أحمد الشامي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[76] جمع الجوامع:۶/۷،رقم:۱۵۹۳۶،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة1426هـ .

[77] المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي:۲/۳۰۲ ،رقم:۲۵۷،دار الكتبي ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۹۹۶ء .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی شیخِ حکیم ترمذی یعنی عمر بن ابی عمر کے بارے میں حافظ ابن
حجر
l کا کلام

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’فتح الباری‘‘[14] میں ایک دوسری حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

’’... وهو من روايته عن شيخه عمر بن أبي عمر وهو واه ... ‘‘ . ’’حکیم ترمذی l کے شیخ عمر بن ابی عمر جو کہ واہی ہیں۔۔۔ ‘‘ ۔

حوالہ جات

[14] فتح الباري:۱۲/ ۳۵۳،دارالمعرفةـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ